گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱ فتح جنگ کا اکانوے سالہ دور(حصہ اول)

فتح جنگ کی تاریخ اور حالات و واقعات کو اپنے محدو د وسایٗل اور محدود ذرایٗع کی بناء پر  معلوم کرنے کی

ہرممکن سہی کی ہے۔ تاریخ کو مرتب کرنا کیونکہ ایک جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس کے لیے ہر گلی میں

تانک جھانک اور ہر دروازے پر فقیر کی طرح دستک دینی پڑتی ہے۔یہ مصروف زمانہ ہے اور اگر کسی

سے تاریخ یا ان کی شخصیت کے بارے مین جب پوچھا جاےٗ تو ہر ایک ہی تقریبا یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ

یہ سب کیوں کررہے ہو؟ جبکہ اس کمرشل دور میں اگر کسی سے اگر چند سوالات ماضی کے بارے میں یا

شہر کی تاریخ کے بارے میں پوچھیں تو کیٗ لوگ بے رخی کا مظاہرہ کرکے بتانے کی جسارت بھی گوارا

بھی نہیں کرتے۔ بہرحال  یہ ہمارے معاشرے میں ہوتا رہتا ہے اور کیٗ لوگوں سے مل کے دل واقعی واقعی

باغ باغ ہوجاتا ہے۔ اور حیرت بھی ہوتی ہے کہ ہم بحثییت قوم ہمیشہ باہر کی طرف ہی دیکھنے کی کوشش

کرتے ہیں جبکہ ہمارے اردگرد کیٗ ایسی شخصیات اور تاریخ موجود ہوتی ہے جوکہ قابل فخر بھی ہوتی ہیں

اور جن کے بارے میں جتنا بھی بتایا جاےٗ اتنا ہی کم ہے۔

فتح جنگ کی تاریخ اور شخصیات کے بارے میں ہمارے اس سفر کی آج کی منزل شہر کی ایک قدیم درسگاہ

گورنمنٹ بوایٗز ہایٗ سکول نمبر ا ہے۔ اس سکول کی تاریخ اور حالات و واقعات کے بارے میں مختصرا یہاں

بیان کیا جاےٗ گا  کیونکہ معلوما ت  کی طوالت سے بوریت کی کیفیت پیدا نہیں کرنا چاہتا۔

اس قدیم درسگاہ کا تذکرہ بہت ضروری تھا کیونکہ سینکڑوں لوگوں کی تقدیر اس درسگاہ کی بدولت بدلی ہے۔
                       

                        یہ فیضان نظر تھا یاکہ مکتب کی کرامت تھی
                سکھاےٗ کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی

 

سکول کی ابتداء غالبا 1920ء میں ہوییٗ تھی۔ غالبا ڈسٹرکٹ بورڈ کا سکول تھا۔سکول کی عمارت پر سنگ

مرمر کی تختی لگی ہے  جس پر لکھی تحریر کے مطابق  ڈی بی ہری چند سکول کا نام درج ہے۔1928ء میں

اسے ہاییٗ سکول کا درجہ ملا۔مشرق کی جانب دو بڑے کمروں پر مشتمل  ڈارمیٹری تھی۔ جسے بعد میں کلاس

رومز کا درجہ دے دیا گیا۔انہی میں سے ایک کمرہ اب ہایٗ سکول کا مین ہال ہے جہاں تقریبات اور دیگر ایونٹس کا  انعقاد کیا جاتا ہے۔
سکول کی عمارت کے نقشے کے مطابق سکول کی مغرب جانب دسویں جماعتوں کے کلاس رومز ہیں۔ جبکہ

مشرقی جانب دونوں طرف چار چار کمروں کے بلاک ہیں جن کے درمیان گیلریاں ہیں اور کھیل کی میدان کی طرف برآمدے بھی بنے ہوےٗ ہیں۔
کسی زمانے میں ہال والی سایٗڈ کی طرف دو کچن ہوا کرتے تھے۔جن کی عمارت ستر کی دہاییٗ تک قایٗم

رہی۔ان میں ایک ہندو کچن جبکہ دوسرا مسلم کچن تھا۔بعد میں ان دونوں کو سایٗنس روم اور ڈرایٗنگ روم میں

تبدیل کردیا گیا۔دوکمرے جانب مغرب اور تین کمرے جانب مشرق ٹاوٗن کمیٹی نے بنوا کردیے تھے۔

عجیب حسن اتفاق ہے کہ 1927ء سے 1947ء تک کے سارے وقت میں یہاں سارے ہیڈ ماسٹر صاحبان مسلمان ہی رہے۔

اس سکول کے پہلے ہیڈ ماسٹر جناب ظفر احمد صاحب تھے۔ دوسرے ملک اگر خان، تیسرے مفتی محمد اسلم

اور چوتھے خان غلام خان نیازی تھے جن کو آج تک لوگ یاد کرتے ہیں۔اسی سکول میں ایک اور مشہور

ہیڈماسٹر ملک فضل الہی بھی گزرے ہیں   جوکہ پنڈ ی سرہال گاوٗں سے تعلق رکھتے تھے۔انتہاییٗ پڑھے

لکھے  اور اس زمانے میں علی گڑھ یونیورسٹی پندوستان سے ایل ایل بی کیا ہوا تھا۔جبکہ  فارن کی

یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہولڈر بھی تھے۔کلہ باندھے ہوتے اور ان کے زمانے کے لوگوں

کے مطابق سکول میں جمعہ کی  نماز کی امامت بھی خود ہی کرایا کرتے تھے۔وہ ریٹایٗرمنٹ کے بعد اٹک

شہر میں وکالت  کرتے رہے۔ اٹک بار میں ان کی تصویر آج بھی آویزاں ہے۔

ان کے بیٹے عبدالروف ملک بھی اٹک کے چوٹی کے وکیل تھے۔اور ان کی بہو مسز روف اٹک گرلز سکول کی ہیڈمسٹریس رہیں

اس سکول کے پی ایچ ڈی ہیڈماسٹرز میں دوسرے تھٹی گجراں گاوٗں سے تعلق رکھنے والے چوہدری اجمل

صاحب ہیں جوکہ ہمارے استاد محترم چوہدری محمد اعظم کے صاحبزادے ہیں۔حسن اتفاق ہے کہ والد کے بعد

بیٹا بھی اسی سکول میں ہیڈماسٹر کے طور پر فریضہ سرانجام دیتا رہا۔

ملک فضل الہی صاحب کے بعد  ایک طویل اور شاندار دور فتح جنگ کے نامور استاد  ملک نور زمان

صاحب کا تھا۔ وہ 1960 سے سکول کے سیکنڈ ہیڈماسٹر رہے اور پھر 1975ء میں سکول کے ہیڈماسٹر مقرر

ہوےٗ۔اور  1993ء میں اسی سکول سے بطور ہیڈماسٹر ریٹایٗرڈ ہوےٗ۔ ملک نورزمان صاحب ایک بہت ہی قابل

استاد اور نہایت جرات مند منتظم رہے۔وہ جب تک  سکول کے منتظم رہے  کسی کو حکم عدولی کی جرات نہیں ہوتی تھی۔
پھر یہاں  مشتاق عاجز صاحب جیسے کہنہ مشق شاعر، فلاسفر اور درویش ہیڈماسٹر رہے۔

میرے خیال میں اس سکول کا سنہری دور خان محمد اقبال خان مقصود صاحب کا تھا۔ جوکہ بیک وقت شاعر،

ادیب، افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس تھے۔وہ کسی بھی طرح مشہور ادیب احمد ندیم قاسمی صاحب سے کم نہیں

تھے۔انہوں نے سکول میں کیٗ ڈرامے لکھے بھی اور انہیں سٹیج بھی کروایا۔ 1965ء کے دور میں جو پہلا

ڈرامہ سکول میں سٹیج کیا گیا تھا وہ ڈرامہ ہیرا پتھر تھا۔دوسرا ڈرامہ ٹیپو سلطان، پھر محمد بن قاسم، ضرب

ابدالی، شیر خوارزم  اور سنگ میل جیسے لازوال تاریخی ڈرامے سٹیج کیے گےٗ۔پس منظر میں ان کے بولے گےٗ ڈایٗلاگ ابھی تک کانوں میں گونجتے ہیں۔


تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں