محمد خان ڈھرنالی

تحریر: ڈاکٹر آصف جہانگیر خان
ساٹھ کی دہاییٗ میں شہرت پانے والے تلہ گنگ کی ایک شخصیت محمد خان کو محمد خان ڈاکو بھی کہا جاتا ہے۔محمد خان اپنے علاقے میں دہشت اور خو ف کی علامت بنا ہوا تھا۔ تلہ گنگ کے گاوٗں ڈھرنال کا رہایشی ہونے کی وجہ سے اسے محمد خان ڈھرنالی بھی کہاجاتا تھا۔ اس کے ڈکیت بننے کی وجہ تسمیہ کوییٗ برادری کا جھگڑ ا تھا جس میں اُ س کے بھاییٗ کو قتل کردیا گیا۔
محمد خان نے بھاییٗ کا بدلہ لینے کے لیے مخالفین کا اک بندہ بھی قتل کرڈالا۔اور فرار ہوگیا۔ محمد خان کے فرار کے دوران اُس کا اک اور بھاییٗ مخالفین نے قتل کرڈالا۔
دوسرے بھاییٗ کے قتل نے محمد خان کے آتش انتقام کو اور بھڑکا دیا۔ او ر پھر اُس نے باقاعدہ اک گروپ بنا ڈالا اور مخالفین کو اک اک کرکے قتل کرنا شروع دیا۔مخالفین کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ گروپ کی مالی سرگرمیوں کو پورا کرنے کے لیے ساتھ ساتھ ڈاکے بھی مارنا شروع کردیے۔
محمد خان کی شخصیت کا رعب دبدبہ تھا کہ پورے ضلع میں پولیس کے ڈی ایس پی سے لیکر اک سپاہی تک اس کی اجازت کے بغیر گاوٗں میں قدم نہیں رکھ سکتا تھا۔
ہمارا بھی بچپن کا زمانہ تھا۔گھر میں روزانہ اخبارات آتے تھے اور ان کو پڑھنا بھی اک معمول تھا۔ ہرروز محمد خان کے بارے میں کوییٗ نہ کوییٗ خبر پڑھنے کو ضرور ملتی تھی۔کہ محمد خان نے آج یہ کیا ، فلاں کیا۔
محمد خان کا گاوٗں تحصیل تلہ گنگ میں سرگودہا روڈ پر تھا۔وہاں اک چھوٹی سی سڑک تھوہامحرم خان کو جاتی ہے۔جس سے تھوڑا آگے ڈھرنال گاوٗں ہے۔ محمد خان اک قتل کے بعد اشتہاری ملزم بن گیا۔اْس وقت نواب آف کالا باغ امیر محمد خان مغربی پاکستان کے گورنرتھے ۔ جوکہ اپنی شخصیت میں اک بہت پروقار اور دبدبہ رکھتے تھے۔ پورے ضلع کی پولیس محمد خان کی تلاش میں جگہ جگہ چھاپے ماررہی تھی۔
نواب آ ف کالا باغ کو جب محمد خان کے بارے میں پتہ چلا تو پورے ضلع کی پولیس اُس کی گرفتاری کے لیے ضلع میں تغینات کردی۔ بالاخر 1967ء میں محمد خان گرفتار ہوگیا۔
سیشن کورٹ نے محمد خان کو قتل کے جُرم میں چار مرتبہ سزاےٗ موت سنادی۔اس نے ہاییٗ کورٹ میں اپیل کردی۔ محمد خان کو عدالت میں پیش ہونے سے مستثنی قرار دے دیا گیا۔
محمد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ اُسے تفتیش کرنے والے ڈی ایس پی پر جرح کرنے کی اجازت دی جاےٗ۔ دودفعہ اُس کی درخواست نامنظور کردی گیٗ۔ بالاخر اک ڈویژن بنچ نے جس میں جسٹس مشتاق حسین بھی شامل تھے ، نے اسے ڈی ایس پی پر جرح کرنے کی اجازت دے دی کہ اک آدمی جسے چار مرتبہ سزاےٗ موت سناییٗ گیٗ ہو اس کی حسرت کو پورا کیا جاےٗ۔جبکہ اس کو مقدمہ کی سماعت کے دوران حاضر بھی نہیں ہونے دیا گیا۔
محمد خان کی تفتیشی افسر پر ہونے والی جرح کو سننے و دیکھنے کے لیے لوگوں کا مجمع عدالت میں جمع ہوگیا۔
محمد خان درمیانے قد کا مضبوط قد کاٹھ کا حامل شخص تھا۔خوبصور ت بھاری بھرکم چہرہ، سفیدی بہ مایٗل گھنی مونچھیں اور ذہین و مسحور کردینے والی آنکھیں۔عدالت میں پیش ہونے کے لیے آیا تو قرآن کی حمایٗل گلے میں ڈالی ہوییٗ تھی۔عدالت میں نہایت ادب و احترام اور خوداعتمادی سے آیا، اور نہایت اطمینان سے تفتیشی ڈی ایس پی پر جرح کرنے لگا۔کہ تفتیشی افسر کو مجھ سے ذاتی انا ہے اور اپنی جرح میں کچھ اور بھی الفاظ بھی کہے جو کہ اب یاداشت میں نہیں آرہے۔ بہر حال محمد خان عدالت سے سلام کے بعد اجازت لینے کے بعد یہ کہتا ہوا نکلا کہ میری تقدیر میں جولکھا ہے وہ ضرور دیکھوں گا لیکن مجھے اطمینان ہے کہ عدالت نے مجھے سنا۔
اس جرح کے بعد ہاییٗ کورٹ نے محمد خان کو دو سزاےٗ موت کی سزا سے بر ی کردیا جبکہ دو میں سزا برقرار رکھی۔ جوکہ بعدازاں عمر قید میں بدل دی گیٗ۔ محمد خان بعدازاں 22 برس کی سزا کاٹنے کے بعد بری ہوا اور بعد میں طبعی موت سے سفرآخرت پر روانہ ہوا۔
بہت سارے اور طلسماتی کرداروں رابن ہڈ، ملنگی اور جبرو کی طرح محمد خان بھی معاشرے میں پھیلے ناانصافی اور ظلم و جبر کی وجہ سے اس راہ پر چل پڑا جس کو اک ڈاکو بنا کر پیش کیا گیا۔حالات نے انہیں ڈاکو بننے پر مجبور کیا تھا۔
نظام ڈاکو نے عید قربان کے موقع پر گاےٗ کی قربانی کا ہندو وٗں کی طرف سے مخالفت کے بعد بغاوت کا علم بلند کیا تھا۔
ملنگی بھی اسی طرح انگریزوں کے راج کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا۔
اس کا ایک مشہور مکالمہ تھا کہ دن نوں فرنگی دا تے رات نوں ملنگی دا

آج تو معاشرے کا ہرفرد ڈاکو بنا پھر رہا ہے اور ہر بغل میں چور ہے۔ فتح جنگ کے بنارسی ڈھگ اور دیگر گلیوں میں دندناتے پھر رہے ہیں انہیں انصاف کے کٹہرے میں کون کھڑا کرے گا؟

10996952_883023621771634_7468594829239345412_n

577342_219418491743429_1171091859192359687_n

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں