یوم آزادی اور ھم : پی ایچ ڈی سکالر خالد محمود

تحریر :خالد محمود
آج یومِ آزادی ہے پوری قوم آزادی منا رہی ہے۔ہر محلے گلی کوچے میں ہر شہر ہر دیہات میں لوگ خوشیاں منا رہے ہیں۔ آج کے دن واقعی یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ قوم ایک آزاد قوم ہے۔ اِس قوم کا ہر فرد چاہے وہ بوڑھا ہو کہ جوان، عورت ہو کہ مرد، ہر نفس آزاد ہے۔ وہ آزاد فضا کے اندر سانس لیتے ہوئے محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ اُن کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔آزادی کا نشہ بھی کیا خوب نشہ ہے۔ ایسا چڑھا کہ پھر گویا اترتا ہی نہیں۔نوجوان سب سے زیادہ پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔ جن کے پاس موٹر سائیکل ہوتے ہیں وہ اُس پہ قومی پرچم سجائے ہر طرف اپنی موٹر سائیکل کو گھما پھرا رہے ہوتے ہیں۔کہیں کہیں ون ویلنگ بھی ہو رہی ہوتی ہے۔ آج کے دن ہی لاہور میں ون ویلنگ کرتے ہوئے تین نوجوان ہلاک ہو گئے ہیں۔ کچھ نے تو اپنی موٹر سائیکل کے سائیلنسر بھی کھول رکھے ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے موٹر سائیکل کی آواز بہت زیادہ اونچی ہو جاتی ہے۔ ہر آنے جانے والے کو یہ علم بہت پہلے ہو جاتا ہے کہ کوئی آزادی کا متوالا آرہا ہے۔کہیں کہیں پٹاخوں کی آوازیں بھی گونجتی دکھائی دیتی ہیں جس سے ہماری آزاد قوم ہونے کا احساس اور پختہ ہو جاتا ہے۔
آزادی کے دن ہی کچھ بزرگوں،نوجوانوں اور بچوں کو مساجد کے اندر قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہوئے اور دعائیں مانگتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ زیادہ مساجد کے اندر باقاعدہ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے دعاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
ویسے تو سرکاری طور پہ چھٹی ہوتی ہے مگر تعلیمی ادارے آزادی والے دن کھلے ہوتے ہیں۔ آزادی کے حوالے سے خاص تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ان اداروں میں آزادی کی جدوجہد کے دنوں کو یاد کرنے کیلئے تقاریر، مباحثوں، ملّی نغموں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔بچے اس میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے ہیں۔
کچھ لوگوں کی آنکھوں میں آزادی کی چمک کے ساتھ ساتھ نمی کو بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔ آخر یہ کون لوگ ہیں جن کی آنکھوں میں نمی وہ بھی آزادی کے دن کے موقع پر؟ جی ہاں یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنے خاندان اِس آزادی کیلئے قربان کر دئیے تھے۔ کسی کا بیٹا تو کسی کا بھائی، کسی عورت کا سہاگ اور کسی معصوم کے سر کا سایہ آزادی کیلئیے قربان ہوا۔درحقیقت آزادی ایسے لوگوں کی احسان مند نظر آتی ہے۔
آزادی کے دن ہر گلی ہر کوچہ صاف ستھرا اور روشن نظر آتا ہے۔ ہر طرف رنگ برنگی جھنڈیاں نظر آتی ہیں۔ قومی پرچم کی شکل میں بنی ہوئی جھنڈیاں رونق کو دوبالا کر رہی ہوتی ہیں۔ اگرچہ اگلے ہی دن وہ گلی کوچوں میں بکھری اور پاؤں کے نیچے آتی ہوئی نظر آتی ہیں۔وطن کے گلی کوچے صرف اسی دن صاف کیوں نظر آتے ہیں۔ آزادی تو سارا سال قائم رہتی ہے۔
محبت ایک ایسا جزبہ ہے جو یہ نہیں دیکھتا کہ محبت کرنے والے کا محبوب کیسا ہے، محبوب نے محبت کرنے والے کو کیا دیا۔ محبت کرنے والے نے کیا کھویا اور کیا پایا۔محبت کرنے والا بغیر کسی شرط کے اپنا تن من دھن سب کچھ اپنے محبوب پر وار دیتا ہے۔ پاکستان بھی تو محبوب ہے ہمارا، جس نے ہمیں شناخت دی پہچان دی شان دی۔ بدلے میں کچھ تو اِس کو بھی دیا جانا چاہئیے۔
جہاں ہم اتنی خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں وہاں کبھی ہم نے یہ بھی سوچا ہے کہ کیا آزادی منانے کا صرف یہی دن ہی کیوں؟؟ باقی سارا سال کدھر جاتی ہے آزادی۔کیا کہیں ایسا تو نہیں ہوتا کہ ہم آزادی کو بھول جاتے ہیں؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک اور بات بھی سوچنے کی ہے کہ اس وطن نے تو ہمیں آزادی دی ہے، بدلے میں ہم نے وطن کو کیا دیا ہے؟؟؟ کچھ لوٹایا بھی ہے یا صرف لیا ہی ہے۔۔۔۔۔۔ کیا ہم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ہم نے خود کو اس آزادی کے قابل بنایا ہے؟؟ کیا ہم اِس آزادی کے حقدار بھی ہیں کہ نہیں؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔ یقینا یہ الفاظ بہت تندو ترش ہیں لیکن یہ حقیقت بھی ہے۔ ہمیں تو آزادی پلیٹ میں رکھ کے پیش کر دی گئی اور آج ہم محض ایک جھنڈا اپنے چھت پہ لہرا کر آزاد ہونے کا حق اداکر دیتے ہیں۔ آزادی اللہ کی وہ خاص نعمت ہے جس کے آگے ہر چیز ہیچ اور کمتر نظر آتی ہے۔ یہ وہ بے پایاں نعمت ہے جو صرف قسمت والوں کو ہی میّسر آتی ہے۔ اس موقع پر جناب اختر شیرانی کے اشعار بہت یاد آرہے ہیں۔ بقولِ شاعر

عشق و آزادی بہار زیست کا سامان ہے
عشق میری جان، آزادی میرا ایمان ہے
عشق پر کردوں فدا میں اپنی ساری زندگی
اور آزادی پر میرا عشق بھی قربان ہو۔

ایک سوال بہت پیچیدہ سا ہے مگر اس کا جواب بہت سادہ سا ہے کہ پاکستان کس کا ہے؟؟؟؟
جواب یہ ہے کہ پاکستان پاکستانیوں کا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پاکستانی کون ہیں تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ پاکستانی وہ ہیں جو کہ اس مملکتِ خداد کی جغرافیائی حدود کے اندر رہتے ہیں اور اُن کے پاس پاکستانی ہونے کی دستاویز موجود ہے جسے قومی شناختی کارڈ کہتے ہیں۔
ایک اور بھی سوال جنم لیتا ہے کہ کیا یہ مملکت ِ خداداد صرف مسلمانوں کی ہے؟ تو اِس کا جواب اتنا سا ہے کہ ہر اس مذہب کے لوگوں کی ہے جو اِس کے اندر رہتے ہیں۔گویا یہ ملک کسی خاص فرقے یا قوم کا نہیں ہے بلکہ سب پاکستانیوں کا ہے۔ہمارے آئین کے مطابق بھی پاکستان کے تمام شہریوں کو بلا امتیاز حقوق حاصل ہیں چاہے وہ کسی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھتا ہو۔
سن اینس سو سینتالیس کو دنیا کے نقشے پر دو آزاد ریاستیں معرضِ وجود میں آئی تھیں ایک ہمارا پاکستان اور دوسرا انڈیا۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس وقت سے ان دونوں ریاستوں کے تعلقات میں ہمیشہ سردمہری ہی رہی ہے۔ دونوں طرف سے الزامات کی ہی سیاست ہوئی ہے حتیٰ کہ انڈیا کے اندر بعض انتخاب بھی پاکستان کے نام پہ لڑے گئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کئی معرکہ آرائیاں بھی ہوئی ہیں۔ ان جنگوں سے دونوں ممالک کا کافی نقصان بھی ہوا ہے۔میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جو بھی مسائل ہیں ان کو مذاکرات سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔آج دنیا ایک گلوبل ولج بن چکی ہے۔ بین المملکت فاصلے اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حائل اس خلیج کو کم سے کم کیا جاے اور اپنی توانائیاں بجائے بارود ک ڈھیر اکٹھا کرنے کے عوام کی خوشحالی پر صرف کی جائیں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں