ملک محمد نواز مرحوم سے ملک محمد سرفراز خان تک

ملک محمد نواز مرحوم سے ملک محمد سرفراز خان تک
ملک محمد نواز صاحب کو میں کبھی بھی نہیں بھُلا سکتا۔ ہرروز اُن کو یاد کرتا ہوں۔یہ وہ لوگ تھے جو چلتی پھرتی یونیورسٹی تھے۔مجسم علم و عمل تھے۔اُن پر تحقیقی مقالے لکھے جاسکتے ہیں۔ان کے فرمودات سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ان کی کام کے ساتھ لگن سے تاریک راہوں میں روشنی حاصل کی جاسکتی ہے۔.
پُرانی ہسپتال فتح جنگ کے مرہم پٹی کے کمرہ کے ملک محمد نواز مرحوم انچارج تھے۔جہاں وہ محنت سے کام کرتے تھے۔مرہم پٹی مریضوں کی جاتی تھی۔مرہم پٹی کے لیے پہلے دوائی تیار کی جاتی تھی۔ ایکری فلاوین دوائی کو سپرٹ میں اس نسبت سے ملایا جاتا کہ خوبصورت نکھرے ہوے سرسوں کے پھول کی طرح کا پیلا رنگ آجاتا۔ جب اُس میں پٹی کو بھگویا جاتا
تو ایسا رنگ چڑھتا جیسا خالص دیسی گاےٗ کے گھی جیسا۔ ساتھ ہی خوبصورت سی مہک ہوتی۔
ملک نواز صاحب اتنی نفاست و مہارت سے مرہم پٹی کرتے کہ مریض کا آدھا زخم کا درد ختم ہوجاتا۔پٹی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی کراری آواز میں باتیں بھی کرتے اور پیار سے ڈانٹتے بھی۔
جلد پر مرہم لگانے والی مرہم تیار کرتے۔اور وہ اس طرح ویسلین میں گندھک کے سفوف کو ملاتے اور خاص سٹیل والے چمچ سے اُسے ایک فلیٹ پلیٹ پر پھینٹ کر ملاتے۔اتنی مہارت اورخوبصورتی سے ملاتے کہ لطف آجاتا۔
یہ فارمیسی کا کمال تھا جو اُس دور میں پریکٹس کیا جاتا تھا۔پھر وہ گلے میں لگانی والی دوائی بناتے۔ ایک سلائی پر پھریری لگا کر گلے کے اندر گھماتے۔آنکھوں میں ڈالنے والے قطر ے بناتے اور ڈراپر کے ذریعے آنکھوں میں ٹپکاتے۔
اُس زمانے میں ڈسپوزیبل سرنج نہیں ہوتی تھی۔ کچ کی سرنج کو صبح ہی صبح سپرٹ لیمپ کے اوپر ساس پین میں ابالا جاتا۔اُس آواز میں بھی اک جادو تھا۔دور سے سنائی دیتا۔
ملک محمد نواز مرحوم کا کام کرنے والا ٹیبل نہایت صاف ستھرا ہوتا۔ یہ تو ملک صاحب کے ہسپتال کے مشاغل تھے۔چھٹی کے بعد بھینسوں کی خدمت کرنا اُن کا دوسرا مشغلہ تھا۔خالص دودھ پیتے۔خاموش رہتے اور کُھل کر ہنستے۔اب بھی اُن کا مسکراتا چہرہ نظرو ں کے سامنے آرہا ہے۔
سیاہ بال چھتے کی صورت میں سنوار کررکھتے تھے۔بہت سجاوٹ سے بالوں کی کنگھی کرتے اور ان کے بال کبھی بکھرے نظر نہیں آتے تھے۔اب فارمیسی میں دنیا واقعی ترقی کرگیٗ ہے۔ مگر ان کی مہارت پر سب قربان،
کام کی چلتی پھرتی یونیورسٹی تھے۔اُن کے بیٹے ملک سرفراز خان صاحب ہیں جوکہ گورنمنٹ بوائیز ہائی سکول نمبر ایک فتح جنگ میں کافی عرصہ تک کمیسٹری کے استاد کے طور پر تغینات رہے۔
ملک سرفراز صاحب نے گورنمنٹ کالج اصغر مال سے بی ایس سی کیا تھا۔ساری زندگی کیمسٹری ا ور بیالوجی پڑھاتے رہے۔اور انہی مضامین کی گہرایوں میں گُم ہوگے۔ وہی کمرہ اُن کا سرمایہ زیست تھا۔
اُن کے شاگرد ڈاکٹر عبدالواحد کا کہنا ہے کہ میں کنگ ایڈورڈ کالج میں بھی لیکچر سنے لیکن جومزہ سرفراز صاحب کے لیکچر میں تھا وہ کہیں نہیں ملا۔
باپ بیٹا دونوں عظیم ہیں۔ اور ہمارے شہر و معاشرے کا ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں