لکیروں میں بٹی امت

از: گمنام

بھلا ایسا بھی ہوتا ہے کہ چند فرضی لکیریں اپنوں کو بیگانہ کر ڈالیں؟ لیکن کیا کریں جدید دنیا نے یہ انہونی بھی کر دکھائی۔۔۔۔

ذرا ایک لمحے کے لئے ایک مثال کو تصور میں لائیں۔ ایک طاقتور انسان ہے جس کا دشمن ایک لمبے عرصے سے اسے شکست دینے کے لئے کوشاں ہے لیکن کبھی شکست نہیں دے سکا بلکہ خود مار پر مار کھائے جا رہا ہے۔ دشمن نے ایک لمبی منصوبہ بندی کی اور اس کے بعد غفلت میں اس طاقت ور انسان کو زیر کر لیا۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ وہ اس طاقت ور انسان کو زیادہ دیر زیر نہیں رکھ سکتا کیوں کہ اس کے اعضاء بہت مضبوط ہیں اور وہ کسی پل بھی پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ اس خطرے سے نپٹنے کے لئے دشمن نے ایک انوکھی چال چلی اس نے اس طاقتور انسان کے جسم کے سارے اعضاء کے گرد لکیریں کھینچ دیں اور کہا کہ اب اس جسم کے ہر ہر عضو کی اپنی ایک آزاد حیثیت ہے۔ ایک عضو کا دوسرے عضو سے براہ راست تعلق ختم ہے۔ تمام عضو آپس میں تعامل کے لئے میرے بنائے گئے اصول و قوانین کی پابندی کریں گے۔ پھر وہ دشمن اس جسم کے ہر ہر عضو کو اپنی ہی ذات میں اس قدر گم کر دیتا ہے کہ ہر ہر عضو یہ گمان کرنے لگ جاتا ہے کہ وہ خود ہی پورا کا پورا جسم ہے اور جو تعامل وہ باقی اعضاء کے ساتھ کر رہا ہے وہ اصل میں دوسرے اجسام کے ساتھ کر رہا ہے۔ ہر عضو کو فکر ہے تو اپنے ہی چھوٹے حصوں کو متحد رکھنے کی کہ کہیں میرے اپنے چھوٹے چھوٹے حصے نہ کہہ د یں کہ اب میں بھی ایک علیحدہ جسم ہوں۔ پھر کبھی جسم کے کسی ایک حصے پر کوئی حملہ آور ہوتا ہے اور ہاتھ اورپاؤں سے کہا جاتا ہے کہ اپنے جسم کا دفاع کرو تو ہاتھ اور پاؤں کہتے ہیں کہ یہ بیرونی معاملہ ہے میرے لئے سب سے پہلے میرا جسم ہے ۔ مجھے اپنی پانچوں انگلیوں کو متحد رکھنے کی فکر ہے میں کسی اور کی لڑائی میں پڑ کے اپنے لئے مصیبت مول نہیں لے سکتا۔ تو کبھی دشمن ہاتھ سے کہتا ہے کہ اپنے ہی جسم کے کسی اور عضو کے خلاف جس نے میرے خلاف بغاوت کر دی ہے میری مدد کرو ورنہ تمہارا بھی اسی عضو جیسا حال کروں گا تو وہ جلدی سے اپنے ہی جسم کے خلاف اپنے دشمن کا ہاتھ بن جاتا ہے۔

اب بتائیں کہ جب انسانی جسم کا ہر عضو ایک دوسرے پر انحصار کر رہا ہوتا ہے اور سب مل جل کر ایک ہی جسم کی صورت اختیار کر کے ہی زندہ رہ سکتے ہیں تو ایسی صورت میں جب جسم کے تمام اعضاء اپنے دوسرے اعضاء کی مدد سے اور ایک اکائی بن کر کام کرنے سے انکار کر دیں تو بتائیں کہ کیا کوئی بھی عضو ان میں سے زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتا ہے؟ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے اور یہ ساری مثال ہی ایک غیر فطری عمل کی عکاسی کر رہی ہے۔

لیکن کیا کیا جائے کہ یہ غیر فطری عمل آج سے قریباً ایک صدی قبل وقوع پزیر ہو گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے اس امت کو بھی ایک جسم قرار دیا ہے، اور اغیار نے تیرہ سو سال سے بنےامت مسلم کےمضبوط اور طاقت ور جسم کے ہر عضو کے گرد سائس پیکو ، ریڈ کلف اور ڈیوڈرنٹ نامی پنسلوں سے لکیریں کھینچ ڈالیں اور کہہ دیا کہ اب ہر عضو آزاد ہے دوسرے عضو سے اگر پابند ہے تو میرے بنائے ہوئے اصولوں کا میرے بنائے ہوئے قانون کا میرے بنائے ہوئے ضوابط کا۔ اور ساتھ میں ’’مادر وطن‘‘، ’’پاک وطن‘‘ اور ’’پاک سر زمین‘‘ جیسے نعروں کا میٹھا نشہ پلا کر مدہوش کر دیا تاکہ یہ ہمیشہ کے لئے بھول جائیں کہ اصل میں انہوں نے کیا کھو دیا۔

کیسی عجیب منطق ہے کہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے پر تو ہم سوگ مناتے ہیں لیکن جب یہ خطہ امت سے جدا ہو کر ’’پاکستان‘‘ کہلایا تو اس کا ہم جشن مناتے ہیں۔یعنی انگلی کٹنے کا تو دکھ ہے لیکن جو پورا کا پورا ہاتھ ہی جسم سے جدا ہو گیا اس کا کوئی دکھ ہی نہیں؟ اور نام دیتے ہیں اسے ’’جشن آزادی ‘‘ کا۔ آخر کس چیز سے آزادی؟ انگریز سے؟ وہ کب ملی؟ بس انہوں نے اپنی پالیسی بدلی اور تو کچھ نہیں ہوا۔ پہلے وہ براہ راست کالونیاں بنانے کی پالیسیاں اپناتے تھے لیکن پھر انہیں احساس ہوا کہ اس طرح بغاوتیں زیادہ اٹھتی ہیں اور ان کے اپنے وسائل بھی زیادہ خرچ ہوتے ہیں تو انہوں نے ایک ’’انڈائریکٹ‘‘ طریقہ کار اپنایا اور خود تو چلے گئے لیکن انڈے بچے دے گئے۔ تو کیا ہم پالیسی کی تبدیلی کا جشن مناتے ہیں کہ اغیار خود تو چلے گئے اور ہمیں اپنے انڈے بچوں کی غلامی میں ڈال گئے؟

اقبال نے اس وطنیت کے فتنے کو اُس دور میں ہی سمجھ لیا جب اس کا آغاز ہو رہا تھا اس لئے انہوں نے کہا:
اس دور میں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اور ساقی نے بنا کی روشِ لطف و ستم اور مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہے غارت گرِ کاشانہ دینِ نبوی ؍ﷺ ہے بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے نظارہ دیرینہ زمانے کو دکھا دے اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے

آج یہ امت جو قوم و وطن کی غیر فطری لکیروں میں بٹی ہوئی ہے اس بات کو نظر انداز کیے بیٹھی ہے کہ جس طرح جسم کے تمام اعضاء کی بقا ایک ہی جسم میں مربوط رہنے میں ہوتی ہے، اور اُس جسم سے آزادی میں فقط فنا ہے یہی معاملہ اس امت کا بھی ہے۔ مسلمانوں کی بقا اسی میں ہے کہ وہ دوبارہ سے امت کی طرف لوٹیں اور اغیار کی کھینچی لکیریں اپنے گرد سے مٹا ڈالیں۔ ورنہ اگر ہم اسی طرح اپنا الگ الگ راگ الاپتے رہے اور اس امت کی وحدت کے لئے اٹھے ہوئے نوجوان ، وہ مصطفوی جو وطنیت کے اس بت کو خاک میں ملانے نکلے ہیں، امت کی طرف سے مدد و نصرت کے فقدان کی وجہ سے ختم ہو گئے تو یاد رکھیں جنہوں نے کل آپ کولکیروں میں تقسیم کیا تھا انہوں نے اسی لیے کیا تھا کہ آپ کو بھوکے بھیڑیوں کی طرح چن چن کر نوچ کھائیں۔

تو آپ کا کیا ارادہ ہے؟ ’’وطن کی مٹی‘‘ اور ’’مادر وطن‘‘ کی خاطر فنا ہونے کا یا ایک اللہ، ایک رسول ، ایک کلمہ اور ایک کتاب کی وجہ سے ایک جھنڈے تلے ایک امت بننے کے خواب کی تکمیل کے لئے قربانیاں دینے کا؟

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں