چٹا گانگ کی اماں شکیلہ(فتح جنگ ہجرت کرکے آنے والی خاتون)

چٹا گانگ کی اماں شکیلہ
تحریر : آصف جہانگیر خان
یہ مضمون مظفر نگر، یوپی ہندوستان سے ہجرت کرکے فتح جنگ آکر آباد ہونے والی اماں شکیلہ اور ان کے خاندان سے متعلق ہے۔
ہجرت اور مسلم بنگال کا جب بھی ذکر آتا ہے تو دل خون کے آنسو رونا شروع کردیتا ہے۔1947؁ء میں تقسیم ہندوستان کے وقت منقسم ہندوستان کے مسلمان ہجرت کرکے پاکستان کی طرف منتقل ہورہے تھے۔ آسام، اُڑیسہ، بہار کے مسلمان مشرق پاکستان(بنگلہ دیش) جبکہ یوپی، سی پی، راجھستان اور پنجاب کے مسلمان مغربی پاکستان میں ہجرت کرکے آرہے تھے۔
نامور پاکستانی ادیب مسعود مفتی اپنی کتاب ’لہجے‘ میں ہجرت کے وقت کی کیفیت لکھتے ہیں کہ یہ میرے ذہنی سفر کی داستان ہے۔ اس ذہنی سفر کے لیے میری اپنی سوچ کا تعارف بھی ضروری ہے۔ میرا بچپن جو سیڑھیاں چڑھا۔ اُن میں کلام پاک کی تلاوت تھی۔ مسدس حالی کا وِرد تھا۔ اسلامی امنگوں سے آراستہ اسلامی تاریخ کی جنگوں کے قصے تھے۔ ساتھ ساتھ والد مرحوم کے پڑھائے ہوئے وہ سبق تھے جو آیات ِ قرآنی کے غیر روایتی انداز میں معانی بیان کیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ برعظیم کی سیا ست میں علامہ مشرقی کے کردار کی بازگشت باقی تھی۔ جو بتاتی تھی کہ
ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور

بالاخر تحریک پاکستان کا جوش اور ولولہ تھا۔ جس نے ہمیں بحیثیت مسلمان قومی اور ملی شعور دیا۔ کالج میں سائنس کے منطقی استدلال نے ذہن تراشا۔ تعلیم نے کانٹا بدلا تو انگریزی ادب کے علاقہ میں گھس گیا۔ وہاں ہر سنگ میل نے انسانی رموز کی راہ دکھائی۔ اس بکھری بکھری نیم پُخت تربیت سے مسلمان کیا بنتا ا لبتہ سارے خام نے اک مضبوط احساس کی شکل اختیار کرلی۔
بقول شاعر
چومی گویم مسلما نم بلر زم کہ دانم مشکلات لاالہ اللہ

اس سب کشمکش کے دور میں پھر 1947؁ء کی ہجرت کا دور آگیا۔
یوپی اور دیگر ہندوستان سے تمام مسلمانوں کے لُٹے پٹے قافلے مغربی پنجاب کی طر ف سفر کرر ہے تھے۔ میرے سسرال والوں کا تعلق ضلع مظفر نگر ، یوپی سے آنے والے ملا نصیر الدین سے تھا۔ ملا نصیر الدین کا سسرال دہلی میں رہتا تھا۔ وہ دہلی سے پانی پت آئے تھے۔ جہاں سے ضلع مظفر نگر سے آنے والے قافلے بھی آکر مل گئے تھے۔ پھر اکٹھے اس قافلے نے اپنے وطن کی سرزمین کی طرف ہجرت مکمل کی تھی۔
ضلع مظفر نگر اور دہلی سے آنے والے یہ قافلے پاکستان پہنچنے کے بعد پنجاب کے مختلف علاقوں میں الاٹ ہونے والی زمینوں میں آباد ہوگئے تھے۔ میرے سسرال والے پنڈی آکر آباد ہوگئے تھے۔
ملا نصر الدین فتح جنگ میں آکر آباد ہوگئے۔ اور یہاں انہیں ٹھاکر دا س کا چوبارہ الاٹ ہوا۔ ملا نصیر الدین نے چوبارہ ملنے کے بعد یہاں سبزی کی دوکان ڈال لی۔
بہار سے اماں شکیلہ اور نور جہان مشرقی پاکستان کے علاقہ چٹا گانگ میں آکر آباد ہوئیں۔ پھر بعد ازاں مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کے بعد ا ماں شکیلہ دھکے کھاتیں پاکستانی آگئیں۔
یہاں فتح جنگ آنے کے بعد اماں شکیلہ کی بیٹی ن ج محکمہ صحت میں بطور گائنی وزیٹر بھرتی ہوئیں۔ تیس سال پہلے ان کی ٹرانسفر ایک اور مقامی ہسپتال میں کردی گئی۔
اب واللہ عالم دونوں ماں بیٹی کہاں ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں