دھرم پورہ بھگت نرائین داس تھٹہ والے

20914177_136631986938069_3496829321486053534_n

یہ ہندو مذہب کا مقدس مقام رئیس آف تھٹہ بھگت نرائین داس نے اپنی بیوی وشن دیوی کو دہرم راتھ بنانے کے لیے بوقت سرگباش ہونے کی اجازت دی تھی بھگت نرائن کی بیوی نے دھرم پورہ تیار کیا اور ساری زندگی اسکی خدمت کرنے کی قسم کھائی وقت اور زندگی کہاں کس سے وفا مزید پڑھیں

روہنگیا مسلمان اور کرنے کے کام – مفتی منیب الرحمٰن

87e61b3f1a1c3e0055ee8d0c7d74784f

روہنگیا مسلمان برما، موجودہ نام میانمار، کی ریاست رخائن میں رہتے ہیں ۔ الجزیرہ ٹیلی ویژن کے مطابق ان کی تعداد 11لاکھ ہے، یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ لوگ عرب تاجروں کی آمد کے بعد ان کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے۔ برطانوی استعمار اپنی نوآبادیات کو چھوڑ کر جاتے ہوئے ہر جگہ کوئی نہ مزید پڑھیں

آہ! تڑپتی،سسکتی،غم سے نڈھال امت – صلاح الدین فاروقی

87e61b3f1a1c3e0055ee8d0c7d74784f

سرورِ کائنات ﷺ کی مسکین و لاچار، مظلوم و مقہور ، خزاں کے بوسیدہ پتوں کی مانند مرجھائی ہوئی امت!مجھے معلوم ہے تم سے زیادہ مجبور و معذور کوئی نہیں۔خونِ مسلم سے زیادہ ارزاں اور کوئی شے نہیں۔تم ہی تو ہو جسے بدر و حنین میں ڈرایا اور دھمکایا گیا، تمہارے ضمیر خریدنے کی کوشش مزید پڑھیں

گورنمنٹ ڈگری کالج فتح جنگ کے پہلے پرنسپل پروفیسر سید اسلم کاظمی

download (1)

پروفیسر سید محمد اسلم کاظمی ۳ اگست ۱۹۳۳ کو انڈیا میں  پیدا ہوےٗ۔ ۱۹۴۷ء میں پاکستان ہجرت کی اور عجیب قسمت ہے کہ ریٹایٗرڈ منٹ کے بعد احسن اور محسن کے ساتھ ہجرت کرکے امریکہ اور کینیڈ ا چلے گےٗ۔ جہاں ان کی ساری فیملی سیٹل ہے اور اسی مٹی میں آسودہ خاک ہیں۔ اٹک مزید پڑھیں

مکھڈ شریف جو قبل از مسیح بھی آباد تھا

21078778_1204972189606996_3102665219761315172_n

مکھڈ کے بارے تاریخ میں لکھا ہے کے یہ بستی 920 قبل مسیح آباد تھی 333 قبل مسیح میں شہنشاہ دارا نے اس علاقے کو فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کیا 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے جب راجہ پورس سے جنگ کی تو اس کے لشکر کے کچھ لوگ بھاگ کر مزید پڑھیں

روہنگیا مسلمان کون ہیں اور ان کا مسئلہ کیا ہے

rohingya

میانمار 1937 تک برصغیر کا ہی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ پھر برطانیہ نے 1937 میں اسے برصغیر سے الگ کرکے ایک علیحدہ کالونی کا درجہ دے دیا اور 1948 تک یہ علاقہ بھی برطانوی تسلط کے زیر اثر رہا۔ میانمار کی قریباً 5 کروڑ 60 لاکھ کی آبادی میں 89 فیصد بودھ، 4 فیصد مسلمان مزید پڑھیں