طلباء مطالعہ کیوں اور کیسے کریں

تحریر : فارق طاہر

علم رب ذوالجلال کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔علم ہی کی ذریعے دنیا و آخرت کی فوز و فلاح حاصل کی جاسکتی ہے۔علم کو نہ تو دولت و طاقت کے بل پر حا صل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی وجاہت اور اقتدار کے ذریعے۔صرف تمناؤں اور آرزؤں کے ذریعہ بھی حصول علم ممکن نہیں ہے۔علم کا حصول ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔ یہ دولت انھیں عطا کی جاتی ہے جو اس کی سچی طلب رکھتے ہیں اور اس کے حصول میں ہمہ تن مصروف و مشغول رہتے ہیں۔ علم کی ترقی اور استحکام میں مطالعہ کی اہمیت و افادیت مسلمہ ہے۔ مطالعہ علم کی فروانی اور افزائش کا ذریعہ ہے۔علمی ترقی و عروج کا راستہ مطالعہ و کتب بینی سے ہوکر ہی گزرتا ہے۔مطالعہ و کتب بینی کے بغیر علم میں نکھار و کمال ناممکن ہے۔مطالعہ کی عادت کے ذریعہ ہی طلبا اپنی پوشیدہ صلاحیتوں اور علم و حکمت کے نوادرات کو اجاگر کر سکتے ہیں۔ہم سے پہلے کے زمانے کے طلباء میں مطالعہ کا جو ذوق و شوق پایا جاتا تھااب وہ ناپید ہوتا دیکھائی دے رہا ہے۔

سخت کوشی کے بجائے طلباء تن آسانی کا شکار رہورہے ہیں ۔ہمارے اسلاف جو راہ علم میں تکالیف برداشت کرنے میں مشہور تھے آج ہمارے طلباء سخت کوشی کے بجائے تن آسانی کو اپنائے ہوئے ہیں۔سخت کوشی اور مطالعہ کی کمی کے باعث ہمارے طلباء زندگی کے بلند مقاصد سے نا واقف ہیں۔ان کا علمی تبحر اور دائرہ علم بہت ہی محدود ہوچکا ہے۔طلباء اپنی قیمتی اوقات کو فضول تعلقات اور فضول گفتگو کی نذر کررہے ہیں۔لایعنی گفتگو اور لایعنی تعلقات ایک ایسا مرض ہے جو انسان کو کسی کام کا نہیں رکھتا۔طلباء کتب بینی اور مطالعہ کو اپنے روزمرہ کا معمول بنالیں تاکہ ان میں علمی تازگی باقی رہے اور ان کے علم میں روز افزوں ترقی ہوسکے۔مطالعہ کو صلاحیتوں کی بیداری کا ایک اہم وسیلہ قرار دیا گیا ہے۔کتب بینی اور مطالعہ نہ صرف طالب علموں کے لئے ضروری ہے بلکہ اساتذہ اور عام افراد کے لئے بھی کتب بینی اور مطالعہ نہایت ضروری ہے کیونکہ مطالعہ انسانی فکر و نظرمیں وسعت پیدا کرنے کا موجب ہے۔

ہر زمانے میں کتاب کی اہمیت و افادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ ہمارے اسلاف نے کتابوں کو بہترین دوست مونس و غم خوار قرار دیا تھا۔حضرت عمر بن عبدالعزیزؒکا فرمان ہے’’ میں نے قبر سے زیادہ واعظ ،کتاب سے زیادہ مخلص دوست اور تنہائی سے زیادہ بے ضرر ساتھی کوئی نہیں دیکھا۔

حضرت ابوالعباسؒ کا قول ہے کہ

کتابوں سے کسی فتنے اور بدمزگی کا اندیشہ نہیں ہوتا ،اور نہ اس کی زبان اور ہاتھ سے کوئی خطرہ ہوتا ہے۔

فارسی کا ایک معروف قول ہے کہ

ہم نشینی بہ از کتاب مخواہ کہ مصاحب بودگاہ و بے گاہ۔

ترجمہ:کتاب سے بہتر کوئی ہم نشین تلاش کرنا فضول ہے، یہ ہر موقع پر ہی ساتھی اور رفیق ہے۔

سکندر نے اپنے کتب خانے کو روحانی معالجہ کا نام دے رکھا تھا۔کاروائل کے مطابق’’کتاب دماغ کے لئے ایسی ہی ضروری ہے ،جیسے جسم کے لئے غذا ضروری ہے۔‘‘مطالعہ کے لئے کتاب ضروری ہے اور کتاب وہ واحد ذریعہ ہے جو حصول علم میں کلیدی کردار کاحامل ہے۔آج کا دور معلومات کے حساب سے (Kknowledge Explosion)علمی انفجار کا دور ہے۔معلومات کا ایک سیل رواں ہے جو کہ امڈتا چلاآرہاہے۔کتب خانو ں کی شکل آج کسی قدر تبدیل ہوچکی ہے۔موبائل فون،انٹرنیٹ،شوشل میڈیا ،معلومات کی ترسیل کے اہم ذرائع تصور کیئے جار ہے ہیں۔اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اس سیل رواں سے کیسے بچ سکتے ہیں اور کس قدر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔معلومات کے اس امڈتے سیلاب سے بچاؤ کا مطلب ہے کہ ہمیں کیا اور کتنا پڑھنا ہے اور کونسے مطالعے سے اجتناب کی ضرورت ہے۔

محمد بشیر جمعہ اپنی کتاب شاہراہ زندگی پر کامیابی کا سفر میں رقم طراز ہیں کہ ایکصاحب اپنے ذوق مطالعہ کی تسکین کے لئے ٹیلی فون ڈائریکٹری پڑھتے رہتے تھے۔کیا ٹیلی فون ڈائریکٹری کا مطالعہ ذوق کی تسکین ہے یا پھر تضیع اوقات ۔اس ضمن میں اسلاف کا قول نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آپ صاحب مال نہیں ہیں تو زکوۃ کا علم آپ کے لئے ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ بھی تضیع اوقات میں سے ایک ہے۔ معلومات کے اس سیلاب سے فائدہ اس وقت حاصل کیاجا سکتا ہے جب طلبا میں یہ شعور جاگزیں ہوجائے کہ انھیں کیا اور کتنا پڑھنا چاہئیے تاکہ وقت ضرورت وہ ان سے فائد اٹھا سکیں۔مطالعہ ایک فن ہے۔اس فن سے واقفیت تعلیمی سفر کو آسان اور کامیاب بنا دیتی ہے۔جو طلبا مطالعہ کے فن سے آگہی نہیں رکھتے ہیں باوجودسخت محنت کے بھی ان کا کارکردگی تسلی بخش نہیں ہوتی ہے۔بہتر تعلیمی کارکردگی کے لئے طلبا ء کو فن مطالعہ کے زرین اصولوں سے متصف کرنا ضروری ہے تاکہ وہ کم وقت اور تھوڑی محنت سے بہتر اور نمایا ں کامیابی حاصل کرسکیں۔

مطالعہ کے بنیادی اصول؛۔مطالعہ کے چند اصول ہوتے ہیں ان اصولوں پر عمل پیر ا ہوکر مطالعہ کو سود مند اور تضیع اوقات سے پا ک بنایا جاسکتا ہے۔۔مطالعہ کے تعلق سے اس بات کا علم ضروری ہے کہ ہمیں کیا پڑھنا ہے، کیوں پڑھنا ہے اور کیسے پڑھنا ہے ۔انھیں عناصر کو مطالعے کے اصول کہا جاتا ہے۔

کن کتابوں کا مطالعہ کیا جائے:۔ ہر چھپا ہوا مواد مطالعے کے لائق نہیں ہوتا۔تمام چھپے ہوئے مواد یا کتابوں کے مطالعے کی ہماری مصروف زندگی اجازت بھی نہیں دیتی۔کتابوں اور مواد کے انتخاب میں ازحد احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔کتاب کے انتخاب کے دوران اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کتاب غیر ضروری نہ ہو اور اسکول و کالج کے طلباء کے لئے یہ پابندی بھی ضروری ہے کہ وہ کتاب غیر نصابی بھی نہ ہو۔غیر نصابی کتب کا مطالعہ فارغ اوقات میں کریں ۔ غیر نصابی مواد کے مطالعے کے وقت خیا ل رہے کہ اس سے تعلیمی سرگرمیوں اور کارکردگی میں کوئی حرج واقع نہ ہو۔غیر نصابی کتب کے مطالعہ میں ہمیشہ معتبر اور مستند مصنفین کی کتب کا ہی مطالعہ کریں تاکہ مسائل میں الجھنے سے کماحقہ بچا جا سکے۔مطالعہ میں احتیاط لازمی ہے ۔نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کو توریت جیسی آسمانی کتاب کے مطالعہ سے منع فرماکر ہماری توجہ اسی جانب مبذول کروائی ہے۔طلباء کے لئے کتابوں اور مطالعہ کے مواد کے انتخاب میں اساتذہ کی رہنمائی بہت ضروری ہے۔

مطالعہ کیوں کیا جائے:۔علم کامطلوب و مقصود رضاء الہی کا حصول ہے۔مطالعہ علم کے اضافے کا باعث ہوتا ہے۔اسی لئے مطالعہ بھی رضائے الہی کے لئے کیاجائے۔مطالعہ اورحصول علم کے مقصد کی اہمیت کو اجاگر کرنے والاامام الغزالی کا واقعہ سنہری الفاظ میں لکھے جانے کے لائق ہے۔ نظام الدین طوسی وزیر اعظم شاہ سلجوق نے اپنے ذاتی مصارف سے ایک مہتم بالشان عظیم مدرسہ جامعہ نظامیہ بغداد کا 459 ہجری مطابق1066 میں قیام عمل میں لایا ۔زرکثیر خرچ کرنے کے بعد جب اس مدرسے نے اپنی تعلیمی خدمات انجام دینے شروع کی تب نظام الدین طوسی نے اس کے معائنے کا ارادہ کیا۔نظام الدین طوسی جب مدرسے نظامیہ تشریف لیجاتے ہیں اور طلباء سے پوچھتے ہیں کہ ان کے علم حاصل کرنے کا مقصد کیا ہے۔ایک طالب علم کہتا ہے کہ اس کے والد بادشاہ کے وزیر ہیں ان کے بعد وہ عہدہ اسی کو ملے گا اسی لئے وہ علم حاصل کر رہاہے ۔دوسرا جواب دیتا ہے کہ اس کا والد بادشاہ کی فوج کا سپہ سالار ہے اس کے باپ کے بعد یہ عہدہ اسے ہی ملے گا اسی لئے وہ علم حاصل کر رہا ہے۔

الغرض طلباء کے جوابات سے نظام الدین طوسی کو بہت رنج ہوا اور وہ مایوس اور دلگیر جب مدرسے سے لوٹ رہاتھا تو دیکھتا ہے کہ ایک طالب علم مشعل کی روشنی میں مدرسے کے کوریڈور میں مطالعہ میں مشغول ہے۔نظام الدین طوسی لڑکے کے قریب پہنچ کر سوال کرتا ہے کہ وہ علم کیوں حاصل کر رہا ہے۔لڑکا جواب دیتا ہے کہ وہ علم اس لئے حاصل کررہا ہے کہ ان باتوں کاعلم حاصل کرلوں جس سے اﷲ کی خوشنودی حاصل ہوجائے اور ان باتوں سے خود کو روک لوں جس سے اﷲ ناراض ہوجاتے ہیں۔نظام الدین طوسی بچے کے جواب سے بہت متاثر ہوتا ہے اور رنج و تردد اس کے دل سے دور ہوجاتا ہے ۔یہ لڑکا جس نے علم کے حصول کے نہایت پاکیزہ مقصدکو ظاہرکیا ،دنیائے علم آج اسے امام الغزالی کے نام سے یا د کرتی ہے۔جب مقاصد اعلی و ارفع ہوں گے تب کامیابی بھی اتنی ہی شاندار ہوگی۔اسی لئے مطالعہ کا مقصد حصول علم توہونا ہی چاہیئے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان باتوں کا علم بھی ہونا چاہیئے جو اپنی ذات اور دنیا کے لئے نافع ہو۔لایعنی کتب کا مطالعہ وقت کو برباد کرنا ہے۔ا س سے فائدہ تو کجا نقصان بہت زیادہ ہوں گے۔

مطالعہ کیسے کیا جائے؛۔ امتحان کی تیاری کے لئے کیئے جانے والے مطالعے اور خارجی مطالعہ کے لئے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کا انحصار طلبا ء کی پسند اور طبیعت پر ہوتا ہے۔چند بنیادی باتوں کا خیال رکھتے ہوئے طلباء مطالعہ کو موثر اور امتحانات میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔اکثر طلباء مطالعہ کے بنیادی اصولوں سے عدم آگہی کی وجہ سے غلطیوں کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔اکثر طلباء نصابی مطالعہ کو اہمیت نہیں دیتے ہیں اور امتحانات سے صرف چند مہینے یا پھر چند ہفتے قبل تیاری کرتے ہیں۔طلباء کے لئے مطالعہ کی یہ حکمت عملی بہت ہی نقصاندہ ہے۔طلباء خود کو سال بھر تعلیمی سرگرمیوں اور مطالعہ میں مصروف رکھیں۔نصاب میں شامل تمام مضامین کے مطالعے کے لئے منا سب وقت فراہم کریں تاکہ فقید المثال کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں۔ نصابی مواد (نوٹس ) کو اسکول اور گھر پر لگاتار دہرانے سے معلومات ذہن نشین ہوجاتے ہیں اور امتحان کے دوران طلباء ذہنی اضطراب اور عدم اعتمادی سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔اساتذہ کی جانب سے فراہم کردہ نوٹس کا گھر پر مطالعہ کرنے سے طلباء آسانی سے نفس مضمون کو سمجھ سکتے ہیں۔

طلباء غیر نصابی مواد کے مطالعہ پر وقت ضائع نہ کریں۔ہر مضمون کے ایک موضوع کی تکمیل کے بعد دوسرے مضمون اور موضوع کی جانب پیش قدمی کریں۔ایک موضوع کی تکمیل کے بعد ازخود اپنا جائزہ لیں۔تجربہ کار اساتذہ کی جانب سے تیار کردہ سوالنامہ یا پھر خود کاتیار کردہ سوالنامہ ترتیب دے کر سوالات کو متعین وقت میں حل کریں۔جوابات کی تنقیح و جانچ کا کام ایمانداری سے خود انجام دیں۔جانچ کا کام خو د انجام دینے سے طلباء اپنی خامیوں اور غلطیوں سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور مستقبل میں اس کو نہیں دہرا تے ہیں۔ مطالعہ کردہ مواد یا کتاب کو بند کر تے ہوئے اکتساب شدہ معلومات کا اعادہ کریں۔ مطالعہ کے دوران ہر صفحہ کے اہم نکات کو ضبط تحریر میں لائیں۔ اعادہ کو تحریر ی صورت دینا اور اصل ماخذ سے اس کا موازنہ طلباء کے لئے نہایت سودمند ہوتا ہے۔ مطالعہ کے دوران اہم نکات واقعات اور تواریخ کو قلم بند کریں۔ماہرین تعلیم و نفسیات نے مطالعہ کے لئے چار بنیادی اصولوں کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔

طلباء نصابی متن کاروزانہ چند صفحات سے زیادہ مطالعہ نہ کریں۔متن کا خلاصہ فی الفور تحریر کرنے سے مطالعہ کی تاثیر میں اضافہ ہوتاہے۔مضامین اور موضوعات کا ترتیب وار مطالعہ طلباء کے فہم پر خوش گوار اثر ڈالتا ہے۔موضوع کی تفہیم کے بغیر رٹا لگانا وقت کا ضیاع تصور کیا جاتا ہے۔

پرانی معلومات اور موضوعات کو ذہن نشین کرنے کے بعد ہی نئے موضوعات اور مضامین کی جانب پیش قدمی کرنی چاہیئے۔طلباء انفرادی اور اجتماعی مطالعہ سے بھی فیض اٹھا سکتے ہیں۔اجتماعی مطالعہ سے افہام و تفہیم میں ساتھیوں کی ممکنہ مد د سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

رٹا لگانا ہمیشہ برا نہیں ہوتا ہے۔ فارمولے(ضابطوں) ،تواریخ ،خاص قسم کی تعریف (تشریح) کو سمجھ کر یاد کرلینا اچھا ہوتا ہے۔مطالعہ کردہ مواد کو تکرار اور باربار تحریر کرتے ہوئے بہتر طریقے سے یاد رکھا جاسکتا ہے

باقاعدگی سے جماعت میں حاضری اور اساتذہ کے لیکچر س کی باقاعدہ سماعت مطالعہ میں بہت مدد گار ثابت ہوتی ہے۔

مطالعہ کی یومیہ مقدار کیا ہو؛۔مطالعہ کی مقدار اور وقت کا تعین طلبا ء کی دلچسپی اور معلومات کے انجذاب کی کیفیت پر منحصر ہوتاہے۔طلباء روزانہ اتنا مطالعہ کریں جس کو وہ آسانی سے ذہن میں محفوظ کر سکیں۔طلباء اس وقت تک مطالعہ میں غرق اور مصروف رہیں تا وقتیکہ وہ بوریت اور اکتاہٹ کا شکارنہ ہوں۔جب بھی اکتا ہٹ اور بوریت کا احساس ہو مطالعہ کو فوری ترک کردیں۔عموما دن میں پانچ گھنٹے خود کار مطالعہ (Self-Study)کو سازگار کہا گیا ہے۔ابتدا طلباء مطالعہ کے دوران جلدہی اکتاہٹ کا شکار ہوسکتے ہیں لیکن روزانہ باقاعدہ مطالعہ کی عادت کے ذریعہ ان میں دلچسپی اور مطالعہ سے حظ اٹھنے کی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔مطالعہ سے ذہنی تھکاوٹ کا احسا س لازمی ہے۔نیند کے ذریعہ جسمانی اعضا کو آرام ملتا ہے جب کہ نیند ذہنی تھکاوٹ کو دور کرنے میں اتنی سود مند نہیں ہوتیہے جتنا مطالعہ کے فوری بعد کھیل کود اور چہل قدمی ذہنی تھکاوٹ کو دور کرتیہے۔کھیل کو د اور چہل قدمی طلباء میں تازگی بھر دیتی ہے جس سے وہ پھر اپنے آپ کو مطالعہ کے لئے تازہ دم اور تیار پاتے ہیں۔

مطالعہ شدہ مواد کو کیسے یاد رکھا جائے؛۔نصابی مواد کو یاد کرنے کے بعد اس کو لکھنے سے مطالعہ مستحکم اور مضبوط ہوجاتاہے۔یادکردہ مواد کو لکھنے سے معلومات نہ صرف ذہن نشین ہوجاتے ہیں بلکہ طلباء اپنی غلطیوں کی بھی آسانی سے نشاندہی کرسکتے ہیں۔مواد کو یاد کرنے کے بعد لکھنے سے نہ صرف لکھنے کی مشق ہوتی ہے بلکہ لکھنے کی رفتار میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔مطالعہ شدہ مواد کو یاد رکھنے کے لئے سمعی و بصری تعلیمی سہولتوں کا بھر پور استعمال کریں۔مشہور چینی کہاوت ہے کہ ’’کسی چیز کو ایک بار دیکھنا ہزار بار سننے سے بہتر ہے۔‘‘موثر مطالعہ کے لئے اچھا، پرسکون اور آرام دہ ماحول ضروری ہوتا ہے۔

مطالعہ کے دوران توجہ کو منتشر کرنے والی چیزوں شور،ٹی وی اور موبائیل فونس وغیر ہ سے دور رہیں۔مطالعہ کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں لوگوں کا آنا جانا نہ ہو اور ماحول خاموش اور پرسکون ہو۔مطالعہ کے لئے قدرتی روشنی اور تازہ ہوا اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔اگر قدرتی روشنی میسر نہ ہوتو ایسی روشنی کا استعمال کریں جو قدرتی روشنی سے ہم آہنگ ہو۔مطالعہ کے دوران درپیش اشیاء ڈکشنری،پین، پنسل،مارکر،ربڑ،پٹری اور قلم تراش وغیرہ کو اپنے پاس رکھیں تاکہ مطالعہ میں خلل نہ پڑے۔ روزانہ مطالعہ کے لئے ایک وقت مقرر کرلیں اور اس وقت مطالعہ کے سوا کوئی دوسرا کام انجام نہ دیں۔طلباء مذکور ہ بالا امور پر توجہ مرکوز کر تے ہوئے اپنے مطالعہ کو بامعنی اور با اثر بنا سکتے ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں