چھ بہنوں کا بھائی

وہ چھ بہنوں کا اکیلا بھائی ہے،ماں نے اسے دنیا میں لانے کے لیے اوپر نیچے چھ لڑکیوں کو جنا ہے۔

اس دنیا میں اپنے بھائی کی بدولت آنے والی لڑکیاں اب ما ں برابر ہو چکی ہیں،ماں کو ان کے اپنے برابر ہونے کا غم کھائے جا رہا ہے۔ اسکا باپ پیشے کے اعتبا ر سے حجام ہے،چھوٹے بڑے زمین داروں کے ڈیروں پر جا کر ان کے سر اور داڑھی کے بال تراشتا ہے، یہ ان کا خاندانی کام ہے۔ مگر اس خاندانی کام میں معقول آمدنی ہے اور نہ ہی عزت۔ چناںچہ بڑی منتوں اور مرادوں کے بعد پیدا ہونے والے لڑ کے کو خاندانی کا م نہیں سونپا گیا بلکہ اسے زیورِتعلیم سے آراستہ کیا گیا۔ یوں لڑکا اپنے خاندان کا پہلا فرد ہے جس نے ایم اے تک تعلیم پائی ہے۔

بوڑھے حجام کو بیٹے کی تعلیم کے لیے،مالی مشکلات کے ساتھ ارد گرد کے زمین داروں کی نفرت اور دشمنی بھی سہنا پڑی۔

وہ دریائے سندھ سے اٹھنے والے سیلاب میں گردن گردن ڈوبتا انٹرویو کے متعلقہ مقام پر وقتِ مقرر پر پہنچ گیا ہے۔ اس کا تعلق شہر سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر اس گاوں سے ہے جو دریا کنارے آباد ہے اب سارے کا سارا زیرِ آب آکر دریا کا حصہ معلوم ہو رہا ہے اورگاوں والے اپنی جانیں بچانے کے واسطے خشکی کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔یہی سندھو مدتوں سے اس گاوں کے لیے ایک زندگی بخش وجود تھا مگر

جی میں کیا آئی کہ اچانک بپھر کر وجود سے باہر آ گیا اور انسانی جانوں،ڈھورڈنگروں اور تیار فصلوں کو اپنے پیٹ میں محفوظ کرتا چلا گیا۔ اس کا گھر گاوں سے کچھ فاصلے پر اور بلند مقام پر ہے،سیلاب کی تباہی سے محفوظ تو ضرور ہے مگر سندھو چار اطراف سے گھیر چکا ہے اور لمحہ بہ لمحہ گھیراؤ کا دائرہ تنگ سے تنگ کرتا چلا جارہا ہے۔ وہ پورے گاوں کی طرح اس کے گھاس پھونس کے گھر کو اپنی ملکیت میں لینا چاہتا ہے،یہاں سندھو کا رویہ ان زمین داروں جیسا ہے جن کی ملکیت تو دن بہ دن بڑھتی رہتی ہے مگر ہوس کم نہیں ہوتی۔

انٹرویو کی کاروائی نو بجے شروع ہونا تھی اب دس بج رہے ہیں،انٹرویو روم کے چوبی دروازے پر ایک بڑا سا تالا امیدواروں کے منہ چڑا رہا ہے۔کہیں سے کوئی معلومات بھی نہیں مل رہی۔ امیدوار ہیں کہ سندھو کی طرح ہر طرف امنڈے پڑے ہیں۔ بھوکے اور شودے سندھو کی طرح۔ امیدواروں کے بھوکے اور بے رونق چہروں پر دکھ کی لکیریں ایک دوسرے کا راستہ کاٹنے کی عجلت میں ہیں۔بے یقینی اور مایوسی کا بڑا سا تھال ہر ایک سر پہ چھایا ہوا ہے۔ وہ بھی بے یقینی اور مایوسی کے بڑے تھال کے سائے میں لپٹا ہو اہے، ایسا دو بار ہو چکا ہے کہ وہ بڑے اہتمام کے ساتھ انٹرویو دینے گیا اور جا کر معلوم پڑ ا کہ انٹرویو کی کاروائی یا تو ہو چکی یا منسوخ ہو چکی۔

اس سے پہلے کہ بے یقینی اور مایوسی کا تھال ان کے سروں پر آپڑے،درجہ چہارم کا ایک ملازم نوٹس بورڈ پر کچھ چسپاں کرتا نظر آیا۔امیدواروں کی فہرست میں اس کے نام کے سامنے سات سو گیارہ رول نمبر  درج تھا،کل امیدوار پندرہ سو چالیس تھے۔ ایک نیم سرکاری تعلیمی ادارے میں بارہ اساتذہ کی آسامیوں کے لیے پندرہ سو چالیس امیدوار۔ وہ حیران ہونے کے ساتھ پریشان اور مایوس بھی ہوا،امیدواروں کی فہرست دیکھ کر اسے لگا کہ ایک بار پھر ناکامی کا سامنا ہو گا۔ اسے اپنی قابلیت اور صلاحیت کے ساتھ ساتھ شاندار تعلیمی کیریر اور تھروآوٹ فرسٹ ڈویژنوں پر بھی اعتماد ہے،یہ الگ معاملہ کہ یہی اعتماد کئی بار دھوکہ بھی دے چکا ہے،مگر وہ بھی زندگی کے روشن پہلو دیکھنے کا عادی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ اعتماد میں دکھائی دے رہا ہے مگر اندر ہی اندر ایک خوف کسی آفریت کی طرح ایک ایک عضو کو ڈس رہا ہے کہ اس بار بھی۔۔۔۔آگے سوچنا محال ہے۔ فی الوقت یہ مسئلہ درپیش ہے کہ جب تک انٹرویو کا سلسلہ شروع نہیں ہوتا وقت کیسے کاٹے، یہ سوچتے ہوئے نظر بکائین کی چھاوں میں بیٹھے ہوئے اپنی عمر کے دو نوجوانوں پر پڑی،وہ بھی اس کی طرف ہی دیکھ رہے تھے۔

کچھ ہی دیر بعد ایک دوسرے سے بغل گیر تھے،تینوں میٹرک کے ہم جماعت نکلے۔ پھر یکے بعد دیگرے اس کی ملاقات مختلف ہم جماعتوں سے ہوتی چلی گئی،ملازمت کے لیے انٹرویو کا کوئی اور فائدہ ہو نہ ہو پرانے بھولے بِسرے ہم جماعتوں سے ملاقاتیں ہو جاتی ہیں۔

    ایک بجے انٹرویو کی کاروائی شروع ہوئی،یہ جاننے کے باوجود کہ اس کی باری آتے آتے چار سے پانچ گھنٹے تو لگ ہی جائیں گے،شدت سے انتظار کھینچنے لگا۔وہ جس شدت سے اپنی باری کا انتظار کھینچ رہا ہے اسی شدت سے بھوک بھی ستا رہی ہے۔ صبح پانچ بجے برائے نام مکھن سے چُپڑی ہوئی ایک روٹی پر کب تک رہا جا سکتا ہے،اس پر مستزاد پندرہ کلومیٹر کا پیدل اور سائیکل کا سفر۔اس کی جیب میں محض پانچ پانچ کے تین سکے ہیں، جو سائیکل کا کرایہ ہیں۔ وہ جب گھر سے چلا تھا تو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ انٹرویو کی کاروائی دیر سے شروع ہو گی،اگر اس بات کا اندیشہ ذہن کے کسی بھی کونے میں ہوتا تو کچھ پیسے ساتھ لے آتا،تاکہ کھانے پینے کے معاملے میں کوئی دقت نہ ہو۔ایسا سوچ کر محض اپنا جی بہلانے لگا، جانتا ہے یہ سکے جو جیب میں موجود ہیں ان مرغی کے انڈوں کی بدولت ہیں جو ماں نے صبح گھر سے نکلتے ہوئے دیے تھے اور اس نے خشکی پر پہنچ کر پہلا کام ان کے بیچنے کا کیا تھا۔ ہر دس منٹ بعد جب بھنے ہوئے چنے بیچنے والا آواز لگاتے ہوئے سامنے سے گزرتا تو وہ جیب میں پڑے سکوں کو ٹٹولنے لگتا،ساتھ ہی بھوک کی شدت میں اضافہ ہو جاتا۔سات بجا چاہتےہیں،سورج غروب ہونے کے لیے بے چین ہو رہا ہے۔وہ سورج کی طرح غروب ہونے کی ہر گز تمنا نہیں رکھتا۔

بوڑھی ماں،ماں برابر بہنیں اور کمر خمیدہ باپ، وہ  ہر گز غروب ہونے کی پوزیشن میں نہیں۔۔۔اس کی طرح سورج کی بھی ماں،ماں برابربہنیں اور کمر خمیدہ باپ ہوتا تو دیکھتا کہ کیسے غروب ہونے کو دوڑتا ہے۔۔۔ جیسے ہی سورج ڈوبا انٹرویو کی کاروائی روک دی گئی اس اثنا میں پانچ سو امیدوروں کے انٹرویو ہوئے،باقیوں کو اگلے دن کاکہا گیا۔اب ایک نئی مصیبت شب بسری کی صورت آ نازل ہوئی،وہ اس وقت واپس گھر بھی نہیں جا سکتا تھا کہ رات کی تاریکی میں کہیں بھوکے اور شودے سندھو کا مہمان ہی نہ بن جائے۔

یوں تفکرات کے چھوٹے بڑے مچھر کاٹنا شروع ہوئے اور وہ سارے جسم کو کھجانے لگ پڑا۔اچانک ایک طرف سے آواز آئی کہ دور کے امیدوار ہال کمرے میں رات گزار سکتے ہیں، پھر اگلے ہی لمحے مچھروں کو ایک طرف دھکیلتا ہال کی اور بھاگ پڑا۔اسناد والی فائل کو سر کے نیچے رکھ کر برہنہ فرش پر لیٹ گیا۔ایک مدت چھت پر برائے نام گھومتے پنکھے کو گھورتا رہا،دائرے میں گھومتا ہوا پنکھا،دائرہ،دائرہ،دائرہ۔۔۔اس کا دماغ ایک دائرے میں گھومنے لگا۔۔۔وہ خالی پیٹ اور گھومتے دماغ کے ساتھ نیند لینے کی کوشش کرتا رہا،مگر باوجود کوشش کے نیند سے رشتہ قائم نہ کر سکا۔

     اس نے صبح سویرے پھولوں کے لان میں لگے پانی کے نل سے منہ پر چھینٹے مارے،بالوں کو گیلاکر کے انگلیوں سے کنگھی کا کام لیا، انٹرویو کا سلسلہ گیارہ بجے پھر سے شروع ہوا۔وہ کبھی بینچ،کبھی گیلری اور کبھی لان میں بیٹھ کر اپنی باری کا انتظارکھینچنے لگا،اس دوران مسلسل معدے میں پانی جمع کرتا رہا،پانی پی پی کر یہ کیفیت ہو گئی کہ جیسے پانی کے قریب جاتا متلی ہونے لگتی۔

شام چھ بجکر چالیس منٹ پر سات سو دس رول نمبر پکارا گیا۔اس کا رول نمبر سات سو گیارہ ہے۔اندر جانے والا امیدوار کچھ زیادہ ہی وقت لے رہا تھااور ادھر سورج تھا کہ ڈوبنے کے لیے بے تاب ہورہا تھا۔وہ ساری توانائی مجتمع کر کے بینچ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ایکا ایکی آنکھوں کے سامنے سیکڑوں تارے ناچنے لگے۔وہ خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط کرنے لگا مگر بھوک سے پیدا ہونے والی نقاہت کا احساس ہڈیوں کے گودے میں سرایت کر گیا تھا۔اسی اثنا میں ایک عجیب بات ہوئی کہ جہاں پہ کھڑا تھا،ساتھ والے کمرے سے سرگوشیاں سنائی دیں ایک کلرک دوسرے کلرک سے کہہ رہا تھا’یہ سب اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

دوسرے کلرک نے پہلے کی بات کاٹی’ان بے چاروں کو کیا خبر کہ بارہ کی بارہ آسامیاں فروخت ہو چکی ہیں اور یہ سب محض کاروائی کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور ہمیں بھی تو ابھی ابھی یہ بات معلوم ہوئی ہے۔

جب ا س کا نام اور رول نمبر پکارا گیاسورج ڈوب رہا تھا۔وہ اندر داخل ہو ا تو ساتھ ہی نیچے گر پڑا،تعلیمی اسناد فائل سے نکل کر پنکھے کی ہوا میں ادھر ادھر بکھر گئیں۔

انٹرویو روم سے پندرہ کلومیٹر دور ماں،ماں برابر بہنیں اور کمر خمیدہ باپ،سب اپنی اپنی جگہ پہ یہ سوچ کر خوش ہیں کہ ظفر اقبال جو کل کا گیا ابھی تک نہیں لوٹا تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی نوکری لگ گئی ہے۔

کہانی مجھے تلاش کرتی ہے) سے اقتباس)

بشکریہ  نوید فخر

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں