رتہ سکول اور تاج صاحب

زندگی کی بند گلی چند قدموں کی بات ہے۔عمر شبانی سے کلیمی دو قدم ہے۔لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ کوئی سیپ میسر آئے۔
رتہ سکول سے پرانی ہسپتال تک کا فاصلہ چند قدم کا ہے۔

یہیں سے ایک گلی سیدھی رتہ سکول کوجاتی ہے۔آج جوکچھ ہے مبلغ اسی ادارہ کی دین ہے۔ اور اس میں جگمگاتا نام  میرے استاد تاج صاحب کا ہے۔ وہ میری زندگی میں نہ ہوتے تو شاید میں یہ بھی نہ ہوتا۔ رتہ سکول (گورنمنٹ بوایٗز ہاییٗ سکول نمبر دو فتح جنگ) کی  سرخ عمارت جوکہ 1860ء میں بنی  اس کی تختی اب بھی نصب ہے۔جس پرضلع پنڈی کے میجر ہال کانام لکھا ہے۔اور فتح جنگ کے تحصیلدار امریک سنگھ کا تذکرہ ہے۔عمارت پتھروں سے بنی تھی۔جس پر سرخ راکی کا پلستر تھا۔کیونکہ یہ سیمنٹ سے پہلے کی دور کی عمارت ہے۔اس  سرخ راکی کی وجہ سے عمارت کا رنگ سرخ تھا۔اور اسی وجہ سے سکول کا نام بھی رتہ سکول مشہور ہوا۔

مربع شکل کی اس پرانی عمارت میں  مغرب، شمال اور جنوب کی طرف کمرے اور آگے برامدہ تھا۔مشرق کی سمت راہداری اور اس رستہ کے دونوں طرف کمرے تھے۔ باہربہت بڑا مخروطی پھاٹک نما دروازہ تھا۔جیسے کے اب فتح جنگ  تھانے کی عمارت کا ہے۔ دروازہ بھی سرخ رنگ کا تھا۔ اس عمارت کے باہر شاید اگلے کسی وقتوں میں دوکمرے شمالا جنوبا بھی تھے۔اور باہر ایک اصافی پھاٹک تھی۔ اس کا وقت کا سارا سکول یہی تھا۔موجودہ عمارت بالکل مختلف انداز کی ہے۔پرانی عمارت کو گرا کر اس کی تعمیر کی گئی ہے۔

اٹھارہ سو ساٹھ  عیسوی سے1960ء تک سو سال کا عرصہ بنتا ہے۔ میں پرانا ریکارڈ دیکھتا رہا۔بڑے بڑے نام تھے۔ مسلم ہندو اور سکھ اساتذہ کے نام تھے۔ انہی میں ایک نام ماسٹر دیوان چند مہتہ کا نام تھا۔ جوکہ اس گھر میں مقیم تھے جہاں اب کالا پیر صاحب کے صاحب زادے رہتے ہیں۔ سارے محلے میں بابا امیر سلطان کرانچی والے کے والد بھی اولین مدرسین میں سے تھے۔ان کے شاگردوں میں محلے کے ماسٹر مرزا محمد نواز اور تایا دادوخان شامل ہیں۔

میری یادوں کا سلسلہ 1962ء سے شروع ہوتا ہے۔اس وقت ہیڈ ماسٹر مشہور زمانہ ہستی قاضی محمد دین بشارت تھے۔ ان کا تعلق کسی گاؤں سے تھا۔بہت معتبر ہستی تھے۔ شعر و ادب سے دلچسپی تھی اور اپنی  یہی خوبی  اپنے بچوں میں بھی پیدا کی۔شملے والی پگ باندھتے۔ہاتھ میں کھونڈی(عصا)۔اچکن یا کوٹ زیب تن کئے ہوتے۔

ان کی نوکری کے آخری آخری سال تھے۔سن 66ء میں میں پانچویں جماعت میں تھا۔ستر سے زیادہ طالب علم تھے۔پانچویں کے  دو  سکیشن تھے۔ایک سیکشن کے  انچارج نور محمد صاحب تھے (جوکہ ماشاء اللہ اب بھی وثیقہ نوس کے طور پر کام کر رہے ہیں) اوردوسرے سکیشن کے انچارج تاج صاحب تھے۔باہمی رضا مندی سے دونوں سکیشن ملا دیے گئے۔ان  دونوں سیکشنوں میں سے  آٹھ دس لڑکوں کا انتخاب ہوا۔جنہوں نے وظیفہ کا امتحان تھا۔اور ان خوش نصیبوں میں  راقم بھی شامل تھا۔

یہیں سے میری زندگی کا حسین دور شروع ہوا۔اور مجھے  تاج صاحب جیسی ہستی کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ دھان پان شخصیت، درازقد۔گھنگریالے بال۔گندمی رنگت۔سگریٹ کے کش لگانے والے۔کھلی ڈلی طبیعت والے۔تعلیم کے معاملے میں انتہاییٗ حساس۔تعلیم ان کی بے شک بعد میں ملنے والے اساتذہ سے کم تھی لیکن ان پر یونیورسٹی کے استاد بھی قربان تھے۔ ایسی لگن، توجہ  اور چاہت پھر کبھی زندگی میں نصیب نہ ہوییٗ۔ علی الصبح کلاس میں آجاتے۔گلے کے بٹن کھول کر پڑھاتے۔اور جوتیاں اتار دیتے۔تاج صاحب ہمیں دو مضمون پڑھاتے تھے۔ایک حساب(میتھ) اور دوسری انشاء پردازی۔آج میں جو حقیر حرف لکھنے کے قابل ہوا ہوں  اس میں انہی کی ذات گرامی کا بڑا حصہ ہے

بلیک بورڈ پر لکھتے تو جیسے موتی پرو دیتے۔پچی کاری اور کاشی کاری دولفظوں کی داستان بیان کی۔آج نصف صدی بعد بھی وہ باتیں روح میں اتر جاتی ہیں۔اورانہی موتیوں سے زندگی کی مالا کو ترتیب دیتا ہوں۔آج میں جو کچھ ہوں  اوت جوچند باتیں لکھنے اور سمجھنے کے قابل ہوا ہوں۔ یہ انہی کی بدولت اور ان کا فیض عام ہے۔ اور میں اس ہستی کو  زندگی کے کسی لمحے فراموش نہیں کرسکتا۔
انہوں نے حساب کے چند کلیے بتاےٗ تھے۔آج جو اس عمر کے اس حصہ تک زمین کی پیمایٗش سے دلچسبی اور محکمہ مال کے کاغذوں سے استفادہ کیا، انہی کے بتاےٗ کلیوں کی بدولت کیا۔

جب  وظیفہ کے امتحان کے لیے ہم منتخب کرلیے گےٗ تو  تحصیل دفتر فتح جنگ کے پرایٗمری سکول میں وظیفہ کا امتحان ہوا۔ جو دومرحلوں میں مکمل ہونا تھا۔پہلے ریاضی کا پرچہ تھا اور پھر انشاء پردازی کا۔ تاج صاحب ہمارے امتحان کے دوران سارا وقت سکول کے باہر سڑک پر گھومتے رہے۔اسی دوران شدید تھکن سے بخار ہوگیاتھا۔ اور سر پر پٹی باندھی ہوییٗ تھی لیکن امتحان کے دوران اپنے طالبعلموں کی وجہ  سے آرام کرنا  گوارا نہ کیا۔

تاج صاحب جیسی بے لوث اور بہتریں استاد جیسی ہستی کو میں آج بھی بہت شدت سے یاد کرتا ہوں۔میرے دامن میں ان کے عطاکردہ پھولوں کے سوا کچھ نہیں۔زندگی کی بند گلی ہے اور اس میں تاج صاحب جیسی ہستیوں کی عطاکردہ روشنیوں کے اجالے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

 

fatehjangcity-com_3b1af0ed-120f-4c24-b98b-f071c5849e9922220164208_medium

fatehjangcity-com_3b56b6ec-4abf-428d-b7c2-dccd9bac7a392202016233134_medium

fatehjangcity-com_d7f2615a-15a4-4869-aab4-3d81d591ec43220201623322_medium

fatehjangcity-com_e9821d7d-f275-4a6a-b409-0c7be2919ecb2202016233151_medium

fatehjangcity-com_ea51af9d-3d0b-4b47-b99f-a47fbf2430a92202016233121_medium

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں