پانی والی گلی میں بغداد کا فسوں

میرے شہر فتح جنگ میں ایک گلی پائی جاتی ہے۔ جو شہر کے نشیب میں جاتی ہے۔ جو مرکزی بازار کو عین درمیان سے قطع کرتی ہے۔ اور وہ اس طرح کی دونوں قطع شدہ گلی کا سارا پانی اس گلی میں سے گزرتا ہے۔ پانی کی اس گزرگاہ کی وجہ سے یہ پانی والی گلی کہلاتی ہے۔ یہ گلی کسی چشم تر کی طرح ہر وقت تر ہی رہتی ہے۔ اس قدیم اور تنگ  تاریک گلی میں  پانی ہمیشہ رواں دواں رہتا ہے۔ سارے شہر کے پانی کا عکس اس گلی میں اترتا ہے۔گویا کہ یہ پورے شہر کی چشم تر ہے

شہر کی اس چشم تر میں قدیم عمارتیں،چوبارے اور دوکانیں ہیں۔ میں اس گلی کے اند ر جاتاہوں تو جانے کیوں میرادل افسردہ ہوجاتا ہے۔ اور شہر کی اس چشم تر میں آکے میرا دل بھی رونے لگتا ہے۔

اس چشم تر میں میرے ایک استاد رہتے تھے۔ جو چالیس سال پہلے فوت ہوئے۔ میرے دوسرے استاد کی یہاں درزی کی دوکان تھی۔ جو حالات سے تنگ آکر یہاں سے کوچ کرگئے ہیں۔ اس گلی کے چوبارے اور لکڑی کے چھجوں سے  بغداد کی گلیوں کی مہک آتی ہے۔ یہاں سے  الف لیلوی  کی طلسم  ہوشربا کی خوشبو آتی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ ابھی کسی گھر سے علی بابا برآمدہوں گے۔ کسی دوسرے کونے میں چالیس چاروں کے مٹکے پڑے ہوں گے۔ اور کوئی مرجینا ان مٹکوں میں تیل ڈال رہی ہوگی۔ ان دنوں میں اس گلی میں جاتا ہوں تو شدت سے بغداد یاد آتا ہے۔
” وہ اشک بن کے میرے چشم تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھرمیں رہتا ہے”

اس گلی میں بغداد کی گلیوں جیسا فسوں ہے۔ قدیم اینٹوں کی بنی حویلیاں ہیں۔ تنگ و  تاریک دو کانیں ہیں۔ جن کے دروازے امتداد زمانے سے اپنا اصلی رنگ کھو چکے ہیں۔ اور انسانی لمس کی یاد ایک موٹی میل کی تہہ کی صورت میں دروازوں پر موجود ہے۔ ان قدیم حویلیوں اور دکانوں کے اصل مکین کہاں گئے؟وہ و قت اور حالات کی رو میں کہیں بہہ کر چلے گئے۔ پیچھے صرف اینٹیں،مٹی،ٹوٹے ہوئے  شہتیر،ٹوٹی ہوئی دیواریں، بوسیدہ سیڑیاں،گندی نالیاں رہ گیئں ہیں۔ ویران دیواروں پر پیپل کے چھوٹے چھوٹے پودے اگے ہوئے ہیں۔ اور

ان عمارتوں کی حالت پر نوح کناں ہیں۔بقول غالب:۔
“اگ رہا ہے درودیوار سے سبزہ غالب
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے”

رات کو میں ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ ایک میزائل آکر بغداد کی دس منزلہ عمارت کو لگتا ہے۔ پھر دھواں اٹھتا ہے اور گردو غبار چھا جاتا ہے۔ وہ میزائل اس عمارت پر نہیں گرابلکہ میرے  دل پر آکر گرا۔ میں یہ منظر برداشت نہیں کرسکتا۔ مگر منظر تو میں نے اور بھی بہت سارے دیکھنے  ہوں گے۔ روتے چیختے زخمی بچوں کی تصویریں۔ دھواں اور آگ آتش نمرود زوروں پر ہے۔اور حضرت ابراھیمؑ کے مسکن کی اولادِ ابراھیمؑ پر امریکی ابراھیم نامی ٹینک چڑ ھ دوڑے ہیں۔

خلیج فارس کی طرف سے کویت کے قریب پہلا شہر بصرہ ہے ۔ا سی بصرہ کے حضرت حسن بصری اور اسی بصرہ کی حضرت رابعہ بصری  تھیں۔ دریائے دجلہ کے کنارے حضرت حسن بصری اور حضرت حبیب عجمی کی ملاقات ہوئی۔حضرت حسن نے دجلہ پار کرنے کے لئے کشتی کا  قصدکیا۔تو حضرت حبیب نے فرمایا کہ اللہ پر توکل کر اور پانی پر روانہ ہوجا۔

پانی والی گلی میں مکانات کی تعمیر ڈھلان کی بلندیوں سے نشیب کی طرف ہے۔ اس ڈھلان نشیب کوقطع کرتا ہوا قدیم بازار ہے۔ جس کے ایک سرے پر ہندوؤں کا قدیم مندر اور پرانی ہسپتال تھی۔ اس بازار کے وسط میں ایک تنگ و تاریک گلی بازار کو ڈھلان سے نشیب کی طرف قطع کرتی ہے۔ اور  وہ بھی اس طرح  کے بارش کے دن سارے شہر کا ڈھلان کا پانی بازار کے دونوں سروں سے ہوتا ہوا۔ بازار کے وسط میں واقع اس گلی میں سے  زوروشور کے ساتھ گزرتاہے۔ اسی سبب سے اسے پانی والی گلی کہتے ہیں۔

پانی والی گلی میں کبھی ہندوؤں کے قدیم جھروکوں والے چوبارے اور نیچے دوکانیں تھیں۔ اس گلی کے اندر ایک بغلی گلی ہے۔ جس کے سامنے بخشے کا ہوٹل ہے۔ اس بغلی کے انتہائی آخری کونے میں بہت بڑا اور  قدیم دروازہ ہے۔ یہ دروازہ ایک قدیم دو منزلہ چوبارے کا ستقبالی دروازہ ہے۔

اس چوبارے میں کبھی فتح جنگ میں تیل کے  سندرسنگھ اور پریم سنگھ رہاکرتے تھے۔ سندر سنگھ اور پریم سنگھ کا 1947ء سے پہلے پٹرول پمپ تھا۔ جوکہ اب بھی پرانے اڈہ پر موجود ہے۔ پریم سنگھ اور سندر سنگھ نے یہ چھوٹا سا چوبارہ بنوایا جس کے اند ر ایک دایٗرے میں گھومتی سیڑھیاں ہیں۔ اور سیڑھیوں کے اختتام پر چوبارے کا دالان ہے۔ دالان کے ساتھ دو کمرے اور کمروں کے ساتھ کھانے کی رسوئی موجودہے۔ پاکستان بننے کے بعد یہ چوبارہ سراج مہاجر کو الاٹ ہوا۔ سراج مہاجر کے دوبیٹے اللہ میر اور ظہور تھے۔

ظہور بڑا رسیلا گویا تھا۔1947ء میں فتح جنگ آنے کے بعد یہاں کی ادبی محفلوں کی جان بن گیا۔ اسی پانی والی گلی کے ابتدا ء میں مرکزی بازار کے سنگم پر اسے دکان الاٹ ہوئی تھی۔ جہاں وہ سبزی بیچا کرتا۔اور شام کو  سر سنگیت کا شوق پورا کیا کرتا۔ اس کے دوسرے بھائی کا نام اللہ میر تھا۔جوکہ ماشاء اللہ اب بھی حیات ہے۔ انتہائی مخنی قد و قامت،لمبی سے چھدری داڑھی،انتہائی کراری انداز میں اردو بولتا ہے۔ میں نے اسے کبھی پورے لباس میں نہیں دیکھا۔ہمیشہ دھوتی اور بنیان میں اسی گلی کی نکڑ میں پکوڑے تلتے اور اپنی کراری آواز میں انہیں بیچتے دیکھا ہے۔ اللہ میر اور ظہور کا باپ سراج مہاجر بڑا عیاش تھا۔وہ چوک میں بیٹھ کر اللہ داد کے ہوٹل پر چائے کے ساتھ جلیبیاں کھاتا اور پھر یہ چوبارہ اسی عیاشی کی نظر ہوگیا۔جسے شہر کی ایک متمول شخصیت شیخ غلام فاروق نے خرید لیا۔جس نے اس قدیم چوبارے کو اپنے سٹور ہاؤس میں بدل لیا۔اب یہ چوبارہ انتہائی خستہ حالت میں ہے۔اور اپنی شکستگی پر خود ہی نوح خواں ہے۔میں نے اس چوبارے کے سامنے بیٹھ کر بخشے کے ہوٹل میں اس قدیم عمارت میں زبانی کلامی بڑے    اشعار کہے جوکہ زیادہ تر بے  اثررہے۔

اسی گلی میں بخشے کا ہوٹل بھی ایک ہندو کی ملکیت تھا۔ہندو کی ذہنیت کا اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ رہائش کے لئے بھی چوبارہ بنانے سے پہلے وہ نیچے دوکانیں بناتا تھااور اس کے بعد اس پر رہائش کے لئے چوبارہ ڈالتا تھا۔اس چوبارے پر جانے کے لئے ہوٹل کے ساتھ ہی نہایت ہی تنگ اور خستہ حالت میں سڑھیاں ہیں۔جس کے اوپر چھوٹا سا چوبارہ ہے۔یہ چوبارہ کیا ہے؟ہندو ثقافت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
تنگ تاریک دالان جس کے چھت کے وسط میں روشنی کے ہوادان ہے۔بازار کی سمت ایک جھروکہ ہے۔ساتھ ہی ایک کمرہ ہے۔جس کی بازار کی سمت دوکھڑکیاں ہیں۔دالان کے ایک کونے میں ہندوؤں کا روایتی باورچی خانہ ہے۔جسے رسوئی بھی کہتے ہیں۔اور چوکا بھی کہتے تھے۔

اسی چوبارہ کے سامنے ایک اور چوبارہ ہے۔جہاں مٹو خان کی کھترانی رہا کرتی تھی۔اس کے نیچے بھی دو دوکانیں ہیں۔دوکانوں کے اوپر ایک بیٹھک جس کا دروازہ سیڑھیوں میں کھلتا ہے۔اور اس بیٹھک کے اوپر رہائشی مکان تھا۔جو کہ اب خستہ حالت میں موجود ہے۔ان قدیم عمارتوں سے پیپل کے چھوٹے چھوٹے پودے اگ کر ان کی خستہ حالت پہ ماتم کررہے ہیں۔بقول غالب
“اگ رہا ہے درودیوار سے سبزہ غالب
ہم ہیں بیاباں میں  اور گھر میں بہار آئی ہے”

لیکن پانی والی گلی سے لگاؤ کا اصل سبب یہ ہے کہ اس گلی میں میرے استاد محترم اسحاق مرحوم رہتے تھے۔اور انہی کے گھر کے سامنے میرے ادبی دنیا کے استاد اور فتح جنگ کے درویش شاعر یوسف  جمال بھٹی کا آستانہ تھا۔ان کی پانی والی گلی میں ایک زمانے سے ٹیلرنگ کی دوکان تھی۔یہ تو استاد محترم کا فن تھا۔ان کے اندر علم و مملکت کے خزانے چھپے ہوئے تھے۔

وہ ٹیلرنگ کرتے  ہوئے۔کپڑے کی تہہ کو مشین کی سوئی کے ناکے کے نیچے رکھتے اور دوسرے ہاتھ سے سوئی کونیچے کرنے والا   پرزہ دباتے۔ساتھ ہی مشین چلانے کیلئے مشین کی ہتھی پر ہاتھ رکھتے۔اور اس دوران میں ہی  انہیں ابو اکلام کی کوئی بات یاد آجاتی۔ساتھ ہی امام غزالی کے کیمیائے سعادت کا تذکرہ چھڑ جاتا۔تو استاد کا ہاتھ مشین والی ہتھی پر ہی رہ جاتا۔اور پھر شاید وہ کپڑے کی تہہ کئی ہفتوں تک اسی طرح مشین میں دیے  رہتی اور استاد کی ماہرانہ گفتگو کا سلسلہ ختم نہ ہوتا۔دراصل یہی ہمارے لئے اکیڈمی تھی

جہاں سے ہم نے حرف کی حرمت کاسبق سیکھا۔یوسف اقبال بھٹی ہمارے بزرگ بھی ہیں۔ دوست بھی اور استاد بھی۔ان کے کلام میں اس معاشرے کے ہونے والے استحصال کے خون ایک موثر اجتجاج موجود ہے۔وہ میرے والد مرحوم کے بھی گہرے دوست رہے ہیں۔ان کی دوکا ن ہمارے لئے  ایک ادبی اکیڈمی کا درجہ اختیار کر گئی۔جہاں لفظوں کی حرمت کی باتیں ہوتی ہیں۔ابوالکلام آزاد کے تذکرہ اور غیارخاطر سے شروع ہو کر علامہ مشرقی کے تذکرہ اور اس کوچے سے ہوتے ہوئے علامہ اقبال کے روحانی کلام سے فیض یاب ہوتے ہیں۔اس کے بعد اختر شیرانی، ساحر لدھانیوی،اور ساغر صدیقی کی سر  مستیوں میں کھو جاتے ہیں۔

وہاں میں نے اہل علم،اہل دانش اور اہل ولی حضرات کو بھی دیکھا ہے۔اگر وہاں فزکس کے پروفیسر عبدالقیوم اعوان موجود ہیں۔تو کسی دوسرے وقت میں اپنے وقت کے اہل نظر پروفیسر غلام صدیق مرحوم بھی موجود تھے۔انہی کی محفل میں میں نے “کبیر مہاجر” جیسے درویشوں کو بھی موجود دیکھا۔یوسف بھٹی کی محفل میں موتی ہی موتی  موجد ہوتے ہیں۔
وہ اپنے متعلق لکھتے ہیں۔
“وہ اک مزدور لڑکا تھا      وہ اک فنکار لڑکا تھا
بڑا مخلص وہ لڑکا تھا        بڑا غمخوار لڑکا تھا
سراپا  پیارلڑکا تھا
ہوئی موت اسے دیکھے    مگر بھولا نہیں اب تک
وہ یوسف نام تھا جس کا     بڑا جی دار لڑکا تھا”

یوسف بھٹی کے والد کا نام مسکین تھا۔اور وہ خاکسار تحریک سے وابستہ تھے۔اسی پانی والی گلی کے قریب میدان میں 1928-29ء میں علامہ مشرقی بنفس نفیس تشریف لائے تھے۔جہاں تین دن تک کیمپ کا انعقاد ہوا۔اس محفل میں سالارِ شہر سیٹھ حیات محمد اور سالارِ ضلع سردار محمد خان آف دھریک تھے۔ اس پانی والی گلی کے رہنے والے لالہ حیات کاتب کو جوکہ اس زمانے میں بچہ تھا۔ننھے مجاہدی خطاب میں تھا۔

میں آج پانی والی گلی میں عزیز مجاہد سے داڑھی کا خط بنوارہا تھا کہ لالہ حیات کاتب گزرا جوکہ اب کافی ضعیف ہوچکا ہے۔جس کے چرے پر ماہ و سال کی دھول ہے۔ پانی والی گلی کے یوسف بھٹی انتہائی خوددار شخصیت ہیں۔اور انتہائی بے باک مزدور لیڈر بھی ہیں۔ان کے آئیڈیل فتح جنگ کی ہی ایک شخصیت تحصیلدار صدیق لودھی تھے۔وہ لکھنو سے ہجرت کر کے فتح جنگ آئے تھے۔وہ پہلوان چوک کے پاس اس چوبارے میں رہتے تھے جوکہ اب اقبال قصائی کے پاس ہے۔

یوسف بھٹی کہتے ہیں کہ اگر صدیق لودھی کی با ت مان لی جاتی تو فتح جنگ کی تاریخ اور ہوتی۔صدیق لودھی نے یوسف بھٹی کے ساتھ مل کر اس وقت تحصیلدار کے خلاف جلوس نکالا تھا۔جلوس نکالنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ چینی کے مرمٹ کے سلسلہ میں امیر اور غریب کا فرق ملحوظ خاطر رکھتا۔اوریہ بات صدیق لودھی کو جوکہ خود بھی لکھنو کے علاقے میں تحصیلدار رہا بہت۔۔۔لکھنو کی تہذیب کا مرقع تھا۔وہ دبلے پتلے وجود کے ساتھ دراز قد کی شخصیت کا مالک تھا۔اس کا پاجامہ کھلے پایٗنچوں  والا ہوتا اور اوپر گھٹنوں تک چھوٹا کرتا ہوتا۔دراز پلکیں اور گھنگھریالے بال تھے۔سر سے ہمیشہ  ننگے ہوتے۔ٹھاٹھ کے نمازی تھے۔

نماز کے وقت گاندھی کیپ سر پر ہوتی۔عام حالت میں ہمیشہ پان کی گلوری ان کے منہ میں ہوتی۔صدیق لودھی نے اس دن جوش غضب میں تحصیلدار کا رسمی خبار نکال دیا۔وہ اس طرح کے گھر سے وہ باریک دھاگوں والا ایک رنگین  پلنگ لے آیا۔اس پر ذبح خانے سے ہڈیاں لاکر ایک تابوت میں بند کر کے اسے رنگین  پلنگ پر رکھ دیا۔اور اس طرح رسمی جنازہ نکالا۔کندھا دینے والوں میں ایک خود صدیق لودھی،عبدالخالق ،جمعہ ماشکی اور یوسف بھٹی تھے۔پہلوان چوک کے قریب اس جلوس کا رہ روکنے کے لئے پولیس آگئی۔پولیس دیکھ کرسارے فتح جنگ والے بھاگ گئے۔جن میں استاد یوسف بھٹی بھی شامل تھے۔میدان میں صرف صدیق لودھی اور عبدالخالق  رہ گئے۔بھاگنے والوں نے اپنی جوتیاں بھی وہیں  چھوڑدیں۔جسے پولیس والوں نے ایک بوری میں بھر لیا۔

صدیق لودھی نے حسین شہید کی جماعت جناح عوامی مسلم لیگ جوائن کی تھی اور صوبائی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا تھا۔صدیق لودھی،آصف فیصح الدین وردگ،ائیر مارشل انور شمیم کے انتہائی قریبی عزیزوں میں سے تھے۔ صدیق لودھی اس جلسہ کی  ناکامی کے بعد بہت بد دل ہوکر آخر میں ایک بڑی ہی درد ناک تقریر کی۔اور کہا کہ فتح جنگ کے لوگو اگر تم آج  میرا ساتھ دیتے تو آج فتح جنگ کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔وہ پلنگ دوبارہ گھر نہیں لے کر گیا۔اور وہ یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ وہ نام کا لودھی نہیں ہے بلکہ وہ ابراھیم لودھی کی اولاد میں سے ہے۔اس کے بعد اس نے اپنے اثاثے مفت میں لوگوں میں بانٹ دیے اور خود نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں