ملک نورزمان صاحب

download download-1

قوموں کی زندگی بنانے یا فرد کی تقدیر بدلنے میں استاد کا بہت اہم کردار ہے۔ وہ انسان کو بام عروج تک

پہنچاتے ہیں۔ والدین زمین پر پہنچانے کا سبب بنتے ہیں تو استاد آسمانوں کی رفعتوں تک پہنچادیتے ہیں۔

تعلیمی میدان کے لحا ظ سے فتح جنگ کی ایک انتہاییٗ اہم اور نامور ہستی ملک نور زمان صاحب کی ہے۔

 جوکہ فتح جنگ ہاییٗ سکول میں بطور استاد اور پھر ہیڈماسٹر بہت طویل عرصہ تک تغینات رہے۔  سکول کی  نوے سالہ تاریخ میں ان کا ہیڈماسٹری کا دور سب سے طویل ہے۔ وہ1960ء میں ہیڈ ماسٹر کے منصب پرفایٗزہوےٗ۔اور ماشاء اللہ 33 سال سروس کے بعد 1993ء میں ریٹایٗرڈ ہوےٗ۔انہوں نے اس ادارے کو اپنی محنت،لگن اور جانفشانی سے چار چاند لگا دیے۔

جگر کا خون دے دے یہ بوٹے میں نے پالے ہیں

ملک نور زمان صاحب  1938ء میں تحصیل جنڈ کے گاوٗں رنگلی کے ایک متمول زمیندار گھرانے میں پیدا ہوےٗ۔ان کے والد بھی پڑھے لکھے انسان تھے۔ابتداییٗ تعلیم سنا تن دھرم سکول جنڈ سے حاصل کی۔ جہاں لالہ مرناتھ اور لالہ بھوانی داس ان کے استاد تھے۔ ساتویں جماعت میں تھے کہ تشکیل  پاکستان  ہوگیٗ۔ پھر انہوں نے سر سکندر میموریل سکول بسال میں داخلہ لے لیا۔ جہاں مایہ ناز استاد نذیر قریشی کے شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ جن کے بیٹے پاک فوج کے نامور آفیسر اور سابق آییٗ ایس آییٗ چیف جنرل ر شجاع پاشا ہیں۔

 میٹرک تک اٹک کے سکول سے تعلیم حاصل کی۔میٹرک 1950 میں کیا۔  حضرو کی ایک سیاسی  شخصیت  ملک امین اسلم کے دادا ان کے  کلاس فیلو تھے۔  اٹک کالج میں پروفیسر سعادت علی خان۔ کمانڈر ظہور اور پروفیسر عثمان کے شاگرد رہے۔ بطور استاد ملازمت کا آغاز 1960ء میں حسن ابدال سکول سے کیا۔پھر فتح جنگ ہاییٗ سکول آگے ٗ اور یہیں رچ بس گےٗ۔ ہمارے انہی عظیم اساتذہ میں ملک نورزمان صاحب بھی شامل ہیں۔12اپریل 1967ء کو میں چھٹی جماعت میں داخلے کے لیے گورنمنٹ بوایٗز ہاییٗ سکول نمبر ایک فتح جنگ گیا۔ڈھلتی شام اور لمبے ساےٗ تھے۔مطلع صاف اور دن کی چمکتی روشنی اب ماند پڑ رہی تھی۔

والد صاحب کے ساتھ سکول کے دفتر میں داخل ہوا۔اس وقت ہیڈماسٹر محترم الحاج فیض الحسن شاہ صاحب تھے۔ دفتر ہی میں خان محمد اقبال خان صاحب  اور ملک نورزمان صاحب بھی موجود تھے۔جن سے پہلی دفعہ  میرا تعارف ہوا۔

خان محمد اقبال خان صاحب تو ہمیں چھٹی جماعت سے ہی انگریزی پڑھانے لگے۔ ملک نورزمان صاحب اس وقت مشہور زمانہ سیکنڈ ہیڈ ماسٹر تھے۔ سیکنڈ ہیڈ ماسٹر ہونے کے باوجود سکول پر رعب اور دبدبہ انہی کا چلتا تھا۔دبلا پتلا  سمارٹ جسم، ہمیشہ صاف ستھرے پینٹ سوٹ میں ملبوس  ہوتے۔ سردیوں میں سوٹ میں ملبوس ہوتے۔تیز چلتے، تیز بولتے اور تیزی سے حکم چلاتے۔ یوں محسوس ہوتا جیسے اس مختصر جسم میں بجلیاں بھری ہوییٗ ہیں۔

ملازمت کے بعد ملک نور زمان صاحب یاداللہ میں محو ہوگےٗ۔اللہ تعالی کے گھر اور حضوراکرمﷺ سے محبت کی دولت مل گیٗ۔ہر سال حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور اب تک ماشاء اللہ اکیس حج کرچکے ہیں۔

یاد کرتا ہے زمانہ انہی انسانوں کو
روک لیتے ہیں جو بڑھتے ہوےٗ طوفانوں کو

fatehjangcity-high-school-no-1



تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں