سری پائے

شیخ صاحب حسب معمول اس روز کچھ زیادہ پریشان نظر آرہے تھے۔ کھنگالنے پر کھل پڑے کہ ان کے والدین کا عقیقہ کرنا بھول گئے اور وہ اپنے بچوں کا عقیقہ کرنا بھول گئے۔ اب اس مورثی نااہلی کی بناء پر شیخ صاحب کو بکروں کے ایک ریوڑپر قربان ہونا ہوگا! کیونکہ کل عقیقے (13) تیرہ بنتے ہیں اور یہ ہندسہ ازخود منحوس سمجھا جاتا ہے۔
کاکڑی پہلوان (سابق پہلوان) نے اس کا حل یہ بتایا کہ دو عددگائے قربان کردی جائیں توایک حصہ صاف بچ کررہ جائے گا جس سے دوستوں کی سری پائے کی دعوت گائیوں کے عین جنت میں جانے کا سبب بنے گی اور جاڑوں کے موسم میں توجنت میں بھی یہ کھائے جاتے ہوں گے اس کے لئے ہمیں بھی اس کی پریکٹس کرنی چاہئے۔ بقول ” ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن“
اس پر شیخ صاحب شیخ پاہوگئے اور صاف جواب دے دیاکہ میری گھروالی کوسری پائے پکانا ہی نہیں آتے۔ چانچہ سارے دوست اپنی اپنی سریاجوڑ کر بیٹھے اور ایک پائے کا حل ڈھونڈ نکالااور شیخ صاحب کو ” ببن باورچی“ کی دوکان کا رستہ نپوا کر ہدایات خصوصی بھی دی گئیں کہ:
پائے کی صحیح طریقے سے کلین شیوکریں ورنہ کھال میں سے بال نکلیں گے۔
سری پائے کوگیس پر نہ پکواجائے کیونکہ گیس ہماری قومی معدنیات میں سرکی حیثیت رکھتی ہے اس لئے اس پرحلوے مانڈے پکا کر کھلاناجب الوطنی ہے۔
سری پائے کوکویلے کی ہلکی آنچ پر اس طرح پکایا جائے جیسے افریقہ کے آدم خور انگریز میسموں کو بڑی سی دیگ میں ڈال کربھونا کرتے تھے۔
کچھ نے کہا عشائیہ لیاجائے کچھ نے کہا فجرانہ لیکن چرند پرند کے جاگنے کے وقت کو متفقہ طور پر نامنظور کیاگیا۔
دن گنے جاتے تھے اس دن کیلئے ” آخر کار وہ مبارک دن بھی آہی گیا۔ اس روز کاکڑی پہلوان نے ظہرانہ اور عصرانے سے پرہیز کیاتھا اور اب ان کے پیٹ کی آگ بجھائے نہیں بجھتی تھی یہ وہی پیٹ ہے جس کے حجم کو دیکھ کر لڑکیاں بالیاں شرما کہ کبھی کبھی کرتی ہیں۔
آج شیخ صاحب بہت کھل کھِلارہے تھے اور یہ تاثر دے رہے تھے جیسے وہ اس دنیا کے پہلے انسان ہیں جو عقیقہ کررہے ہیں اور عالم بے پروائی سے کہنے لگے اب تواہل عرب بھی بڑے شوق سے سری پائے کھاتے پیں مگراونٹ کے کیونکہ گائے تو ان کی ضرورت سے بہت کم گوشت دیتی ہے۔
مزیدبراں فرمایا کہ اصلی بناسپتی میں اسے پکوایا ہے جس کی مہک نکڑوالی تک پہنچ گئی ہے۔ (نکڑوالی پر خاص زور تھا) اور پک پک کر ایسے ہوگئے ہیں کہ کھانے کے بعد منہ اور ہاتھ اس قدر چکنے ہوجائیں گے کہ غسل کرنا لازم ہوگا اور تین دن تک دانتوں میں سے میٹھاسا درد اٹھتا رہے گا۔
یز سجائی گئی پائے رکھے گئے اور ہم سب بھوکے ندیدے بن کر آدم خوروں کی طرح دشمن اناج کھانے پر ٹوٹ پڑے خوب ڈٹ کرکھایا، رج کرڈکاریں لیں، لیکن کسی کو چند دن تک گھر جانا نصیب نہیں ہوا نہ جانے جواں گائے کی بددعا لگی یا شیخ صاحب کی نظر بدنے کام کردکھایا کہ ہم سب دوستوں کوسری پائے کافوڈپوائیز ہوگیا اس لئے ہسپتال میں بھرتی ہونا پڑا۔ بقول فیض
کوئے یار سے نکلے سوئے دار کوچلے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں