فتح جنگ کی پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر محترمہ نیلم سلطانہ کو خوش آمدید اور شہر کے مسایٗل

فتح جنگ میں خاتون جج صاحبان تو موجود تھیں۔اب پہلی  دفعہ  ایک محترم خاتون متحرمہ نیلم سلطانہ صاحبہ بطور اسسٹنٹ کمشنر فتح جنگ تشریف لائی ہیں

فتح جنگ شہر کے مسایٗل بے شمار ہیں اور ان کا حل بھی ایک مستقل توجہ چاہتا ہے۔ مقامی سیاست دانوں اور لیڈران کی اس طرف توجہ نہ دینے کی وجہ سے مسایٗل ہیں کہ بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ جبکہ ان کے حل کے لیے کوییٗ ٹھوس پلاننگ نہیں کی جارہی۔اس لیے بطور شہری حال ہی میں فتح جنگ شہر  میں تغینات خاتون اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے کچھ مسایٗل اور ٹی ایم اے کی تاریخ رکھنا چاہتے ہیں۔

بلدیاتی نظام انگریز کا دیا ہوا ہے۔ فتح جنگ میں اسے سو سال سے زیادہ ہو گیا ہے۔1910 ء میں پہلے نوٹیفایٗیڈ ایریا کمیٹی تھی۔ 1925ء  میں سمال ٹاؤن کمیٹی بنی۔ فتح جنگ تحصیل تھی مگر سب ڈویژن نہیں تھی۔ جبکہ پنڈی گھیب اور تلہ گنگ کو انیسویں صدی کے آخر تک انہں یہ اعلیٰ درجہ۔حاصل ہوگیا۔ وہاں 1890ء کی دہائی سے ہی انگریزاسسٹنٹ کمشنرز تعینات رہے جب کہ فتح جنگ میں تحصیلدار کا عہدہ ہی سب سے بڑا رہا تحصیلدار کا عہدہ ہی ٹاؤن کمیٹی کا سربراہ ہوتا تھا

اب ٹاؤن کمیٹی یا میونسپل کمیٹی ۲۰۰۴ء کے الیکشن کے بعد نےٗ بلدیاتی قانون کے مطابق نہیں رہی تھی۔ بلکہ ٹی ایم اے ہوگی۔ اب یہ شہر کی انتظامیہ نہیں رہی۔ بلکہ پوری تحصیل کی انتظامیہ ہوگی۔ شہر کے اندر دو یونین کونسلیں کھل گئیں۔  اورادارے کا بجٹ کروڑوں میں چلا گیا۔

لیکن بد قسمتی سے فتح جنگ کے چند بنیادی مسائل جو ایک سو سال سے بند پڑے تھے۔ وہ حل نہ ہوسکے۔ دراصل یہاں ایک مشترکہ لائحہ عمل  کا فقدان ہے۔ ہر بندے کی اپنی ترجیحات ہیں۔ فتح جنگ شہر ڈھلان پر واقع ایک پہاڑی علاقے پر واقع ہے۔ جہاں پانی نہیں۔۔آدھے شہر کا پانی پانی والی گلی سے گزر کر شہر کے ایک کونے سے طویل سفر کرتا ہوانالہ نندنا میں گرتا ہے۔ اسی نالہ سے شہر کو واٹر سپلائی کا پانی مہیا   کیا جاتاہے۔ گذشتہ ادواروں میں بہت ساری سکیمیں متعارف ہوئی۔چھوٹا شہر تھا چھوٹے مسائل   تھے۔مگر فتح جنگ منی کراچی بنتا گیا۔علاقہ سے ستم گر طبقہ کے ستائے ہوئے لوگ یہاں ہر دور میں پناہ لیتے رہے۔اس لحاظ سے یہ “منی کراچی” ساشہر بن گیا۔ محنت کشوں کا شہر ہے اور یہ کسی کے بھی باج گزار نہیں ہیں۔اپنی رائے رکھتے ہیں۔شہر میں ہر طرف بغیر کسی پلاننگ کے بے ہنگم آبادی بڑ ھ رہی ہے۔اس کا کوئی حل نہیں ہے۔
میرے خیال میں ایک لوکل سوچ والا طبقہ یا تھنک ٹینک ہونا چاہیے۔ان سے پوچھا جائے کہ وہ انشاء اللہ 2050ء تک فتح جنگ کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔
ہر دور میں فتح جنگ کی فزیکل پلانگ کو بر ے طریقہ سے نظر انداز کیا گیا۔ گلیاں کیسی ہونی چاہیں۔بنیادی انفراسٹرکچر  کیسا ہونا چاہیے۔ کروڑوں روپے کی کنکریٹ کی گلیاں بنتی ہیں۔پھر انہں پانی کے پائپ کیلئے اکھاڑا جاتا ہے۔پھر بنایا جاتا ہے پھر گیس کیلئے اکھاڑا جاتا ہے۔ پھر بنایا جاتا ہے۔ پھر اکھاڑا جاتا ہے۔اس لئے کنکریٹ کی بجائے اگرسیمنٹ کی سلیب والی گلیاں بنائی جاتیں تو وہ بہتر  ہوتا۔ باقاعدہ اس پر ریسرچ ورک کیا جائے۔
پانی والا مسئلہ ہر دور میں واقعہ  ہی ریسرچ ورک ہوا ہے۔ راقم نے اس تحقیقی کام کی پوری فائل دیکھی ہے۔ زمین کا سروے پانی کی کفییت،فلٹریشن پلانٹ بڑے معتبر اداروں کی رپورٹیں ہیں۔ سردار سکندر کے دور سے شاہ پور ڈیم سے پانی کی سپلائی کا سلسلہ چلا آرہاہے۔
صبیح خان کے دور میں شہر کے اندر فلٹر یشن پلانٹ لگے تھے جو اب ناکارہ ہوچکے ہیں۔
۔سب سے بڑا دکھ منڈی مویشیاں کے اجڑنے کا ہے کیسا کاروبارکابڑا میلہ تھا۔
میلہ بابا سائیں حاضر حضور۔
اڈے کی ہالٹیج فیس
وٹرنری ہسپتال کاا لمیہ۔
نئے اڈے کا المیہ۔
پنڈی روڈ پربے ہنگم ٹریفک کا رش اوردباوٗ ۔
ایجوکیشن۔
صحت۔
ان سب مسائل کو کون حل کرے گا؟سرسری ساجواب مورخہ25-01-2016 کو نوائے وقت میں محترمہ طیبہ ضیاء کے کالم سے ملا۔
قدرتی آفات سے تو ترقی یافتہ ملکوں کو بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ مسائل کس طرح حل کرتے ہیں۔
وہ لکھتی ہیں “نیویارک سٹی میں جمعہ کی شب برفانی طوفان سے شدید برفباری کے بعد اتوار کی صبح جاکر دم لیا۔گورنر نیویارک نے جسطرح اپنی انتظامیہ کو متحرک کیا۔ وہ پاکستانی خادموں اور حکمرانوں کیلئے مثال ہے۔بغیر پروٹوکول ایک شاہراہ سے دوسری تک جارہے ہیں وہاں سارا ملبہ حکمرانوں پر نہیں ڈالا جاتا۔ عوام بھی اپنی ذمہ داریوں کی پابند ہے۔ شہریوں کو بھی اپنے حصے کے کام خود کرنے پڑتے ہیں۔بصورت دیگر ان کو جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری  کواپنے گھر کے سامنے سے برف نہ صاف کرنے کی صورت میں 55ڈالر جرمانہ کیا گیا۔ گورنر نیویارک سڑکوں پر عوام کی خدمت کرتا نظر آتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہاں کی جمہوریت کو 240 سال ہو گے ہیں۔ خدا کے بندو 70سال ہمیں بھی ہوگے ہیں۔کیا صدیوں انتظار کریں گے مہذب ہونے کیلئے۔ سبزی کی دکان پر جانا پہچانا

گوراقطارمیں نظر آیا۔پوچھنے پر پتہ چلا کے وہ ریاست کا گورنر ہے۔اور لائن بنا کر انتظار کررہا ہے۔ اس شہر میں بھی اور پاکستان میں بھی تبدیلی لاییٗ جاسکتی ہے لیکس اس کیلیے ہمین  لوگوں کو متحرک کرنا ہوگا۔
زرعی زمینوں کی بلاوجہ تعمیراتی  کالنیوں میں تبدیلی۔کیا اس کی طرف بھی کوئی توجہ دیں گے۔
شاہ پور ڈیم تفریحی مقام بن چکا ہے۔مقامی صنعتوں کو فروغ دینے میں اس مقام سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
ان سب مسائل کو حل کرنے کیلئے۔میرا اپنا خیال یہ ہے کہ اس کیلئے ہم شہر کیلئے ویژن 2050ء یا  “۔سہنرے خواب” کو تشکیل دیں۔
اور اس سلسلہ میں شہر کے لوگوں کو اکھٹاکرنا ہوگا۔۔

 زرعی زمینوں کی بلاوجہ تعمیری کالونیوں میں تندیلی یہاں کی خوارک کی ضرورت اور زرعی زمینوں کو نگل رہی ہے اس کو روکنے کے لیے بھی کچھ اقدامات کی ضرورت ہے

راولپنڈی روڈ پر شاہ پور ڈیم جو کہ ایک تفریحی مقام بن چکا ہے ۔ اسی طرح یہاں کی مقامی چھوٹی صنعتوں کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔

ہمیں بھی اس شہر کے مسایٗل کو حل کرنے کے لیے ساٹھ کی دہاییٗ کی ایک مشہور پکچر فاربڈن پلینٹ کی طرح پلاننگ کرنی چاہیے تاکہ مسایٗل سے موثر طریقے سے نمٹا جاسکے۔ اس مووی میں بھی جوکہ انیس سو چھپن میں بنی تھی لیکن اس میں تیٗسویں صدی کے مسایٗل اور ان کا حل بتایا گیا تھا

شہر کے اند ر سو سے زائد تعلیمی ادارے ہیں۔سو سے زیادہ ڈاکٹر صاحباں ہیں۔سو سے زائد وکلاء حضرات ہیں۔سنیکڑوں صاحب نظر آفیسر صاحباں ہیں۔

کبھی شہر میں ایک تحصیل دار صاحب ہوا کرتے تھے۔
انیس سو پینسٹھ میں سید ریاض حسین جان تحصیل دار تھے۔جو مجسیٹریٹ بھی تھے۔
بلدیہ کے مجسٹریٹ اوراسسٹنٹ کمشنر صاحباں رہے ہیں۔
ستر کی دہائی میں یہاں۔۔۔۔صاحباں ہیں۔80 کی دہائی سے اے سی صاحباں آتے ہیں۔
اسی کی دہائی میں صفدر حسین ملک پہلے جج آئے تھے۔اب مشاء اللہ بہت خوبصورت جوڈیشل کمیشن موجود ہے۔ تین سے زائد جج صاحباں موجود ہیں۔
بخشی خانہ تعمیر ہوچکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خوبصورت ایڈیشنل سیشن جج صاحب کی عدالت ہے۔
اتنے سارے صاحباں نظر شہر میں موجود ہیں۔ شہر کی تقدیر کو بدلنا چاہیے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں