سلام کے آداب

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ. فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « عَشْرٌ ». ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ « عِشْرُونَ ». ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ « ثَلاَثُونَ ».

(جامع ترمذی رقم الحدیث2613)

ترجمہ: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا:” السلام علیکم” تو نبی اکرم صلی علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دس نیکیاں ملیں گی۔پھر دوسرا شخص آیا اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بیس نیکیاں ملیں گی۔پھر ایک اور شخص آیا اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تیس نیکیاں ملیں گی۔

سلام کے چند آداب درج ذیل ہیں۔

چھوٹے کو چاہیے کہ اپنے بڑوں کو ،چلنے والے کوچاہیے بیٹھے ہوئے اور سوار کو چاہیے کہ پیدل کو سلام کرے۔

جب کوئی شخص سلام کرے تو جواب دینے والے کو چاہیے کہ زبان سے جواب دے سر یا ہاتھ وغیرہ کے اشارہ پر اکتفاء نہ کرے۔

جو شخص طبعی یا دینی کام مشغول ہو تو اس کو سلام کرنا مکروہ ہے۔

چنانچہ اذان،جمعہ وعیدین کا خطبہ ،تلاوت،درس،وعظ،کھانے کے وقت سلام نہیں کرنا چاہیے ۔اگر کیا جواب دینا لازم نہ ہوگا

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں