لیڈی ڈاکٹر والا بنگلہ

فتح جنگ کی پرانی ہسپتال کا تذکرہ راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ گز ٹیر 1893ء میں موجود ہے۔اس کا مطلب ہے کہ یہ ہسپتال پہلے سے قائم شدہ ہے۔محکمہ مال کے کاغذات کے مطابق یہ خسرہ نمبر2534 والی زمین ہے۔ جس کا رقبہ سات کنال تین مرلے ہے۔صوبائی حکومت شفا خانہ کے نام سے موجود ہے۔ درمیان میں سڑک ہے۔

 سڑک کے مشرق میں ہسپتال اور مغرب میں کسی زمانے میں لکڑی کی وارڈ اور ساتھ ہی لیڈی ڈاکٹرکی رہائش کا بنگلہ موجود تھا۔ وارڈ تو ختم ہوگئی۔ مگر ماشاء اللہ لیڈی ڈاکٹر کا بنگلہ موجود ہے۔

لیڈی ڈاکٹر کے بنگلہ میں  اب ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر  ہیلتھ کا دفتر ہے۔ اسی ہسپتال کا مردہ خانہ بھی تھا۔ جس کا رقبہ ایک کنال سولہ مرلہ تھا ۔جس کا خسرہ 2556 تھا۔ یہ عمارت  بھی اب ختم ہوگئی ہے۔ ہسپتال کی بہترین لوکیشن پر واقع ہونے کی وجہ سے اس کی زمین کو ہر کوئی  للچاییٗ نظروں سے دیکھ رہا ہے اور نا جائز تصرفات کی زد میں ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران فتح جنگ میں ایک جنگی استعمال کے لیے رن وے کی تعمیر ہوئی۔ اس کے  لئے مزدور انڈیا کے ضلع کرنال کے علاقہ باگڑ سے آئے۔ جو کہ باگڑی کہلاتے تھے ۔ان کے لئے ہسپتال میں ایک  سپشیل وارڈ لکڑی کی بنی۔ کیونکہ ان میں کوئی وبائی مرض پھوٹ پڑی تھی۔ ہسپتال کو ہم نے بچپن میں بڑا آباد دیکھا ہے۔ محکمہ نے اس وارڈ  کو ڈیکوریٹ  کرنے کے لئے   ایک سیلنگ بھی لگادی تھی ۔اور چار دیواری بھی بنا دی تھی۔ شہر میں بجلی نہیں تھی۔ تو ہم یہیں اپنی کتابیں لے آتے تھے۔ ان برآمدوں میں بیٹھ کر پڑھا کرتے۔یہاں کے رہنے والے لوگ ہمارے آئیڈیل تھے

لیڈی ڈاکٹر حمیدہ شیخ صاحبہ

ساٹھ کی دہائی میں وارڈ کے ساتھ بنگلہ میں ایک بزرگ خاتون لیڈی ڈاکٹر حمید ہ شیخ رہا کرتیں۔ان کے سراپا کا ہیولاابھی تک ذہن میں محفوظ ہے۔وہ بہت شفقت سے پیش آتیں۔ان کے مہمان ایک سپشیل گاڑی کھلے چھت والی میں آتے تھے۔ جس کے سپوکوں والے ٹائر تھے۔  ڈاکٹر صاحبہ کو   ان مہمانوں کا بڑی شدت سے انتظار ہوتا۔  اس گاڑی میں ان کے والداور بھائی آتے تھے۔ پینٹ کوٹ اور سر پر فلیٹ ہیڈ ہوتا۔ بالکل کسی انگلش فلم کے کیریکٹر لگتے۔

لیڈی ڈاکٹر نور جہان صاحبہ

تشکیل پاکستان کے بعد1947ء میں یہاں لیڈی ڈاکٹر نور جہاں تھیں۔وہ اس گھر میں رہیں جہاں آج کل ڈاکٹر اسمٰعیل جمیل رہتے ہیں۔یہیں انہوں نے حضرو کے عمر خان سے شادی کی اور اسی شہر میں چلی گیئں۔اور وہاں ہی فوت ہوئیں۔اسی گھر میں ڈاکٹر فخر الاسلام بھی رہے۔انہوں نے ڈھاکہ کے سلیم اللہ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا تھا۔یہ میڈیکل کالج پہلے  مٹسفورڈمیڈیکل سکول تھا۔کلکتہ  کے بعد یہ دوسرا میڈیکل  سکول کھلا۔یہی وجہ تھی کہ بنگالی تعلیم کے لحاظ سے ہم سے بہت آگے تھے۔حتیٰ کہ ایوب خان کے دور میںہمارے علاقے کی دیہی ڈسپنسریوں میں بھی  بنگالی ڈاکٹر تعینات رہے۔

ڈاکٹر گل نو خیر غوری

اسی بنگلہ میں ڈاکٹر گل نوخیز اعوان بھی رہے۔جوبلدیہ میں بیڈمنٹن کھیلتے اور  مشاعروں کی صدارت کرتے۔

ڈاکٹر گل محمد علی

اسی بنگلہ میں ڈاکٹر محمد علی بھی رہے۔ان کا بیٹا یہیں پیدا ہوا تھا۔ والد صاحب مرحوم مبارک دینے گئے۔اور کہتے تھے کہ یہ پرنس آف فتح جنگ ہے۔

(ڈاکٹر محمد خان (پنڈی گھیب

اسی ہسپتال میں پنڈی گھیب کے ڈاکٹر محمد خان رہے۔ انہوں نے اس دور میں بہاول وکٹوریہ میڈیکل سکول بہاول پور سے ایل ایس ایم ایف کیا تھا۔1956ء میں پاکستان میں دو میڈیکل سکول کھلے تھے۔ایک بہاول پور میں اور دوسرا کوئٹہ کا میاں امین الدین میڈیکل سکول تھا۔جہاں سے ڈاکٹر رحمت الہٰی  چغتاییٗ نے ایل ایس ایم ایف کیا اور چانڈیو میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔

ڈاکٹر فقیر محمد خان

پھر یہاں ایک بہت دلچسپ شخصیت ڈاکٹر فقیر محمد خان رہے۔وہ عرف عام میں ڈاکٹر پٹھان مشور تھے۔ان کا تعلق کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی سے تھا۔بڑی باغ و بہار شخصیت تھے۔ انہوں نے 1947ء سے پہلے امرتسر کے میڈیکل سکول جس کانام گلیسنی میڈیکل کالج تھا۔وہاں سے ایل ایس ایم ایف کیا۔ یہ میڈیکل سکول پہلے لاہور میں تھا۔ وہاں میڈیکل کالج بنا تو اسے امرتسر شفٹ کر دیاگیا۔ جہاں پہلے سے ایک مشہور ہسپتال  وکٹوریہ جوبلی ہسپتال ہے۔

پھر اور اہم شخصیت ڈاکٹر خلیل الرحمان مرحوم تھے۔ان کا تحصیل نتھیں ملکاں  گاؤں تحصیل پنڈی گھیب سے تھا۔وہ ساری زندگی کھنڈہ کی ڈسپنسری  میں کام کرتے رہے۔فتح جنگ ہسپتال کے ڈاکٹر کی چھٹی کی صورت میں وہ یہاں کام کیا کرتے تھے۔انہوں نے رنگون برما سے ایم ایچ بی بی ایس کیاتھا۔مجھے ان کی ڈگری دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ جوانہیں 3/12/1937 کو ملی۔

فتح جنگ میں سب سے قدیم میڈیکل سٹور  سیال میڈیکل سٹور تھا۔جس کے روح رواں الحاج ڈاکٹر محمد خان تھے۔ان کی پیدائش بھی رنگون کی ہے۔وہاں سے ہی تعلیم حاصل کی۔ماشاء اللہ بہت سے حج کرنے کی سعادت حاصل کی۔حج پر روانگی تھی کہ زندگی کے آخری سفر پرروانہ ہوگئے۔

 باقی رہے نام اللہ  کا

download

fatehjangcity-com_54fe72bf-7a4d-4083-ad31-2e4e20589477219201632447_medium

fatehjangcity-com_73db5ff9-416c-4854-b19e-1e1bf83c0fcf21920162333_medium

fatehjangcity-com_513a142e-aeb2-46f2-88ea-0eda1c42e98b219201622520_medium

fatehjangcity-com_c16bb41f-8724-45a5-a107-8a5df84d83d121920163216_medium

fatehjangcity-com_ea189106-af36-47c2-91ab-7a5a44db31a3219201634144_medium

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں