بینائی سے محروم افراد کے لیے بائیونک آنکھوں کے برین امپلانٹس کی ٹیسٹنگ جاری

اس پراستھیسس سے نابینا افراد کو مارکیٹ میں دستیاب ڈیوائسز کے مقابلے میں زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔

دنیا کی سب سے پہلی کمرشل مصنوعی ریٹینا (retina) بنانے والی کمپنی، جو ایک مخصوص قسم کی نابینائی کے شکار افراد کو دوبارہ دیکھنے میں مدد کررہی ہے، اب مزید افراد کی بینائی لوٹانے والے برین امپلانٹ کے کلینیکل ٹرائلز لانچ کررہی ہے۔

سیکنڈ سائٹ (Second Sight) نامی یہ کمپنی یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ دماغ کی سطح پر لگائے جانے والے الیکٹروڈز سے کس حد تک نابینا افراد کی بینائی لوٹائی جاسکتی ہے۔ سائنسدان کئی دہائیوں سے بینائی سے محروم افراد کی بینائی لوٹانے کے لیے برین امپلانٹس پر کام کر رہے ہیں لیکن انھیں زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ اگر سیکنڈ سائٹ کی ڈیوائس کامیاب ثابت ہوجائے تو اس سے دنیا بھر میں لاکھوں نابینا افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اورائن (Orion) نامی یہ ڈیوائس کمپنی کی Argus II بائیونک آنکھ کا ایک نیا ورژن ہے، جس میں ایک عینک میں ایک کیمرہ اور بیرونی پراسیسرنصب کیے گئے ہیں۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (U.S. Food and Drug Administration) نے اس کمپنی کو بیلر کالج آف میڈيسین (Baylor College of Medicine) اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجیلس (University of California, Los Angeles) میں پانچ افراد پر مشتمل تحقیق کی اجازت دے دی ہے۔ سیکنڈ سائٹ کو ٹرائل شروع کرنے سے پہلے مزید ٹیسٹنگ کرنے کی ضرورت ہے، لیکن وہ امید کرتے ہیں کہ وہ اکتوبر تک نئے مریض بھرتی کرنے اور اس سال میں ہی اپنا پہلا امپلانٹ لگانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

سیکنڈ سائٹ کو Argus II کے لیے 2011ء میں یورپ میں اور 2013ء میں ایف ڈی اے سے منظوری حاصل ہوگئی تھی۔ اس کے بعد سے یورپ میں ریٹینا کے لیے مزید دو امپلانٹس کو منظوری حاصل ہوچکی ہے۔ ان میں سے ایک امپلانٹ فرانسیسی کمپنی پکسیم وژن (Pixium Vision) نے جبکہ دوسرا امپلانٹ جرمنی میں واقع کمپنی ریٹینا امپلانٹ (Retina Implant) نے تیار کیا ہے۔

ان ڈیوائسز کو بائیونک آنکھیں بھی کہا جاتا ہے، اور یہ ریٹینائٹس پگمینٹوسا (retinitis pigmentosa) نامی آنکھوں کے جینیائی مرض کے شکار افراد کی کچھ حد تک بینائی لوٹانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اس مرض میں آنکھوں کے پشت پر لگی جھلی میں، جس کا نام ریٹینا ہے، فوٹوریسپٹرز نامی روشنی بھانپنے والے سیلز کی خرابی کی وجہ سے بینائی کمزور ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں 15 لاکھ افراد، جن میں سے ایک لاکھ افراد امریکہ میں رہائش پذیر ہیں، اس مرض کا شکار ہیں۔ عالمی تنظيم صحت کے مطابق دنیا بھر میں 3.9 کروڑ نابینا افراد موجود ہیں۔

سیکنڈ سائٹ کے بورڈ چیئر روبرٹ گرین برگ (Robert Greenberg) کے مطابق ان کی کمپنی صرف 250 Argus II ڈیوائسز فروخت کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ جو ان کی توقعات سے بہت کم ہیں۔ اس ڈیوائس کی قیمت ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالر ہے، اور اس سے صرف کچھ ہی حد تک بینائی بحال ہوتی ہے۔ یہ ڈیوائس اس وقت امریکہ میں صرف 15 مراکز میں ہی دستیاب ہے، اور سیکنڈ سائٹ امید کرتے ہیں کہ امریکہ کے باہر مقابلے کی وجہ سے مزید افراد ان کا برین امپلانٹ استعمال کرنے لگيں گے۔

سیکنڈ سائٹ کا Argus II کی ڈیوائس میں تصویرکشی کے لیے ایک عینک پر ایک کیمرہ نصب ہے۔ یہ کیمرہ ان تصویروں کو ایک چھوٹے سے پراسیسر کو فارورڈ کرتا ہے، جسے مریض نے پہنا ہوا ہوتا ہے، اور یہ پراسیسر انھیں ہدایات میں تبدیل کرکے ریٹینا میں نصب ایک چپ کو فارورڈ کردیتا ہے۔ اس کے بعد ان ہدایات کو الیکٹریکل پلسز کی شکل میں آنکھوں کے قریب نصب الکیٹروڈز کو بھیج دیا جاتا ہے۔

ریٹینائٹس پگمنٹوسا کے شکار افراد کو اس وجہ سے اس ڈیوائس سے فائدہ ہوتا ہے کہ یہ مرض صرف خصوصی فوٹوریسیپٹرز کو متاثر کرتا ہے، جبکہ ریٹینا کے باقی سیلز متاثر نہیں ہوتے ہیں۔ یہ سیلز عصب بصری (optic nerve) کے ذریعے دماغ تک معلومات بھیج کر مریض کے بصارت کے دائرے میں روشنی کے پیٹرنز پیدا کرتے ہیں۔

اورائن کی ٹیکنالوجی 90 فیصد Argus II کی ٹیکنالوجی سے ملتی جلتی ہے۔ اس میں فرق صرف اتنا ہے کہ اورائن میں آنکھوں کا راستہ اختیار نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کے بجائے بصری کارٹیکس میں، یعنی دماغ کے اس حصے میں جس میں بصری معلومات کو پراسیس کیا جاتا ہے، الکیٹروڈز لگائے جاتے ہیں۔ یہاں الیکٹریکل پلسز پہنچا کر دماغ کو روشنی کے پیٹرنز کا احساس دلایا جاسکتا ہے۔

گرین برگ کہتے ہیں”بعض دفعہ عصب بصر کو اس قدر نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے کہ آپ کو آنکھ کے دوسرے حصوں کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اورائن میں آنکھ اور عصب بصر کا بالکل بھی استعمال نہیں ہوتا ہے تاکہ، نابینائی کی وجہ کچھ بھی ہو، اورائن کی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جاسکے گا۔”

سیکنڈ سائٹ کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ریٹینائٹس پگمنٹوسا کے شکار 4 لاکھ افراد کو یہ ڈيوائس لگائی جاسکتی ہے، لیکن وہ افراد جو کسی بیماری کی وجہ سے نابینائی کا شکار ہیں، وہ بھی اسے استعمال کرسکتے ہیں۔

گرین برگ امید کرتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کم از کم اس حد تک بینائی لوٹائی جاسکے گی جس حد تک Argus II کے ذریعے ممکن ہے۔ تاہم بائیونک آنکھیں لگانے کے باوجود بھی بینائی مکمل حد تک لوٹائی نہیں جاسکتی ہے۔ اس وقت یہ ڈیوائسز استعمال کرنے والے افراد اندھیرے اور روشنی کے درمیان امتیاز کرسکتے ہیں اور اپنے سامنے رکھنے اشیاء کا اندازہ لگا سکتے ہیں، لیکن انھیں مختلف رنگ نظر نہیں آئيں گے۔ اس کے علاوہ ہر کسی کو مختلف حد تک فائدہ ہوگا۔

تاہم، اس ڈیوائس کے چند نقصانات بھی ہیں، جن میں سے سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس میں Argus II کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ سرجری کی ضرورت پیش آئے گی۔ سب سے پہلے دماغ کے اس حصے کو سامنے لانا ہوگا جس میں الیکٹروڈز لگائے جائیں گے، جس کے لیے کھوپڑی کے کچھ حصے کو علیحدہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ الیکٹرک برین امپلانٹس میں انفیکشن یا دورے پڑنے کا بھی خطرہ ہے، جس کی وجہ سے اس کا پہلا کلینیکل ٹرائل زیادہ بڑا نہیں ہوگا، اور کمپنی سب سے پہلے ان افراد پر ٹیسٹنگ کرے گی جو مکمل طور پر نابینا ہیں۔

پچھلے سال سیکنڈ سائٹ نے آٹھ سال سے نابینائی کے شکار ایک 30 سالہ شخص کے دماغ میں مرگی کے لیے بنائی گئي نیوروسٹیمولیٹر ڈیوائس نصب کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے نتیجے میں یہ شخص بغیر کسی قابل قدر ذیلی اثرات کے کچھ حد تک دیکھنے میں کامیاب رہا۔

شکاگو میں الینوائے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Illinois Institute of Technology) اور آسٹریلیا میں موناش یونیورسٹی (Monash University) کے ریسرچرز ان سے ملتے جلتے مصنوعی ریٹینا پر کام کررہے ہیں جو دماغ سے متصل ہوں گے۔

نیشنل آئی انسٹی ٹیوٹ (National Eye Institute) کے سنٹرل وژول پراسیسنگ پروگرام (Central Visual Processing Program) کی ڈائریکٹر مارتھا فلینڈرز (Martha Flanders) کہتی ہیں کہ دماغ کے بصری کورٹیکس کے آنکھ سے زیادہ پیچیدہ ہونے کی وجہ سے برین امپلانٹ ریٹینا میں امپلانٹ کے مقابلے میں زیادہ مشکل ثابت ہوگا۔ وہ کہتی ہیں کہ سائنسدان اب تک دماغ کی تصویریں پراسیس کرنے اور بصری کورٹیکس سے معلومات حاصل کرنے کے طریقہ کار کو پوری طرح نہیں سمجھ نہیں پائے ہیں۔

وہ کہتی ہے کہ اگر یہ سائنسدان الیکٹروڈز کو درست طور پر سٹیمولیٹ کرنے کے لیے بصری معلومات کو پراسیس اور فلٹر کرنے کا طریقہ سمجھنے میں کامیاب ہوجائیں تو لوگوں کو دکھائی جانے والی امیجز کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

فلینڈرز کے مطابق سیکنڈ سائٹ کا ٹیسٹ ایک بہت اچھی کوشش ہے، لیکن اس سے سو فیصد درست نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

Argus II پر 25 سال سے کام کرنے والے یونیورسٹی آف سدرن کالیفورنیا (University of Southern California) میں آپتھیلمولوجی اور بائیومیڈیکل انجنیئرنگ کے پروفیسر مارک ہمایوں (Mark Humayun) کہتے ہیں کہ سیکنڈ سائٹ کو کیمرے سے حاصل کردہ بصری معلومات کو الیکٹریکل پلسز میں تبدیل کرنے کے لیے نئے سافٹ ویئر اور الگارتھمز کی ضرورت ہوگی۔

ہمایوں کے مطابق ضابطہ کاروں کی منظوری حاصل کرنے کے لیے سیکنڈ سائٹ کو ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے فوائد زیادہ پیچیدہ آلے کی وجہ سے درپیش خطرات سے زیادہ ہیں۔

ایم آئی ٹی اردو ریویو
تحریر: ایملی ملن (Emily Mullin)

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں