ایک قبائلی لڑکے کے خوابوں کا پاکستان

از: منصور مکرم

اردو بلاگرز کمیونٹی کی طرف سے میرے خوابوں کا پاکستان کے عنوان کے تحت ایک انعامی مقابلے کا انعقاد کیا
گیا۔اور اسکے ساتھ ہی اردو بلاگرز پر زور دیا گیا کہ بھئی لکھنا تو ضرور ہے،ہم نے بڑا کہا کہ جناب ہم مقابلوں والے رائٹر نہیں،لیکن ایڈمن صاحب کا کہنا تھا کہ سب اردو بلاگرز نے لکھنا ہی ہے ،چاہے جیسے بھی لکھ لیں۔

اب اردو بلاگنگ کے دعوے دار ہم بھی بنے تھے،اسی لئے مجبورا اس موضوع پر قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا،

لیکن وہی مسئلہ کہ لکھیں تو کیا ؟

چنانچہ اس پریشانی میں ہم سرگرداں گھوم رہے تھے کہ یکایک سامنے سے دلاور خان آتے نظر آئے۔
دلاور خان ایک قبائلی لڑکا ہے ،جسکی عمر 20-22 سال تک ہوگی، چھوٹی موٹی مزدوری کرکے اپنے ابو کا ہاتھ بٹاتا ہے۔

خیر ہم تو بڑے خوش ہوئے کہ لوجی مسئلہ ہی حل ہوگیا۔لوگ اپنے اپنے خواب بتاتے ہیں پاکستان کے بارئے ،آج میں ذرا دلاور خان کے خواب جان لوں ،کہ موصوف کیا خواب دیکھتے ہیں پاکستان کے بارئے میں۔

چنانچہ علیک سلیک کے بعد میں اسکو قریبی چائے کے ہوٹل پر لے گیا ،اور ہم باہر تھڑے پر بیٹھ گئے۔دلاور خان کے خواب سننے کیلئے چائے پلانا تو ضروری تھا ،ورنہ تو یہ خطرہ پورے جوبن پر تھا کہ وہ خواب ادھورا چھوڑ کر نکل جائیں۔

ادھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد میں نے دلاور خان سے پوچھا کہ خانصاحب یہ تو بتاؤ کہ 14 آگست منایا ہے کہ نہیں۔
تو خان صاحب کی منہ سے ایک اہ نکلی گئی۔

بولے منصور بھائی وہ ایک زمانہ تھا ،جب ہم بچے تھے اور اپنے قبیلے کے سکول میں پڑھتے تھے،اور 14 آگست کیلئے جیب خرچ بچاتے تھے کہ اس سے بیج خریدیں گے ،جیب پر لگانے کیلئے۔ اور میں تو سب دوستوں کے مقابلے میں ایک بہت بڑا جھنڈا خرید کر گھر کی چھت پر لہرانے کیلئے ایک ہفتہ پہلے سے ہی سکول کی آدھی چھٹی میں کینٹین سے خوراک لینا بند کردیتا تھا، تاکہ میرے پاس زیادہ پیسے بچ جائیں ۔

پھر جب 14 آگست کا دن ہوتا تھا، تو جب ابو فجر کی نماز پڑھنے کیلئے مسجد جانے لگتے ،تو میں اسی وقت اُٹھ جاتا تھا اور جلدی جلدی چھت پر چڑھ کر جھنڈا لگا لیتا تھا۔چنانچہ جب لوگ فجر کی نماز پڑھ کر ہمارے گھر کی گلی سے گذرتے تو جھنڈا دیکھ کر ادب سے گذرنے لگتے۔
اس کے بعد میں فورا کپڑے بدل کر بیج اپنی جیب پر لگا لیتا تھا،اور چائے پی کر سکول کی طرف جاتا تھا۔وہاں دوستوں کے سامنے میرا سر فخر سے اونچا ہوتا تھا کہ گاؤں کے سب بچوں سے بڑا جھنڈا میں نے لہرایا ہوا ہوتا تھا۔پھر سکول میں ملی نغمے اور قومی ترانے پڑھے جاتے ،جس کو ہم سب مل کر جوش و خروش سے بلند آواز سےپڑھتے۔

اسی طرح وقت گذرتا گیا ،اور ہم ساتویں جماعت تک پہنچ گئے۔ساتویں جماعت میں ابھی پڑھائی شروع ہوئے چند مہینے ہوئے تھے کہ ہمارے علاقے میں حکومت نے طالبان کے خلاف آپریشن کرنے کا اعلان کردیا ۔ اور ہمیں بتایا گیا کہ تم سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر پناہ گزینوں کے کیمپ میں چلے جاؤ، تاکہ ہم یہاں مکمل آپریشن کرکے امن بحال کرسکیں۔

میں چونکہ سب سے بڑا تھا ،اسی لئے ابو کے بعد میں ہی گھر کا رکھوالا تھا۔ جن دنوں ہمیں گھر سے جانے کا کہا گیا تو ان وقتوں میں ابو جی دوبئی میں مزدوری کرنے گئے ہوئے تھے۔ایک میں ہی گھر میں بڑا تھا ،اسی لئے ضروری سامان اکھٹا کرکے میں اپنی ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ متاثرین کیمپ چلا گیا۔

ابھی ہم کیمپ میں ہی تھے کہ 14 آگست کی تاریخ آگئی۔ میں نے ارادہ کیا کہ ابو نے جو رقم بھیجی ہے گھر چلانے کیلئے ،اسی میں سے کچھ بچا کر اپنے خیمے کے اوپر پاکستان کا جھنڈا لہرا دوں۔لیکن جب امی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بیٹا ان روپوں میں سے صرف اتنی رقم بچی ہے کہ ہم چند دن اس پر گذارا کرسکیں۔لیکن پھر بھی امی نے مجھے خوش کرنے کیلئے 20 روپے مجھے دئے ،کہ جاؤ بیٹا ،اس سے ہی جشن آزادی مناؤ۔

لیکن 20 روپے میں تو صرف ایک چھوٹا سا جھنڈا ہی خریدا جا سکتا تھا۔جبکہ مجھے تو بڑ ا والا جھنڈا خریدنا تھا اور ساتھ میں بیج بھی۔
چنانچہ میں نے ہمت کی اور کیمپ سے باہر نکل کر دیکھا کہ لوگ بازار جا رہے ہیں ،تو میں بھی امی سے چھپ کر بازار گیا اور وہاں سے غباروں کا ایک چھوٹا سا پیکٹ خرید لایا ،اور پھر ان غباروں کو پُھلا کر میں نے ایک ڈنڈے کے ساتھ باندھ لیے،اور کیمپ کے بچوں کی طرف روانہ ہوگیا۔ دوپہر تک سب غبارے فروخت ہوگئے تھے، جب میں نے دیکھا کہ اب مجھے کافی روپے مل گئے تو پھر میں بازار گیا اور ایک بڑا جھنڈا خرید لیا۔ اور خوشی خوشی واپس اپنے خیمے میں آگیا ،اور خیمے کے بانس کے ساتھ وہ بڑا جھنڈا باندھ لیا،لیکن میں صرف جھنڈا ہی خرید سکا ،کیونکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھےکہ میں بیج بھی خریدتا،اسلئے اس سال جشن آزادی منانے کیلئے میرے پاس بیج نہیں تھا ،اور جو بیج میں نے خریدے تھے پچھلے سال ،تو وہ گھر سے افراتفری کی صورت میں نکلنے کے سبب ادھر اُدھر ہوگئے۔
پھر اپنے خیمہ کے قریب ہی باقی خیمہ بستی کے چند بچوں کو اکھٹا کر لیا ، اور ہم سب نے مل کر پاکستان زند ہ باد کے نعرے لگائے، مجھے سکول والی ایک نظم یاد تھی ،

محبت امن ہے ،اور امن کا پیغام پاکستان
پاکستان پاکستان ،پاکستان پاکستان

وہ میں نے بچوں کو سُنا ڈالی۔اور پھر ہم سب اپنے اپنے خیموں کو لوٹ گئے۔

پھر میرے ابو کے پاس جب کچھ روپے جمع ہوگئے تو وہ واپس پاکستان اگئے۔ ہمارے خیموں کے خستہ حالی دیکھ کر ابو بہت خفاء ہوگئے۔لیکن کیا کرسکتے تھے،ہم اپنے گھر بھی تو واپس نہیں جا سکتے تھے۔

چنانچہ ابو نے ایک دوست سے بات کی، جس کے گھر کا ایک حصہ خالی تھا، تو انہوں نے ہمیں رہائش کیلئے دے دیا۔اور ہم خیمہ بستی سے نکل کر ابو کے دوست کے گھر کے خالی حصے میں آباد ہوگئے۔اور اب یہاں چار پانچ سال ہوگئے ہیں ہمارے۔

میں نے پوچھا کہ دلاور خان یہ تو بتاؤ کہ اب تمھارے کیا خواب ہیں اپنے پاکستان کے بارئے میں۔

تو دلاور خان نے بتایا کہ

خوچے منصور بھائی امارا کیا خواب ہوسکتا ہے۔ ام اپنا گھر جانا چاہتا ہے۔ اپنے گاؤں کو دیکھنے کو دل بہوت خواہش کرتا ہے۔امارا اپنا سکول جانا چاہتا ہے۔ ہمارا سبق درمیان میں رہ گیا ہے، اسکو مکمل کرنا چاہتا ہے۔

میں نے کہا کہ یہ تو آپ نے اپنی بات کی ،اسکے علاوہ بھی تو خواب ہوسکتے ہیں آپکے۔

تو انہوں نے بتایا کہ

منصور بھائی خوچہ خواب تو بہوت ہے لیکن کونسا کونسا خواب بیان کروں میں۔

اسی دوران میری نظر اسکے پیالے پر پڑی تو وہ خالی ہوچکی تھی، مجھے فورا خیال آیا کہ اگر اسکے خواب کے بارئے میں جاننا ہے تو اسکو ایک پیالی چائے اور پلانی ہوگی۔

چنانچہ بیرے کو ایک پیالی چائے اور لانے کا آرڈر دیا۔
بیرے کو چائے کا آرڈر دئے کر میں نے دلاور خان کو گویا خواب کی تفصیل بیان کرنے پر راضی کر ہی لیا ۔
چنانچہ دلاور خان میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے یوں گویا ہوا کہ

منصور بھائی خوچہ میرا خواب تو یہ ہے کہ امارا وطن دوبار امن والا بن جائے۔ امارا بڑا بڑا جو لوگ ہے، انکو یہ سبق مل جائے کہ یہ وطن امارا ہی ہے،اسکو لوٹنا نہیں چاہئے۔ امارا تعلیم خراب ہوگیا ہے۔ جس سکول میں ہم پڑھتے تھے ،اسمیں فوجی رہتے ہیں۔ہم کو بھی ڈر لگتا ہے ،سکول کو جانے میں کہ فوجی ماما غصہ نہ ہوجائے۔
ہمارا دل چاہتا ہے کہ امارا ابو یہی ہمارے ساتھ رہے،اور یہی کوئی روزگار کا ذریعہ بن جائے۔امارا چھوٹا بھائی جو ہے ،اسکو بھی سکول میں داخل کرنا ہے۔ لیکن وہ ہر وقت بیمار رہتا ہے۔ امارا دل کرتا ہے کہ کسی اچھا ڈاکٹر کو دکھائے لیکن اتنا رقم نہیں ہے۔ منصور بھائی تم تو جانتا ہے کہ ہمارا گذارا کس طرح ہوتا ہے۔

ہمارا دل چاہتا ہے کہ یہاں اچھا ہسپتال بن جائے ،تو پھر ہم اپنے چھوٹے کاکے بھائی کا علاج کروائے۔امارا دل کرتا ہے کہ ہم اس ملک میں خوش خرم رہیں ۔
ہمارا دل کرتا ہے کہ ہم یہاں چین وسکون سے رہیں۔امارا یہ خواب بھی ہے کہ ہم اچھا تعلیم حاصل کرکے بڑا آدمی بن جائے ،اور اپنے وطن کی ترقی کیلئے کام کرئے ۔
امارا دل بہوت کچھ چاہتا ہے ۔اسلئے ہم اللہ سے روز دعاء کرتا ہے کہ امارا ملک ایک اچھا ملک بن جائے۔

اسی دوران میں نے گھڑی کی طرف دیکھا تو کافی دیر ہوچکی تھی۔ دلاور خان کو بھی جانا تھا ،اپنے گھر ۔چنانچہ چائے کی پیالی پی کر ہم وہاں سے رخصت ہوئے اور میں اپنے گھر چلا آیا ،تاکہ دلاور خان کے خوابوں کو تحریر شکل دئے سکوں۔

نوٹ : کسی بھی بلاگ میں افراد کے خیالات سے متفق ہونا ادارے کے لیئے لازمی نہیں ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں