لہو لہو اگست ، لہو لہو آزادی

ًمصطفٰے ملک
ہم اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو پاکستان معرض وجود آنے کے ابتدائی بیس سالوں میں پیدا ہوئے ، ہوش سنبھالا تو قیام پاکستان کو کم و پیش پچیس سال گزر چکے ہوں گے ، بیس پچیس سال اتنا عرصہ نہیں ہوتا کہ انسان اپنے اوپر گزرے دکھ کو بھول جائے پھر وہ زمانہ ایسا تھا کہ کوئی اور ایسی دلچسپی نہیں تھی کہ جس کے ذریعے دکھ کم ہو سکے ۔ ٹی وی ،موبائل ، ویڈیو گیمز ،سوشل میڈیا کا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ،صرف شہروں میں بجلی تھی،دیہات اس سے بھی محروم تھے ،تفریح کا واحد ذریعہ ریڈیو تھا جو بھی ہر کسی کو آسانی سے دستیاب نہیں تھا۔
جب کچھ اور دلچسپی نہ ہو تو پھر سوائے مل بیٹھ کر پرانی یادوں اور بیتے دنوں کو یاد کرنا ایک ذریعہ رہ جاتا ہے ۔ہوش سنبھالنے پر سب سے پہلا احساس اپنی ماں کی کٹی ہوئی انگلیوں اور چہرے پر ایک بہت بڑے زخم کے نشان کو دیکھ کر ہوا کہ آخر یہ کیا ہے، کیسے اتنے بڑے زخم آئے ، جس چیزکاذکر بار بار اپنی ماں سے
سنا وہ ہجرت تھی ،اپنی مٹی، اپنا گھر بار ،ڈھورڈنگر ،جائدادیں ،یہاں تک کے اولاد بھی اس ہجرت پر قربان کردی۔ سردیوں کی لمبی راتوں میں جب مائیں اپنے بچوں کو کہانیاں سناتی ہیں ،میری ماں ہمیں ہجرت کے دوران اپنے اور اپنے خاندان کے اوپر بیتے ظلم کی ہولناک داستانیں سناتے ہوئے خود بھی زاروقطار روتی رہتی اور ہمیں بھی رلاتی ،باہر کبھی بڑوں میں بیٹھنے کا موقع ملتا تو اسی طرح کی کہانیاں سننے کو ملتیں،والد محترم بھی اسی طرح کی داستانیں سناتے۔
ان کہانیوں نے ہمارے اندر دو قومی نظریہ ایسے فٹ کردیا کہ بھولے بھی بھلایا نہ جا سکے گا ،وطن کی خاطر دی گئی اپنے والدین کی قربانیوں کو میں کبھی بھول نہیں سکا ،نہ اپنی ماں کے زخموں کو،نہ اپنے باپ پر ہونے والے مظالم کو ۔قیام پاکستان کا موضوع میرے لئے ہمیشہ دلچسپی کا حامل رہا،ہر وہ کتاب اور ناول ضرور پڑھا جس میں اس کا ذکر ہوا ،خاص طور پر نسیم حجازی کا خاک اور خون۔جب کبھی قیام پاکستان کے وقت مہاجرین کی پاکستان آمد کی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر دیکھتا ہوں تو ان میں گم ہو جاتا ہوں.گزشتہ دنوں ایک عالمی ادارے نے اس کی تصاویر جاری کیں تو میں نے ان کو سینکڑوں بار دیکھا ، میں ان میں اپنی زخمی ماں تلاش کرتا رہا.
شائد وہاں کہیں وہ وہ بھائی بھی نظر آجائے جو ظالموں نے میری ماں کے ہاتھوں سے چھین کر اس کے سامنے شہید کردیا ،جس کو بچاتے بچاتے میری ماں اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے محروم ہو گئی ،جبڑے پر اتنا بڑا زخم بن گیا جو تاحیات ان کے چہرے پر نمایاں رہا،وہ شائد اس لئے زندہ رہ گئیں کہ ان کی نظروں میں وہ مر چکی تھیں ۔

ابا جی کہتے تھے جب دوبارہ قافلہ پر حملہ ہوا تو تب تیری والدہ اور بھائی تو ہم سے بچھڑ چکے تھے،ایک بڑے بھائی ان کے کندھوں پر سوار تھے ،قافلہ کی طرف سے اعلان ہوا ،بس اب اپنی اپنی جانیں بچائیں،جو بھی کسی کے پاس قیمتی سامان ہے اسے پھینک دیں ،کہتے میں نے اپنے چار پانچ سالہ بیٹے کو کندھے سے اتار کر اللہ کے سپرد کر دیا ،قافلہ پر سکھوں نے حملہ کردیا ، لوٹ مار شروع ہوگئی،میں اپنی جان بچانے کے لئے ایک درخت کی اوٹ میں ہوگیا،سکھ جو سامنے آتا اس کو اپنی تلوار کی زد میں لاتے اور دو ٹکڑے کر دیتے، ایک آہ وفغاں کا سماں تھا، خواتین کی بے حرمتی ہو رہی تھی،ہر کوئی اپنی جان بچانے کی فکر میں تھا ،ایک سکھ ایک نوجوان لڑکی کو اٹھا کر بھاگ رہا تھا ،میرے پاس سے گزرا تو تو میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے کو اس کے ٹانگوں میں اڑس کر اس کو گرا دیا اور پھر اس سے پہلے کہ وہ مجھ پر حملہ آور ہوتا اس کی تلوار اٹھا کر اس کو واصل جہنم کر دیا ۔اس بچی کو دوبارہ اس کے والدین کے سپرد کیا اور قافلہ روانہ ہوگیا ،کوئی دس میل چلنے کے بعد احساس ہوا جیسے پیچھے کوئی میرا کرتا پکڑ کر کھینچ رہا ہے،پیچھے مڑ کر دیکھا تووہ میرا بیٹا تھا۔پتہ نہیں معصوم بچے نے کیسے دس بارہ میل کا سفر پیدل طے کر لیا ،اٹھایا ،چوما اور گلے سے لگا لیا ۔

میرے وہ بڑے بھائی آج بھی ماشاء اللہ حیات ہیں۔لاہور پہنچ کر کیمپوں میں میری ماں کی تلاش شروع کر دی،دو تین ماہ بعد ایک ہسپتال میں مل گئیں ، زخم خراب ہو چکے تھے ، جیسے تیسے جو ملا جیسا ملا کبھی پیدل ،کبھی سرکاری گاڑیوں پر سفر کرتے یہ مہاجر فیصل آباد آکر آباد ہو گئے ۔ یہ ایک میرے ماں باپ کی کہانی نہیں ہے ،ہمارے ارد گرد سبھی اسی طرح کی کہانیاں سنایا کرتے تھے مگر اب یہ کہانیاں سنانے والے آہستہ آہستہ کم ہوتے جارہے ہیں ،ایک دن آئے گا ہجرت کرنے والا ایک بھی فرد زندہ نہیں رہے گا اب یہ میری اور آپ کی ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسل کو اس اثاثے سے روشناس کروایا جائے ورنہ وطن کی جو محبت ہمارے دلوں میں ہے یا ان لوگوں کے دلوں میں تھی جنہوں نے اس کے قیام کے لئے قربانیاں دی تھیں ،نئی نسل کے دلوں میں قائم نہیں ہو سکے گی۔بانی پاکستان کی بے وقت موت کے بعد آنے والے ہر حکمران نے پاکستان اور اس کے اثاثوں کو جی بھر لوٹا ،برباد کیا ، آج کے حکمران بھی اسی ڈگر ہیں ،آلو پیاز کے لئے بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں حالانکہ ہندو بنیا کبھی ہمارا دوست نہیں ہو سکتا،
کبھی موقع ملے تو پوچھئے ان لوگوں سے جنہوں نے ہجرت کی تھی کہ کیسے ان کے ہندو اور سکھ محلہ داروں نے وقت آنے پر ان کا ساتھ چھوڑا اور ان کے گھروں کی لوٹ مار کی ،کاش اس نسل کو پتہ چل سکے کہ سینکڑوں نہیں ہزاروں مسلمان عورتیں آج بھی سکھ بچوں کی مائیں بن کر اپنی زندگی کے دن پورے کر رہی ہیں ، انہیں کس جرم کی سزا ملی ،وطن کس کو نہیں پیارا ہوتا ،سنا ہے ہم سب کے محبوب نبی اکرم ﷺنے جب مکہ چھوڑا تو کتنے غمگین تھے ،جب بھی مکہ کی یاد آتی تو آزردہ ہو جاتے ۔میری ماں نے ساری زندگی “میرا دیس” کہتے کہتے گزار دی،جب بھی انہیں اپنا گھر یاد آیا تو زاروقطار روتی رہیں۔ کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے میں خود ہندوستان جاؤں ، لدھیانہ کے قریب “الونہ”نامی اس گاؤں میں جاؤں جہاں میری ماں بیاہ کر آئی تھی ، جس گھر میں میری ماں نے اپنے یوسف کو جنم دیا تھا جسے دو سال کی عمر میں اس کے ہاتھوں شہیدکیا گیا ۔چشم تصور میں ہجرت کی وہ تصوریں مجھے وہیں لے جاتی ہیں ، میں خود کو یوسف کی جگہ تصور کرتا ہوں ، ان لٹی پٹی لاشوں کی تصویروں میں ،میں اپنے بھائی یوسف کو تلاش کرتا رہتا ہوں،میرا پہلا بیٹا پیدا ہوا تو میں نے ماں سے کہا کہ اس کا نام یوسف رکھنا ہے تو وہ زاروقطار رو پڑیں ، وہ مجھے آج تک نہیں بھولا ،میں دوسرا یوسف اپنے سامنے نہیں دیکھ سکتی ۔پاکستان آکر والدین نے دوبارہ محنت کی ، گھر بار ، کاروبار ، سب اللہ نے دیا ، پھر ہمیں لکھایا پڑھایا ، شادیاں کیں مگر ہم ان کا وہ دکھ دور نہ کرسکے جس کو جھیل کر انہوں نے یہ وطن حاصل کیا ۔میری میڈیا سے بھی بھی اپیل ہے کہ اگر نئی نسل کے دلوں میں پاکستان کی محبت ڈالنی ہے تو انہیں ان کہانیوں سے روشناس کروائیں ،ابھی بہت لوگ زندہ ہیں ۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں