فتح جنگ نامہ (تاریخ ، ادب اور ثقافت) ساتواں حصہ

پنجاب کی لوک داستانوں میں ایک کردار دلا بھٹی کا بھی ہے۔جس نے مغل بادشاہ اکبر اعظم کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔جسے آخرکار لاہور کے نولکھا بازار میں سرعام پھانسی دے دی گیٗ تھی۔ اس وقت پنجاب کے عظیم شاعر حضرت شاہ حسین اس کے قریب موجود تھے

اس کے آخری الفا ظ یہ تھے کہ پنجاب کا کوییٗ غیرت مند بیٹا پنجاب کی زمین پر کسی کا قبضہ برداشت نہیں کرے گا۔

انگریز سرکار کے آخری سرکاری تاریخ نویسوں نے عبداللہ بھٹی عرف دلا بھٹی کو ایک لٹیرے کا روپ دیا ہے کیونکہ وہ حکومت کو باغی تھا۔لیکن پنجاب کے دیہات میں دلا بھٹی کے نام سے جو واریں اور قصے آج بھی گاےٗ جاتے ہیں ان میں وہ پنجاب کی حریت پسندی کا علم بردار اور کسان تحریک کا سربراہ تھا۔ جس کے تحت اس نے کسانوں کے سربراہ کے طور پر مغلیہ اہلکارو ں کو لگان دینے سے انکار کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دلا بھٹی کے ہم عصر شاعر مادھولال حسین نے شہنشاہیت کے دور میں حریت کے گیت گاےٗ۔او رپنجاب کے ضمیر کو جگاےٗ رکھا۔اسی طرح پنجاب کے خمیر کی سلامتی کے لیے عبداللہ بھٹی  نے اپنے گرم خون سے حریت کی پروقار تاریخ لکھی۔

اسی طرح وسطی پنجاب میں انگریزوں کے خلاف سرگرم عمل راےٗ احمد کھرل کی تحریک آزاد ی کو بھی آج کل ڈھولوں کی تھاپ پر گایا جاتا ہے۔ پنجاب کے دیہات میں ان کے بارے میں جو قصے بیان کیے جاتے ہیں ان میں ان کی ساوی گھوڑی کے کارنامے بھی بیان کیےجاتے ہیں۔ اسی طرح نظام لوہار بھی پنجاب کی لوک داستانوں کا ایک افسانوی کردار ہے۔ ایسے ہی افسانوی کرداروں کے کردار کی عظمت کی جھلک نذیر سانو ل کے کلام میں بھی ملتی ہے۔

نذیر سانول کے مطابق
چھین لیتی ہے تقدیر نوالہ اس سے
جس قوم کو غربت میں جینا نہیں آیا
ملت کے مقدر کا ستارہ بھی وہی ہے
جس کے ماتھے پہ مشقت کا پسینہ آیا

نذیر سانول نے معاشرے سے مہاریں موڑ کر سچی اور کھری باتوں کا بے مہایا اظہار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں۔
یقین کرلو سیانڑے لوکو
وفا کریسو کھباڑے کھیسو
جے رولا پاسو تاں جگ سنڑیسی
چپ کریسو تاں سکدے ریسو
یقین کرلو سیانڑے لوکو
وفا رکریسو کھباڑے کھیسو

نذیر سانول کی شاعری میں جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اور وہی چیز ان کے شاید مقبول عام ہونے میں ایک رکاوٹ بھی ہے۔وہ ان کا مقامی زبان میں شاعری کا ہے اور اس کا ادراک ایک مقامی زبان شناس ہی کرسکتا ہے۔ کھباڑے لفظ کو ایک مقامی شخص ہی سمجھ سکتا ہے۔ اس شاعر ی کو وہی سمجھ سکتا ہے جسے مقامی زبان پر مکمل عبور حاصل ہو۔

نذیر سانول کی شاعری کو وہی سمجھ سکتا ہے جسے پتہ ہوکہ یہاں کی مقامی زبان میں دیگچی کو کٹوی کہتے ہیں۔چمچہ اور کڑچھا کیاہے۔گاگر اور ولٹوییٗ کیا ہوتی ہے۔ سینک اور کھرا کیا ہے؟ کٹورا اور تھال کسے کہتے ہیں؟بٹھل اور پیالے میں کیا فرق ہے؟ چھکور اور چھکوری میں کیا فرق ہے؟ کوزا اور لوٹا کیا ہے؟ کٹوری اور چٹو میں کیا فرق ہے؟ لنگری، مدھانی، گلنی، ہڑپا کا نام اور استعمال پتہ ہو۔ سکار، سکاری اور مڑھنی کیا ہوتی ہے؟ چکا اور گلاترے میں کیا ہےَ؟اسی طرح مقامی رایٗج الفظ چیزوں کے   ناموں میں چھج، پرونڑ، ترینگل، کیٗ، کرانچی اور ٹیچ عام استعمال کیے جاتے ہیں۔ لباسوں میں لوییٗ، فرغل، بوچھن اور گلٹی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

دراصل علاقہ گھیب کی اپنی ایک تہذیبی ثقافت و شناخت ہے۔جو نذیر سانول کے بقول ترنول تک جاکر ختم ہوجاتی ہے۔اور نذیر سانول سمیت علاقے کی تاریخ اور بولی کو سمجھنے کے لیے اور ان کے صیح ادراک کے لیے ان لفظوں کی روح تک اترنا بھی لازمی ہے۔اور اس طرح ااپنی بوباس سے شناساییٗ کے ذریعے ہی اپنے نظریات کا صحیح پرچار کیا جاسکتا ہے۔

لیکن اس کے ضروری ہے کہ ہماری بوباس اور چاہت اسلامی نظریے کے ساتھ ہم رنگ زمین بھی ہو اور مقامی ثقافت و تہذیب کو متاثر بھی نہ کرتی ہو۔ نذیر سانول نے اپنی نظم عمرگزاری رڈیٗیاں رویٗیاں میں اس علاقے کی ملی تاریخ کو بیان کردیا ہے۔ اور اسے علاقہ گھیب کا باشندہ ہی صحیح طور پر سمجھ سکتاہے۔
           عملاں بانجھ نہ بخشش سانول بھانویں ونج مسیتی وڑیے
گزرے ویلے مڑنہ آسن سود لیلاں کریے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں