ڈاکٹر نرگس موال ولہ

نرگس ماولہ والا ایک  میسوچیوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی شعبہ فزکس کی ہیڈ ہیں۔ایک پاکستانی نژاد امریکی  پی ایچ دی ڈاکٹر ہیں جنہو ں نے گریویٹیشنل ویوز کو  جانچنے کے طریقے پر کام کیا ہوا ہے۔ان کو 2010ء میں میک آرتھر  فیلو شہ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔
نرگس ماولہ والہ پاکستان ہی میں 1968 کو  پیدا ہوییں او ر بڑی ہوییٗں۔ انہوں نے ابتداییٗ تعلیم کراچی کے ایک کیتھولک سکول  سینٹ میری سے حاصل کی۔وہ 1986ء کو ویسلے کالج میں داخلہ ملنے کے بعد امریکہ چلی گیٗیں۔ جہاں انہوں نے 1990ء میں فزکس اور آسٹرونومی میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعدپھر وہ میسا چیوسٹس انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے گیٗیں۔ انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی ڈاکٹر رینر ویسز کی زیرنگرانی مکمل کی۔
اپنی گریجویشن کی تعلیم کے دوران نرگس ماولہ والا گریویٹیشنل ویوز کا پتہ لگانے کے لیے انفیرومیٹر پروٹو ٹایٗپ متعارف کرواییٗ جسے زمینی لہروں کا پتہ چلایا جاسکتا تھا۔
جنوری 2002ء میں نرگس ماولہ والہ نے میسا چیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا شعبہ فزکس  جایٗن کرلیا۔ اس سے پہلے وہ کیلیفورنیا انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی میں بطور پوسٹ گریجویٹ ریسرچر اور ریسرچ سایٗنسدان کے طو رپر  لیزر انفیرومیٹر  گریویٹیشنل  ویوز ابزرویٹری (لیگو) پر کام کرچکی تھیں۔
ان کی پی ایچ ڈی ڈگری کا بنیادی کام  لیگو سی حاصل شدہ نتایٗج کو ہی آگے بڑھانا تھا۔
پاکستانی اخبار ڈان نیوز کو انٹرویو دیتے ہوےٗ نرگس ماولہ والہ کا کہنا تھا کہ ان کی ریسرچ میں پاکستانی لوگوں کے انٹرسٹ نے انہیں چکرا کر رکھ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کے لوگوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ آپ بھی کامیاب ہوسکتے ہو،یہ بات کوییٗ معنی نہیں رکھتی کہ  آپ ایک عورت ہو، ایک مذہبی  اقلیت سے تعلق رکھتے ہوں یا آپ ایک ہم جنس ہوں،ہر ایک اگر اپنے شعبہ میں محنت کرتا رہے تو کبھی نہ کبھی وہ ضرور کامیاب ہوسکتا ہے۔
پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے بھی نرگس ماولہ والہ کے کام کو سراہا ہے اور ان کو پاکستانی طالبعلموں اور ریسرچرز کے لیے ایک  قابل فخر  ہستی کہا ہے۔

پروفیسر نرگس اس پراجیکٹ کا حصہ رہی ہیں جس میں البرٹ آئن سٹائن کی کشش ثقل کی لہروں سے متعلق نظریے
کے پیش کیئے جانے کے ایک سو برس بعد اس کے رموز سے پردہ اٹھایا۔

امریکی میڈیا کے مطابق سائنس کی دنیا میں یہ ایک زبردست کارنامہ ہے ۔

نیو یارک ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹر ویو میں پروفیسر نرگس کا کہنا تھا کہ اب سائنس دان کشش ثقل کے کلیے میں ابہام کے عنصر پر حاوی ہو چکے ہیں،در حقیقت ایک نیا انڈیکیٹر دستیاب ہو گیا ہے جس کی مدد سے فلکیات کے مزید راز افشا کرنے کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے۔ بقول ان کے ابھی تو یہ شرو عات ہے۔ اب ہمیں ایک نیا شعور میسر آگیا ہے ،اب ہم دیکھنے کے علاوہ رازوں کو سننے کے بھی قابل بن جائیں گے ۔

پروفیسر نرگس شعبہ فزکس میں کشش ثقل پراجیکٹ کی تحقیق کے ضمن میں آلہ دریافت کرنے ،باریک پیمائش کا کلیہ ترتیب دینے اور ڈیٹا کے تجزیئے کے کام سے وابستہ ہیں۔

پروفیسر نرگس نے اپنے ساتھی سائنسدانوں کے گروپ کی مدد سے کشش ثقل کے باب میں لہروں کا راز تلاش کر لیا ہے جو کہ سائنس کے میدان میں ایک تاریخی کارمانہ قرار دیا جا رہاہے اور امریکی سائنسدان اس خاتون کو نوبل پرائز کے حقدار سمجھتے ہیں۔

کائنات کے اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے والی باصلاحیت شخصیات میں ایک پاکستانی خاتون کا اضافہ پاکستانیوں کے لیئے باعث فخر ہے

بشکریہ: وکی پیڈیا۔نواےٗ وقت

CAMBRIDGE, MA-SEPTEMBER 20: MIT Quantum Astrophysicist Nergis Mavalvala in an MIT lab, September 20, 2010 in Cambridge, Massachusetts. (Photo by Darren McCollester/for MacArthur Foundation)

mit-ligo-panel-6

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں