ووٹ‌ایک ذمہ داری ، ایک فریضہ

حمدو ستائش اس ذات کے لیے جس نے اس کار خانہء عالم کو وجود بخشا
اور درودوسلام اس کے آخری پیغمبر ﷺ پر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا

اسلام کا ایک یہ معجزہ ہے کہ مسلمانوں کی پوری جماعت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوتی۔ہر زمانہ اور ہر
جگہ کچھ لوگ حق پر سختی سے قائم رہتے ہیں جن کو اپنے ہر کام میں حلال اور حرام کی فکر اور خدائے
بزرگ وبرتر اور رسولﷺ کی رضا جوئی پیش نظر رہتی ہے۔

سیاست کی تعریف: سیاست کے لغوی معنی امور کی تدبیر اور انتظام کرنا ہے۔اور اصلاحی مفہوم ایک
مملکت کے اندر لوگوں کے معاملات و مسائل کو ملکی سطح پر حل کر نے کی جدوجہد اور کوشش کرناہے۔
حضرت ابو ھریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیائے
کرام علیھم اسلام انجام دیتے تھے۔ جب ایک نبی کا انتقال ہو جاتا تو دوسرا نبی پہلے کا قائم مقام آجاتا اور
میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور قریب ہے کہ میرے بعد مسلمانوں کی سیاست خلفاء انجام دیں گے۔

دل کی آزادی شنہشاہی،شکم سامان موت فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم

جمہوریت: جیو اور جینے دو کے اصول پر کار بند ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ خیر کے ساتھ شر کو،
حق کے ساتھ باطل کو،معروف کے ساتھ مفکر کو، عدل کے ساتھ ظلم کو، عصمت و پاکدامنی کے ساتھ جنسی
انار کی واباحیت،ہم جنسی پرستی جوا اور شراب نوشی کو بھی جینے اور فروغ پانے کا پورا پورا حق حاصل
چاہیے۔ اور اس طرح اظہار رائے کا بھی ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو بھی پوری پوری آزادی ہے جو کچھ
جائز یا ناجائز حتیٰ کہ انبیائے کرام ؑ پر حیا سوز الزامات اور کواس لکھتا پھرے یا فلمیں بناتا پھرے۔چنانچہ
جمہوری ممالک میں یہی کچھ ہورہا ہے وہاں ہر قسم کے منکرات،حیاسوزاعمال و افعال فروغ پا رہے ہیں۔لیکن
اسلام تو حق کو بلند کرنے اور باطل کو مٹانے کا، منکر کو معروف سے تبدیل کرنے،ظلم کو مٹانے اور عدل
و انصاف کے قیام کا حکم دیتا ہے۔پھر اسلام اور جمہوریت میں کس طرح نباہ اور گذارہ ہوسکتا ہے:آج چاروں
طرف جمہوریت کا شور اور غوغوغا پھیلاہوا ہے۔فرنگی نے جدید تہذیب اور جدید تعلیم کی آڑ میں مسلمانوں
کو جو میٹھا زہر پلادیا ہے۔مثلا لارڈ میکالے (انگریز مفکر ماہر تعلیم)نے 1932؁ء میں برصغیر کے
باشندوں کے لیے مونٹیسوری سسٹم آف ایجوکیشن بمعہ نصاب تعلیم و نظام تعلیم وضع کیاتھا جو آج تک
ہمارے وطن عزیز پاکستان میں بھی رائج ہے الا کہ معمولی سی دنیات و عربی تعلیم کی پیوند کاری ہوئی
ہے۔اس نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا تھا کہ مسلمانوں کے بچے اور بچیاں اس نصاب و تعلیم کے تحت جو
تعلیم حاصل کریں گے وہ نام سے یعنی عبدالرحمن و عبدالمنان ہوں گے مگر نظرو فکر کے لحاظ سے پورے
نصرانی ہونگے۔ یہ اس کا ہی نتیجہ ہے کہ آج مسلمان قرآن و سنت پر غور کرنے کے بجائے،فرنگی کے
نظام کو بہتر، جامع اور مفید سمجھ کر اسی کی ترویج و تشہیر میں اس قدر منہمک اور سرگردان ہیں کہ
صراط مستقیم اور گمراہی کے درمیان فرق مفقود ہے۔
تھاجو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

جمہوریت میں انسانوں کو گنا جاتا ہے اور اسلام میں تولا جاتا ہے۔جمہوریت دور جدید کا وہ صنم اکبر ہے
جس کی پوجا پاٹ ساری دنیا کر رہی ہے۔ مغرب نے پروپیگنڈے کے زور پر اس کو مثالی طرز حکومت قرار
دے دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہی طرز حکومت کامیاب ترین ہے۔ مغربی جہوریت کو ہمارے وطن عزیز
میں درآمد کیاگیا ہے۔ اس جمہوریت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظر یہ کی
ضد ہے۔اس لیے اسلام کے ساتھ جمہور یت کا پیوند لگانا اور جمہوریت (مغربی لونڈی) کو مشرف بہ اسلام
کرنا صریح غلط ہے۔ جیساکہ ہمارے وطن عزیز کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا جاتا ہے اور فخریہ انداز میں
ہمارا مقتدر طبقہ یہ راگ الاپتا ہے کہ ہمارے وطن کا آئین قرآن و سنت ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں
ہے ۔پاکستان میں مسلمانوں کی حکومت ہے اسلامی حکومت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ پارلیمانی،صدارتی اور
بادشاہی(شنہشایٗیت)نظام ہاےٗ حکو مت اسلامی طرز حکومت نہیں ہے اور اسلام میں تو شورائی نظام ہے اور
اسلام نظریہ خلافت کا داعی ہے جسکی رو سے اسلامی مملکت کا سربراہ آنحضرت محمدﷺ کے خلیفہ اور
نائب کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کی زمین پر احکام الہیہ کے نفاد کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔جیسا کہ ہمارے
اسلاف خلفائے راشد ین ؓ نے مثالی حکمرانی کی تھی۔
آپﷺ کا ارشادگرامی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ میری سنت کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر عمل کرواور
اس کے ساتھ ہی میرے ہدایت یافتہ اور تربیت یافتہ خلفاء کے طریقے کو بھی ویسے ہی پکڑ کر عمل کرو۔

جلال بادشاہی ہو یا جمہوری تماشاہو جدا ہویں دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

در حقیقت روٹی اور مکان سب کچھ دیتا ہے اسلام۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ اس کی

زندگی کے وسائل بھی اپنی قدرت کاملہ سے فراہم کیے ہیں اور زندگی گذارنے کے سارے طور طریقے بھی
اپنے پیغمبرکے ذریعے بتائے ہیں ان تعلقات کو فراموش کرکے نظام وقانون خود مرتب کرنے اور عوام حرف
آخر قرار دینے کا فلسفہ خدائی اختیارات پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے۔

ترجمہ:۔ زمین پر چلنے(رہنے)والا کوئی بھی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ ہو اور
( تمہاری روزی تو آسمان سے اتاری جاتی ہے جس کا تم سے وعدہ کیاگیا ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد ین و عمائدین اور اس کے متوالے و جیالے جن کا نعرہ ہی یہی ہے کہ عوام ہی
طاقت کا سر چشمہ ہیں۔ جبکہ اعلیٰ حاکمیت (طاقت کا سرچشمہ) تو اللہ رب العزت کی ذات بابرکت ہے جوکہ
ساری مخلوق کا خالق حقیقی، رازق و مالک اور وراث حقیقی ہے۔درحقیقت پاکستان پیپلز پارٹی،اے این پی اور
ایم کیو ایم سیکولرازم کی حامی جماعتیں ہیں۔کھل کر بیان دینے سے کتراتی ہیں۔ دین
سے بے زار نظریات و افکار رکھتی ہیں۔ الا ماشاء اللہ۔
امیدواری: قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی یا کسی بھی قسم کی ممبری ہو اسکے انتخابات کے لیئے جو
امیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہو وہ گویا پوری ملت کے سامنے دو چیزوں کا مدعی ہے ایک یہ کہ وہ اس کام
کی قابلیت رکھتا ہے جسکا امید وار ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ دیانت داری سے اس کام کو انجام دے گا۔ اب اگر واقع
میں وہ اپنے اس دعویٰ میں سچا ہے یعنی قابلیت رکھتا ہے اور امانت ودیانت کے ساتھ قوم کی خدمت کے
جذبہ سے ان انتخابات میں کھڑا ہو رہا ہے تو اس کا یہ عمل کسی حد تک درست ہے اور بہتر طریقہ تو اس
کا یہ ہے کہ کوئی شخض خود مدعی بن کر کھڑا نہ ہو بلکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت اس کو اس کام کا اہل ا
ورقابل سمجھ کر نامزد کر ے اور جس شخص میں اس کام کی سرے سے صلاحیت ہی نہیں وہ اگر امیدوار بن
کر کھڑا ہو توقوم کا غدار اور خائن ہے۔ اس کا بطور ممبر کامیاب ہونا ملک و ملت کے لیئے انتہائی خرابی و
تباہی کا سبب تو بعد میں بنے گا پہلے وہ خود غدار اور خیانت کا مجرم ہو کرعذاب جہنم کا مستحق ہو گا
حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ ہر شخص اپنے اہل و عیال کا ذمہ دار ہے اور اب کسی مجلس کی ممبری کے
بعد جتنی خلق خدا کا تعلق اس مجلس(پارلیمنٹ سے وابستہ ہے ان سب کی ذمہ داری کا بوجھ اسکی گردن پر
آتا ہے اور دنیا و آخرت میں اس کا ذمہ داری کا جواب دہ ہے۔
سیدالقوم خادمہم: قائد وہ بنتا ہے جو خادم بنے۔خدمت سے بڑا کوئی منصب نہیں۔ حضرت ڈاکٹر عبدالحیی
عارفی رحمتہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ سب سے اونچا منصب خدمت خلق ہے۔ خیر الناس من ینفع الناس ۔اس
منصب سے کوییٗ معزول نہیں کرسکتا۔کوییٗ چھین نہیں سکتا۔کوییٗ حسد نہیں کرسکتا اور نہ ہی کوییٗ عداوت
کرسکتا ہے۔اگر انسان خلوص دل سے سچا خادم بن جاےٗ تواس عالی منصب کی وجہ سے وہ خادم سیدالقوم
خادمہم بنتا ہے۔ نیز سیاست کا خلاصہ اور نیچر بھی یہی ہے کہ انسان مخلوق خداکی بے لوث خدمت
کرے۔ موجودہ زمانے میں ئملائشیا کے وزیراعظم جناب حہاتیر محمد صاحب کی مثال ہمارے پاس موجود ہے۔
انہوں نے جب وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دیا تو قوم نے رد کردیا اور مطالبہ کیا کہ آپ اپنا استعفیٰ واپس لیں
اور تاحیات ہمارے وزیر اعظم رہیں تو انہوں نے معذرت سے اپنی قوم کو بمشکل راضی کیا کہ میں بوڑھا ہو
چکا ہوں اور اب مزید خدمت کرنے سے قاصر ہوں۔
ووٹ اورووٹر: کسی امید وار ممبر کو ووٹ دینے کی ازروئے قرآن و حدیث چند حیثیتیں ہیں۔ایک حیثیت
شہادت کی ہے کہ ووٹر جس شخص کو ووٹ دے رہا ہے اس کے متعلق شہادت دے رہا ہے کہ یہ شخص اس
کام کی قابلیت،دیانت و امانت بھی رکھتا ہے اور اگر اس کے خلاف ہے تو ووٹر جھوٹی شہادت کا مرتکب ہے۔
جو سخت گناہ کبیرہ اور وبال دنیا و آخرت ہے۔
صیحح بخاری شریف کی حدیث میں رسولﷺ نے شہادت کا ذبہ کو شرک کے ساتھ کبائر میں شمار فرمایا ہے(مشکوٰہ)
اور ایک حدیث میں جھوٹی شہادت کو اکبر کبائر فرمایا ہے(بخاری و مسلم)
جس حلقے میں چند امیدوار کھڑے ہوں اور ووٹر کو یہ معلوم ہے کہ قابلیت اور دیانت کے اعتبار سے فلاں
آدمی قابل ترجیح ہے تو اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو ووٹ دینا اس اکبر کبائر میں اپنے آپ کو مبتلا کرنا
ہے۔ اب ووٹ دینے والا اپنی آخرت اور انجام کو دیکھ کر ووٹ دے محض رسمی مروت یا کسی طمع و خوف
کی وجہ سے اپنے آپ کو اس وبال میں مبتلا نہ کرے۔
دوسری حیثیت ووٹ کی شفاعت یعنی سفارش کی ہے کہ ووٹر اس کی نمائیندگی کی سفارش کرتا ہے۔ اس
سفارش کے بارے میں قرآن کریم کا یہ ارشادہر ووٹر کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔جوشخص اچھی سفارش
کرتا ہے ا س کو اس میں سے بھی حصہ ملتا ہے اور اگر بری سفارش کرتا ہے تواسکی برائی میں بھی اس کا
حصہ لگتا ہے۔ ا چھی سفارش یہی ہے کہ قابل اور دیانت دار آدمی کی سفارش کرے۔اس کو خلق خدا پر
مسلط کرے۔اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے ووٹوں سے کامیاب ہونے والا امیدوار اپنے پنچ سالہ دور میں جو
نیک یا بدعمل کرے گا ہم اس کے شریک سمجھے جائیں گے۔

ووٹ کی تیسری حیثیت وکالت کی ہے کہ ووٹ دینے والا اس میدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے۔ لیکن
اگر یہ وکالت اس کے کسی شخصی حق کے متعلق ہوتی اور اس کا نفع و نقصان صرف اس کی ذات کو پہنچتا
اور اس کا خود ذمہ دار ہوتا۔مگر یہاں ایسا نہیں کیونکہ یہ وکالت ایسے حقوق کے متعلق ہے جن میں اس کے
ساتھ پوری قوم شریک ہے۔ اس لئیے اگر کسی نا اہل کو اپنی نمائندگی کے لیئے ووٹ دے کر کامیاب بنایاتو
پوری قوم کے حقوق کو پامال کرنے کا گناہ بھی اس کی گردن پر رہے گا۔لہذا نیک،صا لح وقابل آدمی کو دینا
موجب ثواب عظیم ہے اور اس کے ثمرات اس کو ملنے والے ہیں۔اسی طرح نا اہل یا غیر متدین شخص کو
ووٹ دینا تباہ کن ثمرات بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔
ظالم حکمران:ابن کثیر رحمتہ اللہ نے بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے حضورﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے
کہ ترجمہ یعنی جو شخص کسی ظالم کے ظلم میں اس کی مدد کرتا ہے(یعنی افرادی یا اجتماعی طور
پر) تو اللہ تعالیٰ اسی ظالم کو اس کے ستانے کے لیئے اس پر مسلط کردیتے ہیں۔اور اسی کے ہاتھ سے ان کو سزادلواتے ہیں

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں