مسجد میاں نو ر کی گلی کا درویش یوسف جمال بھٹی

وقت کتنی تیزی سے گذر رہاہے۔ احساس ہی نہیں ہوتا کہ نصف صدی گزر گیٗ۔ زندگی کی اس ھماھمی میں کیسے کیسے لوگ آےٗ۔اور شیکسپیٗر کی طرح اپنا رول ادا کیا اور گذر گےٗ۔ جبکہ کیٗ ابھی اپنا رول ادا کررہے ہیں۔

انہی رول ادا کرنے والوں میں یوسف جمال بھٹی بھی ہیں۔ جوکہ نہایت غربت کے عالم میں اس دنیا میں آےٗ۔ان کے والد صاحب بھی انہی کی طرح درویش تھے۔ اور ان کا نام مسکین تھا۔غربت تھی مگر غالب اور اقبال کی شاعری کو ساری زندگی اپنے سینے سے لگاےٗ رکھا۔ اور یہی وصف یوسف جمال بھٹی کو بھی ورثے میں ملا۔ ان میں شاعری۔درویشی اور اداکاری ایک مستی کی طرح خون میں گردش کرتی رہی۔ پچاس،ساٹھ کی دہاییٗ میں اوایٗل نوجوانی میں اپنے اداکاری کے کمالات دکھاےٗ۔ روایتی شاعرو ں۔ادیبوں اور دانشوروں کی طرح قلاش ہی رہے۔اور اپنی خودداری برقرار رکھی ۔ساری زندگی ٹیلرنگ کرکے روزی روٹی اور جینے کا سامان کرتے رہے۔پھر اسلام آباد چلے گےٗ۔

اسلام آبا د میں 60سال کی عمر تک ایک سفارت خانے میں ملازمت کی اور پھر گھر واپس آگےٗ۔ اور مسجد میاں نور کی گلی میں اقامت پذیر ہوگےٗ۔ جوکچھ جمع جتھہ تھا۔ اس کو لگاکر چند مرلوں پر مشتمل دومنزلہ کٹیا نماگھر تعمیر کیا۔ خود بالاییٗ منزل کی کوٹھڑی میں منتقل ہوگےٗ۔ ان کی کوٹھڑی کتابوں سے بھری ہوییٗ ہے۔ سخت بیمار ہیں۔  کمزوری ہے اور لاغر صحت ہے لیکن اپنی کتابوں کو دیکھ کر جی رہے ہیں۔ ساری زندگی کتابوں سے عشق رہا۔ گاڑی کا کرایہ ہو یا نہ ہو کتاب ضرور لیں گے۔ چاہے واپسی کا سفر پیدل طے کرنا پڑے۔

تعلیم کا آغاز رتہ سکول سے کیا۔ جہاں استاذ الاستاذہ قاضی محمد دین بشارت سکول ہیڈماسٹر تھے۔ جوکہ اپنے وقت کے عظیم استاد تھے۔ جنہوں نے بچوں میں شعروادب  اور گایٗیکی کے رجحان کو فروغ دیا۔ اسی دور  میں یوسف بھٹی کو علامہ اقبال اور حفیظ جالندھری کے اشعار ازبر یاد تھے۔ اور پھر شعروں کی یہی متاع ان کی زندگی کا اثاثہ رہی۔
فتح جنگ میں ساٹھ کی دہاییٗ میں ایک اور عظیم استاد خان محمد اقبال خان مقصود تھے۔ وہ پرانے وقتوں کے ایم اے اردو۔ عظیم شاعر، اچھے افسانہ نگار اور سب سے بڑھ کر تاریخی ڈرامہ نویس تھے۔ اور اس سے بڑھ کر ان تاریخی ڈراموں کو سٹیج پر پیش بھی کیا۔ ان ڈراموں میں پہلا ڈرامہ ہیرا پتھر، ٹیپو سلطان، شیر خوارزم۔محمد بن قاسم۔اور ضرب ابدالی شامل تھے۔ ان تما م ڈراموں میں یوسف بھٹی نے اداکاری اور گایٗیکی کے جوہر دکھاےٗ۔ اور پھر اگلی کیٗ دہایٗیوں تک وہ فتح جنگ کے سٹیج ڈراموں کے ہیرورہے۔ فتح جنگ میلہ میں عنایت حسین بھٹی اور محمد عالم لوہار آتے رہے۔ ان کے تھیٹروں میں بھی یوسف بھٹی نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

فلم بینی کے بے حد شوقین تھے۔ خاموش فلموں کے دور سے لیکر 1947ء کے بننے والی انڈیا کی فلمیں اور بعد میں پاکستان کی بننے والی فلموں  کی کہانیاں، گیت اور صداکاروں کے ریکارڈ کا ایک انسایئکلوپیڈیا تھے۔ جیسے آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام خبر ناک  میں نصیر بھاییٗ آتے ہیں۔ وہی عالم یوسف بھٹی کا بھی ہے۔ فلسفہ۔ دینی اور سیاسی تحریکوں کی جان رہے۔ خاکسار تحریک سے بھی تعلق رہا۔ مولانا مودود ی کی تحریروں کے شیداییٗ اور پروفیسر غلام صدیق مرحوم کے ذاتی دوست رہے۔ اور صدیق لودھی مرحوم کی جدو جہد کا حصہ رہے۔

fatehjangcity-com_6464d088-7d04-4336-97c7-0056a865942a216201624646_medium

fatehjangcity-com_a7911b48-b60f-4319-93bb-99a0758b558a216201625010_medium

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں