سائبر حملوں سے بچنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے مختلف الگارتھمز کا مقابلہ

نقصان دہ مصنوعی ذہانت کے خلاف بہترین تحفظ مصنوعی ذہانت ہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے مختلف الگارتھمز سائبرسیکورٹی کے میدان میں مقابلہ کرنے والے ہیں۔

پانچ ماہ لمبے اس مقابلے کے پیچھے ڈیٹا سائنس کے مقابلے کروانے والی کمپنی کیگل (Kaggle) کا ہاتھ ہے۔ مختلف ریسرچرز کے الگارتھمز کا ایک دوسرے سے مقابلہ کروا کر سائبر حملوں کے خلاف تحفظ کے نت نئے طریقے تلاش کیے جارہے ہیں۔

یونیورسٹی آف وائیومنگ میں مشین لرننگ کا مطالعہ کرنے والے اسسٹنٹ پروفیسر جیف کلیون (Jeff Clune) کہتے ہیں”ڈیپ نیورل نیٹورکس کو دھوکا دے کر ایسے ڈیپ نیورل نیٹورکس بنانا جنھیں دھوکا دینا ناممکن ہے، اس پر مزید ریسرچ کرنا بہت ضروری ہے۔”

یہ مقابلہ تین حصوں پر مشتمل ہوگا۔ پہلے حصے میں مشین لرننگ کے سسٹم کو اس حد تک بوکھلانے کی کوشش کی جائے گی کہ وہ صحیح سے کام کرنا بند کردے۔ دوسرے حصے میں ایک سسٹم کو کسی چیز کو غلط زمرے میں ڈالنے پر مجبور کیا جائے گا۔ تیسرے حصے میں مضبوط دفاعی میکانیزمز تخلیق کیے جائيں گے۔ نتائج اس سال ایک مصنوعی ذہانت کی کانفرنس میں پیش کیے جائيں گے۔

مشین لرننگ، خصوصی طور پر ڈیپ لرننگ، کئی صنعتوں کے لیے کافی اہم ثابت ہورہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں ایک کمپیوٹر کے پروگرام کو متوقع نتائج بتانے کے بعد اسے ڈیٹا فراہم کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک مشین اس نتیجے کو حاصل کرنے کے لیے اپنا الگارتھم خود بناتی ہے۔ ڈیپ لرننگ میں یہ کام ریاضی کی مدد سے سیمولیٹ کردہ نیورونز کے بڑے اور آپس میں جڑے ہوئے جال کے ذریعے ممکن ہے۔

یہ بات کسی سے چھپی نہیں ہے کہ مشین لرننگ سسٹمز کو بہت آسانی سے دھوکا دیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر سپیمرز سپیم کے فلٹر کے الگارتھمز کو سمجھنے کے بعد اس سے بچنے کے طریقے ڈھونڈ نکالتے ہیں۔

تاہم، ریسرچرز نے ثابت کیا ہے کہ الگارتھم کتنا ہی عقل مند کیوں نہ ہوجائے، اسے دھوکا دہی سے بچایا نہیں جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ڈیپ لرننگ کے ایسے الگارتھمز جن کی تصویروں میں چھپی ہوئی چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت انسانوں سے ملتی جلتی ہوں، انھیں نچلی سطح کے پیٹرنز کا فائدہ اٹھانے والی تصویریں دکھا کر بہت آسانی سے دھوکا دیا جاسکتا ہے۔

مشین لرننگ کی تحقیق اور استعمال کے ذمہ دار گوگل برین (Google Brain) کے ریسرچر این گڈفیلو (Ian Goodfellow) کہتے ہیں، “مخالف مشین لرننگ کی تحقیق عام مشین لرننگ کی تحقیق سے زيادہ مشکل ہے۔ اس بات کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے کہ کیا آپ حملہ کرنے میں کامیاب رہے، یا دفاع کرنے میں ناکام۔”

جیسے جیسے مشین لرننگ کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا، حملوں کے زیادہ نقصان دہ ثابت ہونے کے خوف میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔ مثال کے طور پر ہیکرز کے لیے حفاظتی اقدام کو دھوکا دے کر میل ویئر انسٹال کرنا زيادہ آسان ہوجائے گا۔

گڈفیلو کہتے ہیں، “کمپیوٹر کی سیکورٹی مشین لرننگ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ حملہ آور افراد مشین لرننگ کے ذریعے آٹومیٹک حملے کریں گے، اور ہم ان سے دفاع کے لیے مشین لرننگ استعمال کریں گے۔”

جرائم پیشہ افراد آواز اور چہرے کی پہچان کے سسٹمز کو بھی دھوکا دے سکتے ہیں، اور خودکار گاڑیوں کو دھوکا دینے کے لیے جعلی پوسٹرز لگا کر حادثات کی وجہ بن سکتے ہیں۔

کیگل الگارتھم بنانے اور ڈيٹا سائنس دانوں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہورہی ہے۔ مارچ میں گوگل نے یہ کمپنی خرید لی تھی، اور اب یہ گوگل کلاؤڈ پلاٹ فارم کا حصہ بن چکی ہے۔ اس سے پہلے گڈفیلو اور گوگل برین کے ایک اور ریسرچر، الیکسے کوراکن (Alexey Kurakin)، نے چیلنج کے لیے یہ آئيڈیا پیش کیا تھا۔

کیگل کے شریک بانی اور سی ٹی او بینجمن ہیمنر (Benjamin Hamner) امید کرتے ہیں کہ اس مقابلے سے مشین لرننگ کے مسائل کے متعلق آگاہی میں اضافہ ہوگا۔ وہ کہتے ہیں، “جیسے جیسے مشین لرننگ کا استعمال بڑھے گا، دشمنانہ لرننگ کے مسائل کی سمجھ بوجھ کی اہمیت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔”

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کھلے عام مقابلے کے فوائد نئے قسم کے حملوں کی مشہوری کے خطرات سے کہیں زيادہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں”ہم سمجھتے ہیں کہ اس تحقیق کی کھلے عام تخلیق اور تقسیم سب سے بہترین طریقہ ہے۔”

کلیون دیکھنا چاہ رہے ہیں کہ اس مقابلے میں وہ الگارتھمز کس حد تک کامیاب ہوں گے جن کو حملے سے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آئندہ چند سالوں تک نیٹورکس کو باآسانی دھوکا دیا جاسکے گا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں