صرافہ بازار

صرافہ بازار فتح جنگ کی ایک انتہاییٗ اور پرانی تجارتی گلی ہے۔جوکہ پہلوان چوک سے پرانے لاری اڈے کی طرف جاتی ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے تو یہ صرف ایک گلی تھی۔اور اس میں قدیم مکانات تھے جوکہ ہندووٗں کی ملکیت تھے۔جوکہ سناروں کا کام کرتے تھے,جن میں کچھ اب بھی باقی ہیں۔

پرانے مکانات جن میں سے کچھ اب بھی موجود ہیں۔ ان میں سے تین مکان ایک جیسے ہیں۔ ۔ وہ مکانات پہلے بابو عبدالرزاق کی ملکیت تھے پھر انہوں نے یہ بعد میں فروخت کردیے تھے۔ ان عمارتوں کے ساتھ ہی سردار کوٹ (سردار نواز خان) کا ایک بہت ہی خوبصور ت بنگلہ تھا۔جس کی اونچی چھت والی عمارت، بڑا سا دالان اور مخصوص ڈاٹوں والا گیٹ تھا۔جوکہ اب سیکرٹری محمد امین مرحوم کے بیٹوں کے پاس ہے

صرافہ بازار فتح جنگ میں غالبا پاکستان بننے کے بعد دوکانیں قایٗم ہونا شروع ہوییٗں۔اس بازار میں سب سے  پہلی دوکان محمد یونس کے والد عبدالغفور کی تھی جوکہ سایٗکلوں کی مرمت کا کام کرتے تھے۔جوکہ اب بھی قایٗم ہے۔ اس دوکان کے ساتھ ہی دو دروازوں والی دوکان میں روییٗ کی سیل کا کام ہوتا ہے۔ اس بازار میں اب سناروں کے بجاےٗ لوہے،آہن گری اور لکڑی کے بنے زرعی آلات کی زیادہ دوکانیں ہیں۔ ان دوکانوں میں لوہاروں کی بھٹیاں لگی ہیں جن کے محنت کش ہاتھوں میں لوہا بھی پگھل جاتا ہے۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اسی بازار میں اہل حدیث کی ایک خوبصورت مسجد بھی واقع ہے

fatehjangcity-com_7a90b673-82cf-48bc-ad72-19a21e0782f2226201634030_medium

fatehjangcity-com_fffa4f5b-acdf-4036-8909-c960c4ff8f6622620164418_medium

download

fatehjangcity-com_b6d4f865-e458-477f-8611-49bb24a3246b226201634534_medium

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں