شبِ ظلمت کی انتہا ہے میرے وطن میں

پاکستان کی اڑسٹھ سالہ زندگی میں کوئی ایسی شب نہیں جس میں پاکستانیوں کے بنیادی حقو ق پر شب خون نہ مارا گیا ہو کوئی دن ایسانہیں کہ جس کے اجالے کو اندھیرے کی قباء نہ پہنائی گئی ہوکبھی فوجی آمریت کی بے راہ روی تو کبھی جمہوریت کی جمہور کشی ، کبھی سیاست کی سیاہ رات پاکستانی قوم کا مقدر بنی رہی توکبھی اِس ساحل کی تو کبھی بیرونی مداخلت بیس کروڑ پاکستانیوں کا منہ چڑاتی رہی گذشتہ اڑسٹھ سال سے علامہ اقبال کے دیکھے ہوئے خواب کی تعبیر کے حصول کیلیے عذاب سہہ رہے ہیں اقبال کا خواب تھا کہ برصغیر پاک وہند میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے ایک ایسا آزاد وطن ہو جس میں اسلام کا بول بالا ہو، ایسی آزاد سر زمین ہوجس میں فرقہ واریت، نسل برادری اور اونچ نیچ نہیں بلکہ صرف اور صرف انسانیت کا پرچار ہو، کسی غریب کو صرف اس لئے نہ دھتکار دیا جائے کہ وہ ہمارے معیار کا نہیں اس کا اسٹیٹس ہم سے کم ہے ہم ایلیٹ کلاس کے ہیں اور یہ پھٹے پرانے کپڑے والے ہیں قانون صرف غریب کے لئے نہ ہو اورنہ ہی قانون امیر کی لونڈی ہو لیکن یہ خواب بس خواب ہی رہا یہ اجنبی خواہشوں کا مندر کسی گونگے کے خوابوں کا تاج محل ہی ثابت ہوا آدھی صدی سے زائد عرصہ گذر جانے کے باوجود آزادی کے نام پر غلاموں کے غلاموں کی غلامی کرنے پر مجبور ہیں جمہورِپاکستان کو جمہوریت کے نام پر بادشاہ گری کا نشانہ بنایا جاتا رہا سینکڑوں ایکڑ اراضی پر قائم محلات کے باسی دو وقت کی روٹی کے لئے ترسنے والوں کو مسائل سے آزاد کروانے کی بانسری بجا کر مدہوش کرکے ان کا ایک ایک بال مقروض کرتے رہے آنے والی کئی نسلیں ان قرضوں کے بوجھ تلے آنکھ کھولیں گیں اور اسی بوجھ کے ساتھ ہی منوں مٹی تلے جاسوئیں گیں لیکن سیاست کی سیاہ رات ہے کہ ختم ہونے کو ہی نہیں آرہی تھر میں لوگ بھوک ننگ اور بیماریوں کے ہاتھوں ریت اوڑھ رہے ہیں جبکہ جمہوریت کے مداری واٹر فلٹر پلانٹ کے کروڑوں روپے ہڑپ کر کے لوگوں کو موت کی وادی میں دھکیل کر بڑے فخر سے صدا بلند کرتے ہیں کہ کل بھی بھٹو زندہ تھا ۔آج بھی بھٹو زندہ ہے سوئس بنکوں اور دبئی میں قومی خزانہ لوٹ کر جائدادیں بنانے والے جب یہ نعرہ مارتے ہیں کہ کل بھی بی بی زندہ تھی۔

آج بھی بی بی زندہ ہے توسندھ کے ایک ایک کونے سے ایک پکار بلند ہوتی ہے کہ تم کتنے بھوکے ماروگے ہر گھر سے بھوکا نکلے گا !کیاپاکستان پر مسلط سیاست کی یہ سیاہ رات کبھی ختم بھی ہو گی؟ یہاں تو ایسے ایسے لوگ ملک کے صدر بنادئیے گئے جو کبھی اپنے ہی سینماء میں ٹکٹیں بلیک میں فروخت کرتے رہے ہم تو ایسی بدنصیب قوم ہیں جنہیں کبھی جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ تو کبھی مہاجر سندھی بھائی بھائی یہ دھوتی نسوار کہاں سے آئی کے نعرے لگا کر اپنے دام میں پھنسایا جاتا رہا اقتدار کے بل بوتے پر غریب لوگوں سے ہزاروں ایکڑ زمین کوڑیوں کے بھاؤ چھین کر اربوں روپے مالیت کے فلیٹ لندن میں بنانے والے ہی ان غریبوں کی غمگساری کا ڈرامہ بھی کرتے نظر آتے ہیں

سب اپنی ذات کے اظہار کا تماشاہے
وگرنہ کون یہاں پانیوں پہ چلتا ہے

ایک یورپی مفکر نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’بے وقوف ‘‘اور’’ مردے‘‘ اپنی رائے تبدیل نہیں کرتے ورنہ زندوں کی دنیا تو تغیر و تبدل سے بھرپور ہوتی ہے لیکن ایک ہم ہیں جو اکثریہ کہتے ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں لیکن ہمارا عمل اس کے با لکل برعکس ہے جس کو راہزن قرار دیتے ہیں اسے ہی اپنا راہبر مان لیتے ہیں رینٹل پاور پلانٹس کا غبن ہو یا درآمد کئے جانے والے پیٹرولیم میں ایک کھرب سے زائد کا قوم کے ساتھ فراڈ ہو نندی پور پاور پلانٹ اور قائداعظم سولر انرجی پاور پلانٹ کے نام پر اربوں روپے کا بیس کروڑ عوام کو لگایا جانے والا ٹیکہ ہو ہم برداشت کرتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان راہزنوں کی ان راہزنیوں کو بھول جاتے ہیں اور ان کی چرب زبانی کا شکار ہو کر انہیں ہی اپنی قسمت کے فیصلے کرنے کا اختیار دے دیتے ہیں کبھی راہبر بدلتا ہے تو کبھی ہمارا راہزن بدلتا ہے بس ہم ہی ہیں جو نہیں بدلتے آج کل پورے پاکستان کی نظریں این اے 122 میں ہونے والے ضمنی انتخاب پر لگی ہوئی ہیں سابق اسپیکر ایاز صادق اور پی ٹی آئی کے علیم خان کے مابین کانٹے دار مقابلہ کی توقع کی جارہی ہے’’ نوٹ لیگ‘‘ جسے ’’ن لیگ‘‘ بھی کہا جاتا ہے کے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا فرمان ہے کہ اس حلقہ سے نوٹ ہاریں گے اور ووٹ جیتیں گے اب بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ’’ نوٹ لیگ‘‘ جب سے اقتدار میں آئی ہے کون سا ایسا پراجیکٹ ہے جس میں اس نے نوٹ نہیں بنائے اتفاق فاونڈری سے لے کر لاہور شہر میں بننے والے پلوں ،میٹرو بس کے منصوبوں، نندی پور پاورپلانٹ سے لے کر ایل این جی گیس کے معاہدوں تک کونسا ایسا منصوبہ ہے جس میں’’ نوٹ لیگ‘‘ نے نوٹ نہیں بنائے ’’نوٹ لیگ‘‘ کا ووٹوں پر سوار ہو کر نوٹوں کے پہاڑ سر کرنے کا یہ سفر ایک طویل عرصہ سے جاری ہے اور جاری ہی رہے گا.

سابق اسپیکر ایاز صادق اور دیگر مسلم لیگی قائدین اپنے مخالفوں پر قبضہ گروپ اور دیگر سنگین الزامات تو لگاتے ہیں لیکن اپنے بارے میں بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی اس حمام میں ننگے ہیں لاہوری جانتے ہیں کہ لاہور میں متنازعہ جائدادیں کون کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر پولیس کے ذریعہ قبضہ حاصل کرتا ہے اور کس نے اس دھندے کے لئے بندوق بردار فورس پال رکھی ہے عوام تو سابق اسپیکر ایاز صادق سے بھی پوچھتے ہیں کہ جناب عالی آپ تو بڑے شریف ایماندار اور پارسا بنے پھرتے ہیں ذرا قوم کو بتائیں کہ نیشنل پولیس فاؤنڈیشن میں ہونے والا چھ ارب کا فراڈ کس نے کیا اور جب نیب نے اس کیس کو کھولنے کی کوشش کی تو کس نے اسے دھمکیاں دیں ریلوے میں 980 ملین روپے کی کرپشن کا کیس کس نے دبایا ہے ایچی سن کالج میں قوائدو ضوابط کی خلاف ورزی نہ کرنے اور آپ کے پوتے کو داخلہ نہ دینے کے جرم میں پرنسپل کی چھٹی کروا دی گئی کیا یہ ایمانداری اور شرافت ہے؟ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی ملازم خواتین کو ایف آئی اے سے الٹا لٹکوانے کی کون دھمکیاں دیتا رہاسابق ایم ڈی اسد خاں کو ناجائز بھرتیاں کرنے سے انکار کرنے پر نوکری سے کس نے نکلوایا ؟ قومی اسمبلی میں تعینات رومانہ کاکڑ کو عدالت کے ذریعہ اپنی نوکری بچانے پر کس نے مجبور کیا جنابِ اسپیکر قوم کو یہ بھی بتادیں کہ ان سیاہ کارناموں کے پیچھے کس پاکدامن اور پارسا کا ہاتھ ہے قوم کو یہ بھی بتادیں کہ مسلم کمرشل بنک ،اتحاد کیمیکل اور دیگر قومی ادارے مٹی کے مول کیوں اپنے پیاروں کی نذر کئے گئے؟ آج کل پی آئی اے اور واپڈا کو بھی پرائیویٹائزیشن کے نام پر کس کی تجوریاں بھرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں؟

دنیا میں زرخیز علاقوں میں لگے ہوئے کول پاور پلانٹ ختم کئے جارہے ہیں؟ تو پھر ساہیوال جیسے زرخیز علاقہ کو کیوں بنجر بنایا جارہا ہے؟ قائداعظم سولر پلانٹ جس زمین پر لگایا جارہا ہے یہ کس کی ملکیت ہے اوراسے کس بھاؤ خریدا گیا ہے؟ عوام کو بھی آگاہ کردیں۔ آپ تو ہرکام شفاف انداز میں کرتے ہیں تھوڑی سی شفافیت ادھر بھی دکھا دیں یا پھر ایل این جی کی قیمت کی طرح اسے بھی اپنی گڈ گورننس کے دامن میں چھپا کررکھنا ہے اور ہاں! قوم آپ سے یہ بھی پوچھتی ہے کہ ہمارا باقاعدہ وزیر خارجہ کیوں نہیں ہے ؟کیا اس شعبہ میں آُ پ کواپنے رشتہ داروں میں اس کا اہل نہیں ملا؟ کیونکہ رشتہ دار آئیں گے توہی ’’نوٹ لیگ‘‘ کا قافلہ بنے گا۔ہماری وزیراعظم پاکستان سے بھی بڑی دردمندانہ اپیل ہے کہ اب وہ جب پاکستان کے دورہ پر تشریف لائیں تو خدارا پیپکو کے معا ملات کو بھی ایک نظر دیکھ لیں ہرماہ اوور بلنگ کرکے اربوں روپیہ لوٹا جارہا اور ہر صارف کی استطاعت سے زائد بل بھیج کر اسے فاقوں کی سزا دی جارہی ہے لوگ بجلی کا بل جمع کرواتے ہیں تو ایک وقت کی روٹی سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ظلم کی انتہاء یہ ہے کہ انہیں قسطوں میں یہ بل ادا کرنے کی سہولت بھی نہیں دی جاتی اور ان کے میٹر اتار کر انہیں بجلی سے محروم کردیا جاتا ہے آپ کے رشتہ دار وزیروں کو غریبوں کے ان مسائل کا ادراک بھلا کیسے ہو وہ تو ’’نوٹ لیگ ‘‘کے پالے ہوئے ہیں انہیں کیا پتہ کہ جب کوئی مفلس اپنے بچوں کا تن ڈھانپ نہیں پاتا ان کو ایک لقمہ بھی کھانے کو نہیں دے پاتا اپنے بچوں کے خوابوں کو اپنے سامنے مرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے دل پر کیا گذرتی ہے۔ان کی اس کیفیت کو لفظوں کا پیرہن پہنانا کسی کے بس کی بات نہیں بس بادشاہ سلامت ! آپ سے اتنا ہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ
موت سب کو آتی ہے ۔۔۔۔۔جینا کسی کسی کو آتا ہے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں