وقت نہیں ملتا۔۔۔

اگر آپ یہ پوسٹ پڑھ رہے ہیں تو آپ دنیا کے ان بہت کم لوگوں میں شامل ہیں جن کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ فیس بک پر کسی تصویر کو ”لائک” یا ٹوئٹر پر کسی ”ٹویٹ” کو ”ری ٹویٹ” کرنے کی بجائے یا اسکے ساتھ ساتھ کسی سنجیدہ موضوع پر کوئی تحریر پڑھ سکیں۔ ورنہ زیادہ تر لوگوں کو تو وقت ہی نہیں ملتا۔

لوگ کہتے ہیں کہ اہل حق کو پہچاننا مشکل ہے اس لئے وہ حق کا ساتھ نہیں دیتے۔ لیکن اگر اہل حق کی پہچان کروا بھی دی جائے تب بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔تب بھی بہت سے لو گ ایسے ہوں گے جو کہیں گے کہ

” ٹھیک ہے اہل حق کون ہیں سمجھ آگئی اللہ ان کو کامیابی دے۔ لیکن بھائی میں اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتا کیوں کہ ‘وقت نہیں ملتا’ ۔ مصروفیت اتنی ہے کہ نہ تو ٹھیک سے سو سکتا ہوں نہ ٹھیک سے کھا سکتا ہوں ۔ یہ مرحلہ گزر جائے پھر انشاءاللہ ضرور وقت دوں گا”

لیکن آخر یہ مرحلہ ہے کیا؟ آپ عمر کے کسی بھی حصے میں موجود کسی شخص سے پوچھ کر دیکھ لیں سب کی زبان پر یہی ایک شکوہ ہو گا، ”وقت نہیں ملتا”۔

کسی طالب علم سے بات کریں تو اسے اپنی پڑھائی سے فرصت نہیں۔کسی کے پیپر سر پر ہوں گے کسی کی ”اسائنمنٹ ” ہو گی کوئی ”کوئز” کے لئے پریشان ہوگا۔ دین کے لئے وقت نکالنے کی بات کریں گے تو جواب ملے گا کہ ابھی تو پڑھائی سے فرصت نہیں ملتی ذرا اپنی پڑھائی مکمل کر لوں پھر ضرور وقت دوں گا۔

طالب علمی کے زمانے کے بعد پھر نوکری لگ جاتی ہے تب یہی سوال دہرائیں گے تو پھر ویسا ہی جواب ملے گا کہ ابھی تو نوکری لگی ہے، ابھی آغاز ہے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ جتنے پیسے دیتے ہیں اتنے نکلوا بھی لیتے ہیں۔ ابھی تو بالکل بھی وقت نہیں ملتا بس ذرا منیجر لیو ل تک پہنچ جاؤں پھر ضرور وقت دوں گا۔

اسی طرح زندگی کے ادوار گزرتے رہتے ہیں اور انسان دنیا کی مصروفیات میں اور سے اور پھنستا چلا جاتا ہے، نوکری کے بعد شادی، پھر بچے، پھر بچوں کی تعلیم پھر ان کی شادی۔ انہیں سب مصروفیتوں میں پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ اس سارے دور کے اندر اسے کھیلنے کا وقت مل جائے گا، ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر گھنٹوں کرکٹ کے میچ دیکھنے کا وقت مل جائے گا، سوشل میڈیا میں ”لائکس” کا اور ”ری ٹویٹس” کا وقت مل جائے گا ، ہر نئی آنے والی ہندی و انگریزی فلم دیکھنے کا وقت مل جائے گا ، حتی کہ دوستوں کے ساتھ رات رات بھر بیٹھ کر گپیں ہانکنیں کا بھی وقت مل جائے گا، اگر نہیں ملے گا تو اس کام کے لئے وقت نہیں ملے گا جس کے لئے اللہ نے زمین پر بھیجا۔۔

ذرا کچھ وقت کے لئے اپنے دماغ سے تمام مصروفیات، کام ، باتیں، ہر چیز نکال کر ذہن کو بالکل خالی کر لیں اور پھر دنیا میں ہونے والے ان واقعات پر غور کریں۔

:۔ بیسویں صدی کے آغاز تک امت مسلمہ دنیا کی ایک سپر پاور تھی جسے جنگ عظیم میں توڑ کر چھوٹےچھوٹے چھپن ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا جن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں۔

:۔ بیت المقدس جو مسلمانوں کا قبلہ اول تھا وہ مسلمانوں سے چھین لیا گیا اور مسلمانوں کو ان کے اپنے علاقوں سے ہی بے دخل کر دیا گیا۔

:۔ کفار نے ، ملٹی نیشنل کمپنیوں،کنٹریکٹس، سفارت کاری، اور دوسرے بہت سے حیلوں بہانوں سے مسلمانوں کے اجتماعی وسائل پر قبضہ کیا۔

:۔ سپین، مشرقی ترکستان، شیشان، کشمیر اور فلسطین سمیت بہت سے مسلم خطوں کو مسلمانوں سے طاقت کے زور پر چھین لیا گیا۔

:۔ بھارت، کشمیر، فلسطین، برما ، چین حتی کہ بنگلہ دیش اور مصر میں بھی مسلمانوں کو صرف ان کے اسلام کی وجہ سے ہزاروں کی تعدادمیں قتل کر دیا گیا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

:۔ پوری دنیا میں نبی اکرم ﷺ کی توہین کی گئی ، ان کے خاکے بنائے گئے، قرآن مجید کے اوراق کی بے حرمتی کی گئی ان کو گٹروں میں بہایا گیا، ان کو جلایا گیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

ان واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے آپ سے چند سوالات کریں

:۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اوپر جو واقعات بیان کیے گئے ہیں ان سے متعلق بحثیت مسلمان آپ کا بھی کچھ فرض بنتا ہے؟

:۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی ذمہ داریوں کا دائرہ کار آپ کی اپنی ذات ، یا آپ کے خاندان یا آپ کے ملک تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ساری مسلم امت کے ساتھ ہے؟

:۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات اور زمین پر اپنا خلیفہ کیوں بنایا اور اس کا مطلب کیا ہے؟

:۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مرضی سے گزارنی چاہیے؟

:۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ آج اس دنیا میں جو بھی کام کر رہے ہیں اور جو کچھ بھی نہیں کر رہے اس سب کے متعلق قیامت کے دن آپ سے پوچھا جائے گا اور اسی کی بنیاد پر جنت اور جہنم کا فیصلہ ہو گا؟

:۔ کیا آپ نے کبھی قرآن و حدیث کو پڑھ کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ اللہ نے آپ کو کیوں پیدا کیا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ آپ سے کیا مطالبہ کرتے ہیں؟

یہ چند بہت ہی بنیادی سوالات ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے ہم میں سے زیادہ تر اپنے آپ سےایسے سوال پوچھتے تک نہیں ہیں وہ ان باتوں پر سوچنا ہی نہیں چاہتے۔ لیکن آج جب یہ سوال آپ کے سامنے آگئے ہیں تو اپنے آپ سے پوچھیں اور دیکھیں کہ آپ کو کیا جواب ملتا ہے۔ اگر تو ان سوالات میں زیادہ تر کا جواب آپ کو نہ میں ملتا ہے تو ذرا سوچیے کہ اس زندگی میں اور کسی جانور کی زندگی میں کیا فرق ہے؟ ایک جانور بھی بچپن ماں باپ کے تحفظ میں ان کی تربیت میں گزارتا ہے، وہ بھی بڑا ہو کر رزق کی تلاش میں نکلتا ہے، وہ بھی اپنی شریک حیات تلا ش کرتا ہے، وہ بھی اپنے بچوں کی پرورش کرتا ہے ان کے لئے رزق لے کر آتا ہے ان کے لئے گھر کا انتظام کرتا ہے اور انہیں پال پوس کر بڑا کرتا ہے؟ تو اگر انسان کی زندگی کا بھی یہی مقصد ہے تو کیا فرق ہے انسان اور جانور میں؟ کیوں کہا گیا ہے اسے اشرف المخلوقات۔ صرف اس لئے کہ جانور اپنی فطرت کے تحت یہ کام کرتا ہے اور انسان اپنی مرضی سے؟ یہ چیز تو انسان کی اشرف المخلوقات کی بجائے جانور سے بھی گرا دیتی ہے کیونکہ جانور کے پاس تو فیصلے کی طاقت ہی نہیں اور انسان کے پاس فیصلے کی طاقت ہے اور پھر بھی وہ ایسی حقیر زندگی کا فیصلہ کرتا ہے؟

آپ کے پاس کیا گارنٹی ہے کہ جو زندگی آپ گزار رہے ہیں اسی میں اگر موت آگئی تو آپ قیامت کے روز بچ جائیں گے اور جنت میں چلے جائیں گے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں بارہا فرماتے ہیں کہ ایسے ہی جنت میں نہیں چلے جاؤ گے۔ ایک موقع پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ایسے ہی جنت میں چلے جائیں گے جبکہ میں نے انہیں ابھی تک آزمایا ہی نہیں؟ اور ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسے ہی جنت میں چلے جائیں گے جبکہ ان پر وہ کچھ ابھی تک گزرا ہی نہیں جو ان سے پہلے والے لوگوں پر گزرا تھا۔

سوچیں اگر جو زندگی آپ گزار رہے ہیں اس کے نتیجے میں آپ جہنم میں چلے جاتے ہیں تو کیا ہو گا؟ آج آپ کی ایک انگلی کو آگ تو کیا کوئی گرم چیز ہی لگ جائے تو آپ تکلیف سے بلک اٹھتے ہیں تو وہ تو جہنم کی آگ ہے جس میں پورا کا پورا انسان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جلتا رہے گا؟ کیا آپ کو اس جہنم کی آگ سے ڈر نہیں لگتا؟ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ کیسا حوصلہ ہے ان لوگوں کا کہ انہیں جہنم کی آگ سے ڈر نہیں لگتا۔ اور اگر واقعی میں آپ کو جہنم کی آگ سے ڈر لگتا ہے تو سوچیں کہ آپ آج جو زندگی گزار رہے ہیں کیا وہ جہنم کی آگ سے بچانے کے لئے کافی ہے؟

ذرا سوچیں اور آج فیصلہ کر لیں کہ آپ اپنا مزید وقت لغویات میں ضائع نہیں کریں گے بلکہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی رضا کے حصول کے لئے وقف کریں گے چاہے اس کے لئے آپ کو اپنے دنیاوی کاموں کے وقت کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

اپنے آپ کو پہچانیں، اپنی قدر کو پہچانیں، اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھیں اور پھر دیکھیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ آپ سے کیا مطالبہ کر رہے ہیں پھر دیکھیں کہ حق اصل میں ہے کیا اور اہل حق کون لوگ ہیں۔

جب ان سب سوالوں کے جواب آپ کو مل جائیں تو پھر اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوارنے کے لئے اور اہل حق کا ساتھ دینے کے لئے نکل کھڑے ہوں۔ یاد رکھیں زندگی کے بڑے فیصلے، ایسے جو پوری زندگی بدل دینے کے قابل ہوں، پیچھے کھڑے ہو کر دیکھیں گے تو پہاڑ جیسے بڑے نظر آئیں گے اور آپ کو اپنی ہمت جواب دیتی محسوس ہو گی لیکن یقین کریں کہ جو فیصلے پہاڑ جیسے بڑے نظر آتے ہیں ان پر عمل کرنے کے لئے آپ کو صرف پہلا قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہےباقی آپ کے رستے خود بخود آسان ہو جاتے ہیں۔ بس آپ کو وہ پہلا قدم ہی اٹھانا ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کے وقت میں برکت عطا فرمائے اور آپ کے لئے خلوص نیت کے ساتھ حق کی جانب پہلا قدم اٹھانا سہل بنا دے۔ آمین

نوٹ : کسی بھی بلاگ میں افراد کے خیالات سے متفق ہونا ادارے کے لیئے لازمی نہیں ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں