فتح جنگ نامہ (تاریخ ، ادب اور ثقافت) چھٹہ حصہ

ضلع اٹک کی سرزمین سے بہت سی نامور ہستیوں نے جنم لیا۔ گرمکھ سنگھ بھی اانہی میں سے ایک تھے جوکہ پندرہ جنوری ۱۸۹۹ کو گلی جاگیر کے قریب تحصیل چونترہ کے گاوٗں ادھوال میں پیدا ہوےٗ۔ آپ نے پرایٗمری اپنے گاوٗں کے سکول سے ہی مکمل کی جبکہ باقی تعلیم راولپنڈی کے سکول سے حاصل کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ خالصہ سکول کلرسیداں راولپنڈی میں استاد کے طور پر اپنے فرایٗض انجام دینے لگے۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد یہ نوکری چھوڑ دی اور گیانی بن گےٗ۔

آپ انیس سو چھیاسٹھ سے انیس سو ستاسٹھ تک انڈیا پنجاب کے وزیر اعلی بھی رہے۔

گلی جاگیر سے تعلق رکھنے والے پنجابی بولی کے انمول شاعر نذیر سانول صاحب نے انہی گورمکھ سنگھ کے بارے میں ایک شعر بھی کہا ہے کہ

ساڈیاں کلپھ چتاتھیاں لےگےٗ کیٗ گورمکھ سنگھ مسافر

سانول ہتھ کھلاترا آیا اوبھی تندا ٹٹیا

اس گلی جہانگیر کے اندر سے ایک پر سوز آواز بلند ہوئی۔ جس کے ساتھ اگرچہ میرا تعلق زیادہ پرانا نہیں،پر میں نے اس کے اند ر ایک زندہ سلامت احساس سے بھر پور دھڑکتا ہو دل محسوس کیا ہے۔جومیرے دل کی بات کی ادراک کرسکتا ہے اور پھر اس ادراک کو قرطاس پر منتقل بھی کر سکتا ہے۔اور مزید یہ کہ وہ طبلے اور ہار مونیم کے ساتھ گا کر لوگوں تک ان باتوں کا ابلاغ بھی کرسکتا ہے وہ نذیر سانول ہے۔

یہ دھرتی وہ ہے جوکہ پوٹھوہار کا حصہ ہے۔اور پوٹھوہار وہ حصہ ہے جو کہ پنجاب کا دھڑکتا ہو ادل ہے۔سارے پنجاب میں اور تصوف کی ادائیگی کے لئے میٹھے بولوں اور میٹھے بولوں کی ادائیگی کے لئے میٹھی زبان نے دو آتشہ رنگ دے دیا ہے۔بقول میاں محمد بخش صاحب۔
باج ادا،آواز رسیلے،ہونداشعر الوناں 

      دودھ اندرجے کھنڈر لایے میٹھا ہوندا دوناں

پنجاب کی تیز دوھوپ اور اس کے جلال نے اس کی رزمیہ شاعری میں رنگ باندھا ہے۔چنانچہ آج بھی سیف الملوک اور مرزاصاحباں کے بول اور آہنگ خون کھولانے کیلئے شراب اور شباب کا کام کرتے ہیں۔نذیر سانول میں بھی یہی آہنگ ہے مگرذ رامزاح کے ساتھ۔

   آج جان تلی تے دھرآیاں، اس ظالم ناں ہک وارآں
کالا تک نہ مارولوکومیں، کھوڑاں ناں سردار آں

پنجاب کی گھنی چھاؤں اور اس کے جمال کا نقشہ اور ہی ہے۔نرم کی جگہ پنجاب کی بزم کو دیکھیں تو بسال

پانچ پیروں کے فیض کے چشمے لئے نظر آتے ہیں۔ حضرت داتا گنج بخش،حضرت بہاؤالدین زکریا، حضرت فرید گنج شکر،حضرت میاں میر اور امام بری لطیف وہ بزرگان دین جنھوں نے اس سر زمین میں اسلام کی محبت،مساوات اور رواداری کی تعلیم عام کی۔ آگے بڑھیں تو پانچ آبی دریاؤں کے درمیان پلنے والے بر کدوں اور پیپلوں کے نیچے پانچ صوفی شاعروں کی محفل سجی نظر آتی ہے۔جن شاہ حسین،سلطان باہو،وارث شاہ،بلھے شاہ اور خواجہ فرید آمنے سامنے بیٹھے درد اور دوستی کے گیت سناتے پائے جاتے ہیں۔یہ تھا پنجاب جس کے شہر لاہور میں حضرت عباس علم دار کی ہمشیرہ اور جناب مسلم بن عقیل کی زوجہ محترمہ بی بی پاک دامن،رقیہ بنت علی حیدر کرار تبلیغ اسلام کیلئے تشریف لائیں۔اور یہیں دفن ہیں۔
آگے چل کر حنیف رامے مزید لکھتے ہیں کہ مہکتے میٹھے دریاؤں کے پانی تیز دھوپ گھنی چھاؤں والا میرا پنجاب جس کے تر بجنوں میں ہیروں، سسیوں، صاحباؤں نے اپنے اپنے چر خے ڈاہ رکھے ہیں۔ جن کے چرخوں کی گھو ک سن کر بڑے بڑے رانجھے،مراد، مہیوال،مرزے پہاڑوں اترتے چلے آتے ہیں۔
نذیر سانول بھی ایک پہاڑہی کے دامن میں رہتے ہیں۔جوکہ دریائے سواں کے ٹھنڈے میٹھے پانیوں سے زیادہ دور نہیں وہ یہاں کی زبان میں یہاں کے گیت گاتا ہے۔

وہ پنجاب جس کے گھبروؤں اور مٹیاروں کے رنگ میں دہکتے لہو کی سرخی اور مٹیاروں کی چال ککلی اور کھبرو،کبڈی،کشتی اور گھوڑے سواری میں تاک ہیں۔وہ پنجاب جس کی ہواؤں میں ڈھول، ٹپے اورماہیئے کے اشتیاق انگیز بول اور سر ہیں۔جہاں اونچی اونچی ٹالیاں اور رات کو گاوٗں والوں کی بیٹھک کے لیے چوپال ہیں۔
سواں وادی وہ خطہ ارضی ہے۔جہاں انسانی وجود کے اولین نشان ملتے ہیں۔درد مندوں کا پنجاب خدا شناس پنجاب
وہ امر تاپریتم بھی کہتی ہیں۔
اٹھ درد منداں دیادردیا اٹھ ویکھ اپنی  پنجاب
آج بیلے لاشاں و چھیاں آج لہودی بھری چناب
آج سبھی کیدو بن گئے حسن و عشق دے چور
اسی کیتھوں لے آ یے لبھ وارث شاہ اک ھور
۔

امریتا پریتم
امریتا پریتم

اسی پنجاب میں حالی، علامہ اقبال، حفیظ جالندھری، فیض احمد فیض، سیف الدین سیف،تلوک امرچند محروم، جگن ناتھ آزاد، شیر اٖفضل جعفری، مولوی غلام رسول،میاں محمد صاحب، فضل شاہ دایٗم، مولا بخش کشتہ، استاد کرم، استاد دامن، امرتا پرتیم، احمد راہی اور شریف کنجاہی جیسے پنجابی شعراء موجود ہیں۔
ادیبوں میں کرشن چندر،راجندر سنگھ بیدی، احمد ندیم قاسمی،دیوان سنگھ مفتون، بلونت سنگھ۔ حکیم یوسف حسنی۔مظہر علی خان جیسے لوگ موجود ہیں۔سواں کی وادی کے لحاظ سے خاص طور پر قابل ذکر جسونت سنگھ ہیں۔جوکہ اپنے پریوار کے ساتھ ۷۴۹۱ء کو واہگہ چلاگیا تھا۔مگر وہ اپنی جنم بھومی موضع چونترہ،تحصیل پنڈی گھیب کو نہیں بھلا سکا۔اس نے اپنی نظموں اور اشعار میں وادی پوٹھوہار کی  جھاڑیوں اور بیریوں کے بیرکی یاد میں ایک نظم لکھی۔

جن کا ایک مشہور شعر ہے
اج فیر یاد آےٗ وطناں تیرے کوکن بیر
جان تاں لیے تاں ہھی آکھے جیب ہوٹھاں تے پھیر

Giani Gurmukh Singh Musafir (15 January 1899 – 18 January 1976) was an Indian politician and Punjabi writer. He was the Chief Minister of Punjab from 1 November 1966 to 8 March 1967.

Musafir was born on 15 January 1899 at Adhval, in Campbellpore district of Punjab province in British India (presently Attock District of Punjab Province in Pakistan).

He completed primary education from the village primary school and then went to Rawalpindi to pass the middle school examination. In 1918, he became a teacher at Khalsa High School, Kallar. His four years there as a teacher earned him the epithet Giani, Musafir being the pseudonym he had adopted. In 1922, he gave up teaching and joined the Akali agitation for Gurudwara reform. For taking part in the Guru ka Bagh agitation in 1922, he underwent imprisonment.

He was appointed to the highest religious office of Sikhism Jathedar of the Akal Takht from 12 March 1930 to 5 March 1931

source: Wikipedia.org

download download-1

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں