چوروں کے دل دھک دھک کیوں نہیں کرتے

مصنف : مستنصر حسین تارڑ

کبھی یوں ہوتا ہے کہ پوری صورت حال آپ کو متزلزل نہیں کرپاتی اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ صرف ایک سوال آپ کوپریشان کردیتا ہے اور وہ سوال کوئی اتنا اہم بھی نہیں ہوتا ٹیکنیکل بھی نہیں ہوتا․․․․․․․ نہ سیاسی ہوتا ہے اور نہ ادبی․․․․․․․ صرف ایک سوال ہوتا ہے کہ ایسے ہی سوال نے مجھے پچھلے چندروز سے پریشان کررکھا ہے ہوسکتا ہے آپ کے پاس کوئی جواب ہوا اس لیے وہ سوال میں آپ کے سامنے دہرائے دیتا ہوں․․․․․․․ چوروں کے دل دھک دھک کیوں نہیں کرتے؟
جی ہاں یہی سوال ہے کہ چوروں کے دل دھک دھک کیوں نہیں کرتے․․․․․․؟ کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جی نہیں چوروں کے دل دھک دھک کرتے ہیں لیکن صرف یہ کہہ دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ چوروں کے دل دھک دھک نہیں کرتے․․․․․․ صاحب کہنے لگے کہ جناب کی آپ جانتے ہیں فلاں صاحب کی کار میں سے ٹیپ ریکارڈرچوری ہوگیا ہے اور وہ اس طرح چوری ہوا کہ رات کا وقت تھا چور آئے پہلے گیراج کادروازہ کھولا پھراس میں بیٹھ کر اطمینان سے ٹیپ ریکارڈر نکالا اور چلے گئے․․․․․․․ یہ بات بہت ساری باتوں کے درمیان کہیں ہوئی اور میرے ذہن سے اترگئی ․․․․․․․ جب مہمان چلے گئے تو میرا چھوٹا بیٹا میرے پاس آیا وہ مسکرابھی رہاتھا اور اس کی آنکھوں میں شرارت کے علاوہ بے یقینی اور خوف بھی تھا کہنے لگاابو میں آپ کو ایک بات بتاؤں تو آپ ماریں گے تو نہیں․․․․․․ میں نے کہہ دیاکہ نہیں․․․․․․
وہ کہنے لگا ابو چور جوہیں یہ رات کے وقت اندھیرے میں آتے ہیں ڈرتے بھی نہیں․․․․․․․ پھر کسی اور کے گھر جاکران کے تالے توڑتے ہیں اور اطمینان سے چیزیں اکٹھی کرکے چوری کرلیتے ہیں اور انھیں کچھ بھی نہیں ہوتا؟․․․․․․․
میں نے پوچھا کہ بیٹے چوروں کو کیا نہیں ہوتا ہے؟
وہ مسکراتا ہوا بولا ابودن کے وقت جب روشنی ہوتی ہے تو اپنے کچن میں جاتا ہوں اور امی سے چھپ کر صرف ایک بسکٹ چوری کرتا ہوں تو اس وقت میرا دل کررہاہوتا ہے․․․․․ دھک ․․․․․․دھک ․․․․․․․دھک زور زور سے․․․․․․․ ابوچوروں کے دل دھک دھک کیوں نہیں کرتے؟
میں نے اس سوال کا جواب دینے کی ادبی اور سیاسی کوششیں کیں لیکن خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی یہ سوال مجھے پریشان کررہاہے․․․․․․․ اور اس لیے پریشان کررہاہے کہ صرف چوروں کے ہی نہیں ہم میں سے بہت سے سوں کے دل دھک دھک نہیں کرتے․․․․․․ ہم بڑے اطمینان سے ایسے کام کرتے ہیں جن کے کرنے سے ایک عام آدمی کادل نہ صرف دھک دھک کرتا ہے بلکہ سینہ پھاڑ کر باہر آجاتا ہے لیکن ہمیں کچھ نہیں ہوتا۔
بجلی والا کہتا ہے کہ آپ میرے ساتھ ٹھیکہ کرلیجیے اور آپ کا ماہانہ بل تیس روپے آئے گا․․․․․․
پانی والا بھی اسی قسم کی آفر کرتا ہے۔
افسر ٹھیکیدار کوکہتا ہے کہ اس ٹھیکے میں سے میری کوٹھی نکلنی چاہیے۔ ٹیکس والے کہتے ہیں کہ اتنے لاکھ ہمارے اور آپ کو اتنے لاکھ کی چھوٹ۔
پولیس ” مک مکا“ کے چکر میں ہوتی ہے۔
سیاست دان کہتا ہے کہ بس پاکستان اب ختم ہونے والا ہے اگر․․․․․․ بہت سے لوگ بہت کچھ کہہ رہے ہیں بہت کچھ کررہے ہیں اور ان میں سے کسی کادل نہیں دھڑکتا ․․․․․․․ یہ فہرست انتہائی طویل ہے رشوت وصول کرنے والے دینے والے بے ایمان بدمعاش چور قاتل اور وہ جود اس ملک کو اس ملک کے باشندوں کوکھارہے ہیں سب کے سب آرام سے سب کچھ کررہے ہیں اور ان کے دل نہیں دھڑکتے بھی میری کمیشن کتنی ہے؟․․․․․․․․ کیس کا فیصلہ تمھارے حق میں ہوگا لیکن مال کتنا لگاؤ گے․․․․․․ بینکاک سے دو پھیرے لے آؤ کسٹم پر میں انتظام کرلوں گا․․․․․․ ٹیم میں سلیکٹ ہونا ہے ناں کتنے پیسے دو گے؟ ․․․․․․ہم ایسے بے شمار فقرے سنتے رہتے ہیں اور ہمارے دل دھک دھک نہیں کرتے۔
ایک زندہ قوم کادل دھک دھک کرتا ہے․․․․․ ہمارا کیوں نہیں کرتا؟ کیا اس کے لیے ہمیں پھرسے بچہ بننا پڑے گا کیونکہ چوری کرتے ہوئے کم ازکم ان کا دل دھک دھک توکرتا ہے کہیں پوری قوم کے دل کی دھڑکن گم تو نہیں ہوگی․․․․․․․ میرا خیال ہے کہ نہیں اس قوم میں ابھی بہت سے ایسے بچے ہیں جن کے دل دھک دھک کرتے ہیں بچے زندگی کے مختلف شعبوں میں بکھرے ہوئے ہیں سول سروس پولیس انکم ٹیکس سیاست ادب․․․․․․․․ا ن جگہوں پرایسے بچے ابھی موجود ہیں جن کے دل دھک دھک کرتے ․․․․․ اور انہی کی وجہ سے پاکستان قائم ہے خدا کرے کہ ان بچوں کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھتی جائے․․․․․․․ دھک ․․․․․․․دھک ․․․․․․․․․․․دھک!!

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں