طالب علم اور استاد کا رشتہِ لازوال : پی ایچ ڈی سکالر خالد محمود

پٹرول پمپ پہ جوں ہی موٹر سائیکل روکی، لڑکا جلدی سے دوڑا ہواآیااور تیل ڈالنے لگا۔

اتنے میں ایک سفید کار آکر رکی۔ میری  نظر اُس خوبصورت کار پر پڑی  پھر میرا دھیان   ادھر سے ہٹ گیا۔ اچا نک اسی گاڑی سے خوبصورت لباس میں ملبوس ایک  وجوا    اترا اور سیدھا میرے پاس آکر رک گیا اور مسکراتے ہوئے مجھے کہا۔

           سر السلام علیکم…..میں  ے حیرا نگی سے اس کی طرف دیکھ کر وعلیکم السلام کہا اور متجسس  نگاہوں سے اس کو دیکھنے لگا۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی سوال کرتا اس  نے خود ہی سارے سوالوں کے جواب دے ڈالے۔ سر میں آپ کا سٹوڈ نٹ ہوں۔  آٹھ سال پہلے میں  نے آپ سے پڑھا ہے۔ اب اللہ کے فضل و کرم سے میری اچھی جاب ہے۔ ایک ملٹی  نیشنل کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں۔ تنخواہ کا پیکج بھی بہت اچھا ہے۔

اس بات کی گواہی تو اس کے ظاہری چال ڈھال سے مل رہی تھی۔  اس  نے مجھ سے بہت اصرار کیا کہ آج آپ میرے ساتھ چلیں مگر میں  نے معذرت کی کہ مجھے کوئی ضروری کام ہے اس لئے پھر کبھی سہی۔

اس کے بعد وہ اپنی منزل کی طرف روا ہ ہو گیا۔

اس کے جا نے کے بعد میں اسی کے بارے میں سوچتا رہا کہ آج بھی اس بچے کے لہجے میں وہی ادب تھا وہی احترام تھا۔اگر مجھے  وہ  اتر کر سلام  ہ کرتا تو مجھے کب معلوم تھا کہ یہ میرا طالب علم رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔لیک  اطوار بہرحال وہی رہتے ہیں۔ 

اسی طرح کچھ د ن پہلے بینک جا نے کا اتفاق ہوا۔ جو نہی میں بینک میں داخل ہوا تو ایک کا ؤ نٹر کی طرف بڑحا تو کاؤ نٹر پہ موجود  نوجوا ن مجھے دیکھ کر کھڑا ہو گیا اور مسکراتے ہوئے مجھے سلام کیا،

خود باہر آ کر مجھے کرسی پیش کی۔ میرا کام تو چند لمحوں میں کر دیا۔آئیندہ کیلئے یہ تاکید کی کہ آپ مجھے بس فون  پہ آگاہ کر دیا کریں۔ آپ کو بینک آ نے کی زحمت  نہیں کر نی پڑے گی۔

یہ صرف دو واقعات زدِ قلم کئے ہیں اس قسم کے بہت سارے واقعات سے میری ز دگی بھری پڑی ہے۔جن  کو بیان  کر نے کیلئے بہت زیادہ وقت چاہئے۔
    گھر آکر میں لیٹ گیا۔ اپنی آ نکھیں بند کر لیں اور سوچنا شروع کر دیا۔کیا استاد  نے کبھی اپنے طالب علم سے کوئی مطالبہ کیا کہ آپ میرا احترام کرو؟

استاد تو اپنے کام کا معاوضہ لیتا ہے کوئی احسا ن تھوڑی کرتا ہے۔ لیکن  اس کے باوجود طالبعلم ساری

زندگی اپنے استاد کا احترام کرنا اپنا فرضِ عین  سمجھتا ہے۔

دراصل ہمارے مذہب اسلام  نے استاد کے احترام پہ بہت زیادہ زور دیا ہے۔ استاد کو  روحا نی باپ کا درجہ حاصل ہے۔

خلیفہ ہارو  الرشید کے بیٹے اپ نے استاد کی جوتیاں سیدھی کرتے تھے جس پہ خلیفہ  نے کہا تھا کہ یہ وہ ہستی ہے جوہمیشہ زندہ رہے گی۔ 

استاد کا احترام کر نا ہمارے معاشرے میں ایک فطری کام سمجھا جاتا ہے ۔کبھی کبھی اپنے طالبعلموں کا یہ رویّہ دیکھ کے یہ احساس بھی ہو نے لگتا ہے کہ ہماری بقا کی وجہ ہی یہی ہے۔جو قومیں اساتذہ کا احترام کرتی ہیں وہ قائم رہتی ہیں۔
    یہاں میں کچھ ترقی پسند طلباء کا ذکر کر نا چاہوں گا جو یہ کہتے ہیں کہ استاد کو اس کے کام کا معاوضہ ملتا ہے سو اس کا احترام کیا جا نا ضروری چیز بھی  نہیں ہے۔ وہ اپنی بات کو مغربی ر نگ میں کر نے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے پیشوں کی طرح معلمی بھی ایک پیشہ ہے جس کا باقاعدہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔ حالا نکہ مغرب میں استاد کو   نمایاں مقام اور مرتبہ حاصل ہے۔ خود پہ مغرب زدہ تہذیب کا لیبل لگا نے سے پہلے اسلام کا مطالعہ بہت ضروری ہے کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے۔میں ا ن کی اس بات کے جواب میں صرف اتنا کہوں گا کہ استاد  نے کبھی کسی طالبعلم سے یہ مطالبہ  نہیں کیا۔

جو اپنے اساتذہ کا احترام کرتے ہیں وہ اپنے ضمیر کے پابند ہیں۔

یہ ان  کی محبت ہے اپ ؂نے اساتذہ کیلئے۔۔۔۔۔۔  وہ ان  کو والدین  کا  نہ صرف درجہ دیتے ہیں بلکہ صحیح معنوں میں سمجھتے بھی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ  نہ صرف د نیا میں سرخرو ہیں بلکہ آخرت میں بھی سرخرو ہیں۔ ان  کی کامیابیاں  نہ صرف ان  کی محنت کے بل بوتے پر ہیں بلکہ اِن  میں اساتذہ کی دعاؤں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔


تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں