حضرو گردواروں مندروں اور دروازو کا شہر‎

تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ 326 قبل از مسیح جب سکندر اعظم نے دریائے سندھ کو عبور کیا تو اس نے اس جگہ کو دیکھا جہاں پہلے گزرے ہوئے لشکروں کے قدموں کی چھاپ تھی تو اس نے اس علاقہ کو چھچھ کا نام دیا چھچھ یونانی زبان کا لفظ ہے جسکا معنی نامعلوم جگہ کے ہیں.
1008 میں سلطان محمو غزنوی اور ہندو راجہ آنند پال کے درمیان جنگ چھچھ کے میدانوں میں لڑی گئی اس جنگ نے یندوستان کی قسمت کا فیصلہ کرنا تھا 1205 میں اس مقام پہ شہاد الدین غوری اور گکھڑوں کے درمیاں جنگ ہوئی تیرویں صدی میں محمود غزنوی اور افغان بادشاہوں کے حملے اس علاقے پہ جاری رہے چودہویں صدی میں مغل آگئے 1519 میں بابر چنیوٹ خوشاب بھیرہ اور دریائے سوان کو عبور کرتے ہوئے یہاں پہنچا اور یہاں قیام کے بعد سیالکوٹ چلا گیا حضرو شہر کی بنیاد سلطان محمود غزنوی کے ایک سالار حضر خان نے رکھی جسکی وجہ سے اسکا نام حضرو پڑ گیا اور یوں یہ علاقہ چھچھ کا اہم بڑا شہر اور تجارتی مرکز بن گیا حضرو شہر کے گرد فصیل تھی اور 9 گیٹ تھے جن میں سے 4 گیٹ ختم ہو گئے ہیں جبکہ پانچ دروازے ابھی باقی ہیں ،جو سرے شام ہی بند کر دئیے جاتے 1880 میں مقامی زمینداروں کے اجتجاج کے بعد دروازے بند کرنا چھوڑ دئیے گئے جو دروازے ابھی باقی ہیں انکے پرانے نام ڈھکی دروازہ، کشمیری دروازہ، بالم چند دروازہ، بابو دیوان دروازہ اور قیوم خان دروازہ شامل ہیں اب ان دروازوں کے نام خلفائے راشدین کے نام پہ رکھ دئیے گئے شہر کے اندر ہندو اور سکھ تاجر کاروبار پہ چھائے ہوئے تھے اور شہر کا تمام کاروبار انکے ہاتھ میں تھا یہاں ہندوں اور سکھوں کی بہت اسی تاریخی عمارات اور مندر اس وقت بھی موجود ہیں جن میں ہندوں کی بالمیک قوم کا ہری مندر ہندو کی شودر قوم کا شیوا مندر شامل ہیں سکھ گردوارے کو مسلمانوں نے گرا دیا ہے اسکے علاوہ ہندوں سیٹھوں کی ماڑیاں بھی ہیں حضرو برطانوی ادوار میں ضلع راولپنڈی کی اہم تحصیل ہوا کرتا تھا 2004 میں عوام کے دیرینہ مطالبے پر اسکی حثیت دوبارہ بحال کر دی گئی حضرو تھانے کا قیام 1905 میں عمل میں آیا اسکے علاوہ حضرو کھوسہ ، زری چپل سرخ نسوار اور سفید تمباکو کی منڈی کی وجہ سے بہت مشہور تھا حضرو کو منی یورپ بھی کہا جاتا ہے یہاں کے ہر گھر کا فرد یورپ میں روزگار کے حصول کے لیے موجود ہے یہ ایک امیر اور پر امن علاقہ ہے ہندکو یہاں کی علاقائی زبان ہے حضرو کا کٹوہ گوشت یہاں کی خاص سوغات ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنمنٹ اس علاقے کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرے اور یہاں کے تمام تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرے

تحریر احسان علی ظف

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں