مہاتما!بہت دکھ ہیں

افسانہ نگار کمرے کے اندر ایک کنج میں سمٹابیٹھا ہے۔
رات، افسانہ نگار کے بدن سے گزر رہی ہے۔
’تم۔۔۔!تمہارا جسم تو کچھ دن پہلے بم دھماکے میں چیتھڑے چیتھڑے ہوا تھا؟‘
’ہاں،میں وہی ہوں۔۔۔مفت میں مارا جانے والا۔۔۔‘
’تو تم مفت میں مارے گئے۔۔۔جمہوریت کے فروغ کے اکٹھ میں شرکت محض ڈرامہ تھی‘
’جمہوریت۔۔۔یہ کیا چیز ہے۔۔۔؟میں تو اس میلے میں چھ جی کے تن ڈھانپنے اور شکم کی ازلی آگ بجھانے کے واسطے مصروفِ جہاد تھاالبتہ لفظ جمہوریت میرے کانوں میں پڑا ضرور تھا کچھ لوگ جمہوریت زندہ باد کا آوازہ لگا رہے تھے۔میرے پلے کچھ نہ پڑا،میں بھوکا اور ننگا۔۔۔بھوکے اور ننگے کا آوازہ توایک ہی ہوتا ہے،بس میں تو مفت میں مارا گیا۔۔۔گھر میں رہ جانے والے پانچ جی بھی مفت میں مارے گئے۔۔۔‘
’تمہیں مفت میں مرنا تھا، تو پیدا کیوں ہوئے‘
’میں پیدایش کے جبر کے سامنے بے اختیار تھا،معمولی سا بھی اختیار رکھتا تو ایسی دنیامیں ہر گز نہ آتا جہاں اپنے وجود کے ساتھ دوسروں کے وجود اڑانے کی رسم ہو،یہی دکھ آپ کے پاس کہانی لکھوانے کھینچ لایا ہے‘

افسانہ نگار جو پہلے ہی کنج میں سمٹ کر دبکا بیٹھا تھا،مزید سمٹ جاتا ہے۔نووارد جو ایک نحیف سا نوجوان تھا،قریب معمولی سی جگہ پا کر اپنے جسم کے ٹکڑوں کو سمیٹتا اکڑوں بیٹھ جاتا ہے،کہانی لکھوانے والوں میں ایک اور کردار کا اضافہ ہو جاتا ہے،کمرے میں تل دھرنے کی جگہ بھی نہیں رہتی۔افسانہ نگار کرداروں پر ایک نظر ڈالتا ہے،سب کے سب ملتجی نظروں سے اپنی اپنی کہانی لکھوانے کے متقاضی ہیں،وہ ایسے سیکڑوں کرداروں کو کہانیوں کا روپ دے چکا ہے مگر اب اس میں کسی کردار کو کہانی میں ڈھالتے وقت،جو شدید ذہنی اضطراب اور جسمانی اذیت سہنا پڑتی ہے،کی سکت نہیں رہی۔وہ مزید کہانیاں لکھنے کا متحمل نہیں رہا۔مگر کردار تو کردار ہوتے ہیں، اپنی کہانی لکھوانا جانتے ہیں۔۔۔افسانہ نگار اس گھڑی کو کوسنے لگتا ہے جب پہلے کردار سے سامنا ہوا تھا۔

وہ اس کے عین شباب کے دن تھے، گھر سے دور صحت افزا شہر کے تعلیمی ادارہ میں اپنا فرض پورا کر رہا تھا،چھ دن حصے کا رزق چنتااور ساتویں یعنی چھٹی کے دن ہم کاروں کے ساتھ پررونق مال روڈ کی سیر کو نکل جاتا۔بازار کی رونق اسے لبھاتی ضرور مگر وہ جلد اکتا جاتا،ہر شئے مصنوعی اور پھیکی لگتی۔وہ ایک بار چھٹی والے دن معمول میں تبدیلی لا کر ان حسین فطری مناظر کی اور نکل کھڑا ہوا جو اسے ایک عرصہ سے اپنی جانب کھینچ رہے تھے۔اس پرفطرت کی خوب صورتی نے فسوں کر دیا،اس سے پہلے کتابوں میں ورڈز ورتھ اور مجید امجد کی شاعری میں فطرت کو محسوس کر کے حظ اٹھاتا آ رہاتھا،مگر اس دن بہ نفسِ نفیس مشاہدہ بھی کر رہا تھا اور حظ بھی اٹھا رہا تھا۔اسے درختوں اور پرندوں سے موانست بچپن ہی سے تھی مگر وہاں آسماں کی اور اپنا رخ کیے اخروٹ،چیڑھ اور دیودار تو روح میں اتر گئے۔لیکن ان کے بدنوں پر پرندے ندارد۔وہ آسمان کی بلندیوں سے محوِگفت گو پیڑوں کے بدنوں پران کی بیٹیں،پنکھ اور آلنے ڈھونڈنے کی مساعی کرتا رہامگر پیڑ تنہا نکلے،دونوں ایک دوسرے کے بنا کتنے ادھورے ہیں،اس احساس سے دل گیر ہو جاتا ہے۔

وہ فرصت کے سارے لمحے پیڑوں کے سپرد کر دیتا ہے،ایک سے دوسرے کی ذات میں تبدیلی کا عمل شروع ہو جاتا ہے،جب یہ عمل تکمیلیت کے میل کو چھوتاہے تو من و تو کا فرق مٹ جاتا ہے۔چار ہزار سالہ دیودار سے تو تعلق اس مضبوطی سے جڑتا ہے کہ وہ،وہ نہیں رہتا دیودار ہو جاتہے۔دیودار۔۔۔جس کا اعتماد انسانی نسل سے اٹھ چکا تھا، کہ اس کی اپنی نسل انسان زدہ تھی، سب سے زیادہ نقصان انسانی ہاتھوں سے اٹھا چکی تھی اور اٹھا بھی رہی تھی۔ اس کے بقول جب انسان نے میری نسل کو زمین بوس کرنا شروع کیا تو پرندوں کا کوئی گھر نہ رہاان کے آلنے تنکا تنکا ہو گئے اور جب ہم انہیں حفاظت نہ بخش سکے تو ان کا اعتمادہم سے اٹھ گیااور ہمارا انسانوں سے۔ہمارے اجڑنے سے ہمارے جسموں پر بسیرا کیے دیرینہ ساتھی انسانی خوراک بننے کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں میں آہنی پنجروں کے انقباض زدہ ماحول میں قید بھی ہوئے۔ جو بچ نکلے وہ بجلی کے کھمبے کی تاروں پہ جا بیٹھے،ہم جو پہلے ہی اجڑچکے تھے مزید اجڑ گئے‘۔ دیودار کے نزدیک انسان کی خود پرستی نے اسے کائنات کی ظالم ترین ہستی بنا ڈالا۔وہ اپنے دوست کو باور کراتا ہے کہ کوئی بھی نسل ساری کی ساری ایک جیسی نہیں ہوتی اور انسان،پیڑ،جنگلی حیات اور پرندے ایک دوسرے کے دوست تھے،ہیں اور رہیں گے،اسی

میں سب کی بقا ہے۔دیودار اس کی دلیل کا قائل ہو جاتاہے،دونوں کی دوستی کی گانٹھ دن بہ دن مضبوط ہونے لگتی ہے۔

     افسانہ نگار کمرے کے اندر ایک کنج میں سمٹا بیٹھا ہے۔ رات افسانہ نگار کے بدن سے گزر رہی ہے۔

عمرت دراز بادِفراموش گارمن‘،پینتالیس سالہ کردار کمرے کے سکوت کو توڑتا ہے۔افسانہ نگار کی اس کردار سے مڈبھیڑ ریلوے اسٹیشن پر ہوئی تھی،جہاں یہ چائے خانہ پر یہاں وہاں چائے ڈھوتا،برتن مانجھتا اور ساتھ ساتھ ’عمرت دراز بادِفراموش گارمن‘بھی الاپتا رہتا۔جیسے ہی کوئی گاڑی آ کر رکتی سارے کام چھوڑچھاڑایک ایک ڈبہ پوری گاڑی چھان مارتا، پھر جب گاڑی چل پڑتی اور پیچھے گَرد رہ جاتی تو سارے جہاں کی مایوسی اوڑھے پھر سے کام پر جت جاتا، اپنے اسی معمول کو افسانہ نگار سے ملاقات تک سنبھالے رہا،کون تھا؟کہاں سے آیا تھا؟کس کی تلاش میں تھا؟اس کی ساری تاریخ دھندمیں لپٹی ہوئی تھی۔چائے خانے کا مالک ایک وقت کا کھانا دیتا اور بدلے میں سارا کام لیتا۔نیندگھِیرتی تو پلیٹ فارم پہ پڑرہتا۔اب ایک مدت سے افسانہ نگار کے کمرے اور ذہن میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہے۔

وہ ایک دن اپنے دوست دیودار سے کہانی کی فرمایش کرتاہے۔۔۔چار ہزار سال کی کہانی۔۔۔دیودار،دنیا کی طویل تاریخ کا امین،شب و روز ہونے والے تماشے اور تبدیلیوں کا گواہ۔۔۔کہانی شروع ہوئی،عہد بہ عہد کی کہانی،ہر عہد کی کہانی اس کا سینہ منور کر دیتی۔کہانی میں جہاں انسانی بربریت اور وحشتوں کا ذکر آتاندامت اور دکھ اسے گھیر لیتے مگر ندامت اور دکھ کا تائثر اس وقت معدوم پڑجاتا جب سدھارتھ ایسا کردار سامنے آتا،اس وقت انسانی وقاراپنی معراج پہ ہوتا۔سدھارتھ،پانچ سو پینتیس قبل مسیح کا ایک شہزادہ جو شاہی محل کے پرتعیش ماحول میں پروان چڑھنے کے باوجود عیش و عشرت سے دور بھاگتا تھا۔شاید فطرت لالے کی حنا بندی کا خود ذمہ لیے ہوئے تھی۔

وہ تمام نوع کی عیش و عشرت اور ذہنی آسودگی کے باوجود اداس اور متفکر رہتا،دراصل وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے مطمئن نہیں تھا۔وہ دیکھتا کہ انسانوں کی زیادہ تر آبادی غریب ہے اور غربت کے باعث سب کے سب پریشانیوں،مصیبتوں اور دکھوں میں گھرے رہتے ہیں اور تو اور اہلِثروت بھی خوش نہیں ہیں، کسی بھی طبقے کا انسان اسے اطمینان کا حامل نہیں ملا۔وہ ابھی کم سن تھا کہ اس کی شادی عمِ زاد سے کر دی گئی،تیرہ سال کے لمبے عرصہ بعد جب اس کے ہاں پہلے بچے کی پیدایش ہوئی

وہ شاہی محل سے نکل کھڑا ہوا،اپنے ایسے انسانوں کی ناخوشی کا سبب اور حل معلوم کرنے کی غرض سے۔اسے انجیر کے ایک معمر شجر نے سہارا دیا،دونوں دوست بن گئے۔اس کا سینہ معمر شجر نے کائناتی راز کو تاریخی تناظر میں بیان کر کے منور کر دیا۔ایک دن جب شہزادہ سدھارتھ اپنے دوست سے کہانی سن رہا تھا، اس پر منکشف ہوا کہ صداقت جس کی خاطر عیش وعشرت کو ترک کیا،کے قریب پہنچ چکا ہے۔اس رات وہ گہرے تفکر میں مستغرق رہا،صبح کاذب کے وقت ’بدھ‘ بن گیااور اس کا شمار صاحبِ بصیرت میں ہوا۔وہ جان گیا کہ دنیا دکھوں کی آماجگاہ ہے اور گلی گلی،قریہ قریہ اور شہر شہر گھوم کرامن،سکھ اور برکت کا پیغام پہنچایا،زمانے میں معتبر و مبارک ٹھہرا۔۔۔  وہ کہیں سدھارتھ کی مانند ’بدھ‘ تو نہیں بن رہا؟نہیں۔۔۔قطعی نہیں۔۔۔اس کا دل معصوم اور روح پوِتر۔۔۔اور میں،دنیاوی غلاظتوں میں لتھڑا ہواایک معمولی فرد۔۔۔یہ احساس اسے کئیدن گھیرے رہا۔۔۔مگر اس دن اس پر

کہانی اتری۔۔۔پہلی کہانی۔۔۔

اس دن جب اپنے دوست سے سدھارتھ کے بدھ بننے کی کہانی سن کر لوٹ رہا تھا،راستے میں ایک ایسے نوجوان سے ٹاکرا ہوا جس کے انگ انگ سے بے بسی اور عاجزی واضح ہو رہی تھی۔وہ اس نوجوان کے ساتھ بندھ گیا،جب نوجوان ڈاکٹر کی کلینک میں گھسا تو وہ اس کے ہمرکاب تھا۔

تمہیں بہت کمزوری ہو چکی ہے،کمزور آدمی کو بیماریاں پکڑ لیتی ہیں ابھی تک تم کسی بڑی بیماری میں مبتلا نہیں ہوے،مگر یہی صورت رہی تو ہو سکتے ہو۔میں نے کچھ طاقت کی گولیاں لکھ دی ہیں جنھیں نیم گرم دودھ کے ساتھ لینا ہیں،ساتھ ساتھ پھل اور ان کے جوس اپنی غذا کا حصہ بناؤ۔پندرہ دن بعد دوبارہ معائنہ کراؤ۔‘ڈاکٹر نے نسخہ ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا۔وہ نوجوان کو بغور دیکھے جا رہا تھاجس کے پیلاہٹ زدہ چہرے پر کوئی تائثر نہیں تھا،یہ امر اس کے لیے باعثِ پریشانی تھا۔

آپ کی فیس؟‘نوجوان نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔

دو سو روپے‘ڈاکٹر فیس بتا کر دوسرے مریض کی جانب متوجہ ہو گیا۔نوجوان نے اپنی جیبوں کو کھنگالاجن میں سے صرف دو سو ہی برآمد ہو سکے جو ڈاکٹر کے اسسٹنٹ نے فوراََ اچک لیے۔وہ نوجوان کے ساتھ میڈیکل سٹور میں داخل ہوا،نوجوان نے نسخہ سٹور کیپر کی طرف لڑکھڑا دیا۔چند لمحوں بعد مطلوبہ ادویات بل سمیت موجود تھیں۔نوجوان نے اپنا ہاتھ جیب میں ڈالااور جب باہر نکالا تو اس میں سے خون رِس رہا تھا،خالی جیب نے ہاتھ کاٹ کھایا تھا۔سٹور میں پڑے ہوے پانی کے برتن میں سے ایک گلاس پانی اپنے معدے میں انڈیل کر نسخہ اٹھا کر چل دیا۔سٹور کیپر نے چیخ کرغصے سے کہا میڈیسن تو لیتے جاؤ،اسے ٹکا سا جواب، میں نے پانی کے ساتھ لے لی ہیں،دے کر آگے کو بڑھ گیا۔وہاں سے سیدھا پھل فروش کی دکان پہ جا پہنچا۔
’سیب کس طرح کلو ہیں‘
’اسی روپے‘
’انگور‘
’ایک سو بیس روپے‘
’انار‘
’ایک سو چالیس روپے‘

دکان دار نے شاید اس کی حالت دیکھتے ہوئے ذرا بے زاری سے کام لیا اور اس دوران زیادہ تر دوسرے گاہکوں کی طرف متوجہ رہا

تینوں پھل ایک ایک کلو دے دیں‘۔

آرڈر سن کر پہلی بار دکان دار نے اس کی طرف دھیان دیااور تیزی سے لگا پھل تولنے، اس نے ایک سیب کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ خراب ہے اس کی جگہ پہ اور بہتر ڈالیں۔جب پھل فروش نے پولی تھین کے لفافے میں پھل اس کی اور بڑھائے تو نوجوان نے اپنا ہاتھ جیب میں ڈالا لیکن اگلے ہی لمحے باہر کھینچ لیاشاید جیب نے ہاتھ کو ایک بار پھر کاٹ لیا تھا،یوں ایک طرف کو ہو لیا۔پھل فروش غصے اور ناگواری سے پیچھے آواز لگاتا رہا لیکن شاید اپنے کا ن بند کر لیے تھے یا شاید بیماری کا کانوں پر بھی اثر پڑ گیا تھا۔جب نوجوان جوس والی دکان پہ پہنچا وہ سائے کی مانند اس کے ساتھ تھااور اس بات پہ حیران تھا کہ جب اس کی جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں توا کیو ں ایسا عمل کر رہا ہے کہ جس میں محض بے عزتی ہے، دکان میں داخل ہوتے وقت انار کے جوس کا کہتاگیا،جب سامنے میز پر جوس رکھ دیا گیا تو اس نے پیسے پوچھے

    ’پچاس روپے‘

جواب ملا،لیکن جواب ملنے سے پہلے دکان سے باہر آچکا تھا۔جوس والے نے جب اسے جاتے دیکھا تو پکارا
’جوس تو پیتے جاؤ‘
میں نے پی لیا ہے‘ کہہ کر آگے بڑھ گیا اور ساتھ ہی زبان کو ہونٹوں پہ پھیرا۔جو س والے کی زبان سے محض ”پاگل“ نکلااور جوس کا گلاس اٹھا کر دوسرے گاہک کے سامنے میز پر رکھ دیا۔ افسانہ نگار کمرے کے اندر ایک کنج میں سمٹابیٹھا ہے۔

رات افسانہ نگار کے بدن سے گزر رہی ہے۔

اچانک کمرے کا دروازہ کھلتا ہے اور پچیس چھبیس سالہ معصوم اور خوبرو لڑکی اندر داخل ہوتی ہے۔اس کا محبوب اسے ’سرد لڑکی‘کہہ کر دھتکار چکا ہے اور بے چاری اپنی کہانی لکھوانے کئی دنوں سے سرِشام آ موجود ہوتی ہے۔کئی دنوں سے اپنی کہانی لکھوانے کا انتظار کھینچ رہی ہے، افسانہ نگار کے مشورے کے باوجود دوسرے افسانہ نگاروں کے پاس جانے کے لیے تیار نہیں۔اس کے نزدیک بہت سے لکھنے والے ’ ڈرائنگ رومی‘ہیں اور دکھ کی کیفیت کو سمجھنے سے قاصرہیں۔

وہ نوجوان کا مزید ساتھ نہ دے سکا،جب اپنی رہایش گاہ پر پہنچا رات اپنے بال بکھیر چکی تھی۔

اس رات اس پر پہلی کہانی اتری۔۔۔وقت سے پہلے بوڑھے ہو جانے والے نوجوان کی کہانی۔۔۔وہ جتنا عرصہ اس شہر میں رہا کہانیاں تلاشتارہااوریوں بہت سی کہانیاں تخلیق کیں،درختوں کی کہانیاں،پرندوں کی کہانیاں اور مال روڈپر مٹر گشت کرتے ہوئے آسودہ حال چہروں کی کہانیاں۔جس دن اس کا دوسرے شہر تبادلہ ہوا،اس دن اس نے ایک کہانی ’بزرگ پیڑکا المیہ‘ لکھی،جو دوست سے محبت کا ثبوت تھی۔

وہ شہر شہر گھومتا رہااور کہانیاں تراشتا رہا،ایک مدت کہانی اس کی ضرورت رہی پھر وہ کہانی کی ضرورت بن گیا،مختلف کردار اسے ڈھونڈکر اپنی کہانی لکھواتے،اچانک راہ چلتے کردار اسے مل جاتے اور وہ انھیں کہانی میں ڈھال دیتا۔اس کی اپنی کہانی تیزی سے آگے سے آگے کا سفر کیے رہی۔وہ اس نوجوان مریض کے نقشِ قدم پہ چل کر وقت سے پہلے بوڑھا ہو گیا، زندگی مجرد گزار دی مگر کتابوں اور کرداروں نے اسے تنہا نہیں ہونے دیا۔

افسانہ نگار کرداروں پر ایک نظر ڈال کر لکھنے کی میز کی اور چلا جاتا ہے۔اسے لکھنے کی میز کی اور جاتا دیکھ کر سب کے چہروں پر سرخی کی لہر دھمال ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔وہ ایک عرصہ قلم ہاتھ میں تھام کرمیز پر جھکا رہتا ہے اور اپنی ساری ہمت اور سکت کو بروئے کار لا کر بہ مشکل تمام’مہاتما بہت دکھ ہیں‘ لکھ پاتا ہے اور پھر ایکا ایکی کمرے سے باہر نکل جاتا ہے۔سب کے سب کردار کاغذ پر ٹوٹ پڑتے ہیں،پھر اگلے ہی لمحے افسانہ نگار کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔

کہانی مجھے تلاش کرتی ہے سے ایک اقتباس

بشکریہ: نوید فخر

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں