بابا سکندر

ہم بہت جلد بھول جانے والی قوم ہیں اور آنے والے زمانے پر نظر نگاہ نہیں ڈالتے۔ بلکہ اس کے لیے ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے۔ہم تو آج کے آشو ب میں سے ہی نکل نہیں رہے۔ شکم کی آگ لیے شہر بہ شہر پھر رہے ہیں۔
ہمارے سماجی ڈھانچے میں بعض روایات،حکایات اور اصلاحات خود بخود وضع ہوجاتی ہیں۔ اور زبان زد عام ہوجاتی ہیں۔ جب کویئ مافوق الفطرت بات کہہ دیتا ہے تو اسے فورا پاگل قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن پاگل پن جب دیوانگی اور پھر جنون کی شکل اختیار کرلیتا ہیتو یہ دنیا سنو رنے لگتی ہے۔ پھر چند نصب العین رکھنے والے دیوانے اٹھتے ہیں اور مستقبل کے خوا ب دکھاتے ہیں۔ جس پر اس جہان رنگ و بو کی تعمیر رہتی ہے۔

محنت کشوں کے اس شہر فتح جنگ میں دو سکندر نامی شخصوں سے واسطہ پڑا۔ ایک اس دنیا سے گزر گےء اور ایک ابھی تک گلیوں میں سے گزر رہے ہیں۔

ایک بابا سکندر مرحوم تھا جنہیں لوگ  لحاف والے باباجی کے نام سے جانتے ہیں۔ گرمی ہو یا سردی لوگوں نے انہیں ننگے بدن کے ساتھ فتح جنگ کی گلیوں میں ایک لحاف اوڑھے دیکھا۔ وہ تحصیل روڈ کی سڑک پر گھومتے نظر آتے۔ ہم میں شاید اتنی بصیر ت نہیں کہ ہر ایک کو پرکھ سکیں اور اس کے بارے میں ایک راےء قایم کرسکیں۔ہاں اتنا ضرور جانتے ہیں کہ فلاں مجذو ب ہے نجانے کس حال میں ہے۔ فلاں جنونی ہے لیکن نہ جانے کب کس وقت کیا کربیٹھے۔

باباسکندر آخر اس شہر سے بغاوت کرکے جس علاقے میں گےء وہاں کی نیء آبادیاں اپنے اندر ایک نیا جہاں لیے ہیں۔ جس کے گلی کوچوں اور بازاروں میں ا ن گنت بابے سکندر آوازیں لگاتے پھر رہے ہیں۔جو شاید ہم کو کچھ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم کوتاہ نظری کے باعث کچھ دیکھ نہیں پاتے۔
دراصل فتح جنگ شہر میں ایک بھرپور خاموش انقلاب آیا ہے۔ اس انقلاب میں بابا سکندر جیسے ہزاروں نورتنوں نے حصہ لیا لیکن افسوس کہ تاریخ ہمیشہ ان بابوں کے ذکر پر خاموش رہے گی۔ یہ گزرتے وقت کی طرح گمنامی کے اندھیروں میں گم ہوجاییں گے۔

دوسری شخصیت بابا سکندر اچار والے کی ہے۔ شاید فتح جنگ کی اکژیت حیران ہوکہ یہ کونسی ہستی ہے

جس سے ناواقف ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہر کی اکثریت اس ہستی سے ناواقف ہی ہے۔ اور ناواقف ہونابھی چاہیے کیونکہ یہ شخصیت مشہور نہیں بلکہ ایک مزدور ہے جوکہ اپنے  بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے اچار کا مرتبان سر پر اٹھاےء گلیوں میں اچار اچار کی صداییں لگاتا ہوا پھرتا ہے۔ پھر زمانہ اسے کس طرح پہچانے اور یاد رکھے کیونکہ یہ دنیا کا شروع سے دستور رہاہے کہ یہ پہچانتا اسے ہی ہے جس کے لیے گلیوں اور سڑکوں پر ہٹو بچو کی صداییں بلند ہوتی ہیں اور جس کے آگے سکواڈ کی ہوٹر بجاتی گاڑیاں ہوتی ہیں۔ اور جن سے ملاقات جوےء شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔

باباسکندر تو فتح جنگ کے ان ہزاروں محنت کشوں کی طرح اپنے رزق کی تلاش میں علی الصبح گھر سے نکلتا ہے۔کویی رکشہ لے کرنکلتا ہے، کویی گدھا گاڑی لے کر اور کویی اپنی دیگر اشیائ کی چھابڑی لے کر۔ ان ہزاروں کی دوکانداروں کی طرح جو اپنے مقدر کی تلاش میں صبح تڑکے اپنی دکان کھولتے ہیں۔ گلی میں پانی کا چھڑکاوء کرتے ہیں۔اور اپنے مقدر پر شاکر رہ  کر رزق کی غیبی تقسیم پر ایمان رکھتے ہوےء گاہک کا انتظار کرتے ہیں۔
مجھے بابا سکندر کی جس خوبی نے متاثر کیا ہے وہ ان کی بوڑھے جسم میں جوانوں والی چستی ہے۔ ان کے سانولے چہرے پر اسودگی کی دمک ہے۔ اور یہ دمک روحانی ہے۔ روحانی خوشی کے لیے اتنی بات ہی کافی ہوتی ہے کہ رزق حلال کے چند سکے جیب میں کھنک رہے ہیں۔

بابا سکندر کا شمار ان تین چوتھایی محنت کشوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی آنکھوں میں آنے والے زمانے کے دیپ جلاےء بیٹھے ہیں۔ اگر اپنے استحصالی ماحول اور ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھا جاےء  اور وہاں سے مہک اور روشنی جاےء۔ اسی طرح حال کے لمحوں کو زیست بنایا جاےء اور مستقبل کے کچھ سہانے خواب فتح جنگ کے باسیوں میں بانٹ دیے جاییں تاکہ ان کی باسی کڑھی میں ابال آجاےء تو اس کے لیے چند تجاویز قابل غور ہیں۔
آبایی محنت کشوں کے شہر ہونے کے ناطے اس کے مٹتے آبا ء کے پیشوں کی حرمت کو بحال کیا جاے۔
بنگلہ دیش کے گرامین بنک کی طرح کی تجاویز پر عمل کرتے ہوےء کچھ ایسے اقدامات اٹھاےء جاییں جس سے کارکن کی عزت نفس ہر حال میں بحال ہو۔

یہاں کے قدیم پیشوں کی جدید تقاضوں کے مطابق تبدیلی کی جاے تاکہ عوام معاشی طور پر خود کفیل ہوسکے۔

یہاں کا دوسرا طبقہ کاشت کاروں کا ہے لیکن افسوس کہ تعمیرات کا عفریت اب زرعی زمینوں کو نگل رہاہے۔ جہاں کھیت کھلیان تھے وہاں بڑے بڑے مکانات اور ہاوسنگ سوسایٹیز دکھایی دیتے ہیں۔ شہر میں ملٹی سٹوریز تعمیرات کرکے ان زرعی زمینوں کو محفوظ رکھاجاے۔

ہمارے تعلیمی اداروں کو زیادہ سے زیادہ ٹیکنیکل بنا یا جاے تاکہ ہر بچہ کسی نہ کسی طرح کے ہنر میں طاق ہو۔ جس طرح علاقایی کہاوت ہے  کہ لوگ یا تو پتر سے یا ڈنگر سے اپنی زندگی دوبارہ بحال کرتے ہیں۔

کھیر ی مورت میں لاییو سٹاک کا ایک بڑا ادارہ موجود ہے لیکن فتح جنگ شہر کے اندر اگر ایک وٹرنری کالج قایم کیا جاے جس کا کیمپس شہر میں ہو اورعملی تربیت کھیری مورت کے ادارے میں دی جاے۔

فتح جنگ میں ایک پبلک لایبریر ی قایم کی جاے کیونکہ ہر شخص بابا سکندر اچار والے کی طرح اگرچہ جدید علوم والی کتب یا حالت حاضرہ نیں پڑھتا لیکن اس کی آنکھوں میں ایک چمک ہے کہ اس کی اولاد اور دیگر جدید علوم، حالات حاضرہ و سیاسی و معاشی پس منظر سے آگاہی حاصل کرے۔

ہمیں بابا سکندر کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے میں ان کی مدد کرنی ہوگی۔ آیے اس عزم کے ساتھ  اپنیزندگی کا آغاز کریں کہ ہم مل کر فتح جنگ کو پاکستان کا ایک مثالی شہر بناییںگے

 بشکریہ: ماہنامہ تلاش حقیقت

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں