کیسا جشن کیسی آزادی

چودہ اگست ۔ ایک تاریخ ساز دن ۔ ابھی سے اس دن کو منانے کی تیاریاں شروع ہیں۔ گھروں اور دوسری عمارتوں پر جھنڈے لہرائے جائیں گے۔ چراغاں کیا جائے گا۔ بہت سی تقریبات کا انعقاد ہو گا۔ تقاریر ہوں گی۔میلے ٹھیلے لگیں گے۔ میوزک گروپ بھی خوب اودھم مچائیں گے۔ یہاں بھی میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے دوستوں نے بڑی محنت سے اسی دن کے حوالے سے پروگرام بنائے ہوتے ہیں۔

لیکن میرا من کیوں نہیں کرتا ایسا سب کرنے کو۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کچھ سال پہلے کی طرح میں بھی ویسا ہی جشن آزادی مناوں جیسا بچپن سے منایا کرتا تھا۔ خاص اس دن کے لئے نیا جوڑا بنتا تھا۔ موم بتیوں کی جگہ چراغ جلانے کا شوق تھا۔ ڈھیر سارے دیے جمع کر رکھے تھے میں نے۔ سب سے بڑا جھنڈا ہمارے گھر پر ہونا چاہیے۔ کیسی خواہش تھی نا۔ اب آج جب بھی سوچتا ہوں کہ چند سال میں سب کچھ کیسے بدل گیا تو دل کو کچھ ہونے لگتا ہے۔ پتا نہیں کوئی اور ایسا محسوس کرتا ہے یا نہیں لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم آزاد ہیں ہی نہیں تو کیسا جشن؟ آج جو فضا ہمارے ملک میں ہے کیا وہ آپ کو آزاد لگتی ہے؟

میں نے پاکستان بنتے نہیں دیکھا بلکہ میرے والدین نے بھی نہیں دیکھا لیکن انہوں نے میرے دل سے پاکستان سے محبت ضرور پیدا کر دی۔ باقی رہی سہی کسر میں نے کتابیں پڑھ پڑھ کر پوری کر لی۔ اور اس بارے میں اتنا پڑھا کہ ابھی مجھے ایسا لگتاہے کہ پاکستان میرے سامنے ہی تو بنا ہے۔ میں آنکھیں بند کر کے اس وقت کے واقعات کو دیکھ سکتا ہوں محسوس کر سکتا ہوں۔ تب مسلمانوں پر کیسا وقت تھا نا۔ انہیں اپنے مزہب پر عمل کرنے کی آزادی نہیں تھی۔ ان کی اپنی کوئی شناخت نہیں تھی۔ کوئی عزت نہیں تھی۔ اذان اور نماز کے وقت ان کو تنگ کرنے کو ڈھول باجے بجائے جاتے تھے۔

پھر یک خواب دیکھا گیا کہ ایک ایسی جگہ ہو جہاں سب آذادی سے اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے زندگی بسر کر سکیں اور اس خواب کی تعبیر۔۔۔ اللہ کی پناہ۔ کس کس قربانی سے حاصل کی گئی سوچ کر روح کانپ جاتی ہے۔ کس کس نے اپنے جان سے پیاروں کو کس کس حال میں دیکھا۔ کرپانوں سے ٹکڑوں کی صورت اور بھالوں میں پروئے ہوئے نازک اور معصوم لڑکیاں۔ باپ اور بھائیوں کے سامنے بے پردا ہوتی بیٹیاں اور بہنیں۔ اپنی بیٹیوں کی آبرو بچانے کے لئے اپنے ہی ہاتھوں ان کے گلوں پر چھری پھیرنے والے، ان کو اپنے ہاتھوں زہر پلانے والے۔ اپنے جوان بیٹوں کی لاشیں ایسے ہی چھوڑ کر آنے والی مائیں۔ اپنے سہاگ کو اجڑتا دیکھنے والی دلہنیں۔ جلی اور کٹی پھٹی لاشوں سے بھری ہوئی ٹرینیں۔ اور وہ مال آج جس کی ہوس میں ہم آج مرے جا رہے ہیں اس کی قربانی۔ بھرے پرے گھر اپنے سامنے جلتے ہوئے دیکھنے والوں کی قربانی۔ کتنی کتنی قربانیاں دی گئیں۔ کیسے لوگ تھے وہ سب۔ کیوں دیں انہوں نے اتنی قربانیاں؟ کیا ملا ان کو؟ آذان کے وقت تو آج بھی ہمارے گھروں میں میوزک چل رہا ہوتا ہے۔ ہم تو آج بھی اسی ثقافت سے مرعوب ہیں جس کو چھوڑ کر آنے کے لئے اتنا کچھ قربان کیا گیا۔ اپنے دین پر عمل اب باعث شرم لگنے لگا ہےاور روشن خیالی اپنانے کے درس ملنے لگے ہیں۔ ہمارا نصاب غیروں کے حکم کے مطابق کانٹ چھانٹ کر دیا جاتا ہے۔ دینی مدارس کو اپنے دشمنوں کے حکم پر بند کیا جاتا ہے۔ اور وہاں قرآن اور احادیث کی تعلیم کو تنقید کا نشانہ بنا کر جدیدیت کا درس دیا جانے لگا ہے۔ اپنے محسنوں کو دشمن کے کہنے پر مجرموں کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے۔ اور ان کے ہم آواز ہو کر ان پر الزامات ثابت کئے جائیں۔

کیا ہم یہ سب دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ آج ہم واقعی ایک آزاد قوم ہیں؟ ہم کس بات کا جشن منانے جا رہے ہیں؟ پاکستان محض زمین کا ٹکڑا تو نا تھا۔ یہ تو ایک نظریے کے تحت وجود میں لایا گیا تھا۔ کہاں ہے وہ نظریہ؟ کہاں ہے وہ مذہبی آزادی؟ کہاں ہے وہ ہماری اپنی ثقافت؟ وہ امان، تحفظ وہ مسلمان اور پاکستانی ہونے کا فخر،کہاں ہے یہ سب؟ کس بات کی خوشی مناوں میں؟ آزادی کی خوشی؟ لیکن آزادی ہے کہاں؟

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں