فتح جنگ نامہ( تاریخ، ثقافت او ر ادب) حصہ پنجم

آزادی سے پہلے کوٹ فتح خان میں واقع بابا تھا ن سنگھ کی مڑی پر بھی سالانہ میلہ ہوتا تھا۔ وہ روایت تو ختم ہوگیٗ۔ مگر وہ گنبد والا مزار

ابھی تک موجود ہے۔جوکہ انتہاییٗ خستہ حالت میں ہے۔ اس کے اندر کی حالت مقامی لوگوں کے اسے جانوروں کے اصطبل کے طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے انتہاییٗ خراب ہے۔

فتح جنگ شہر میں حضرت بابا سایٗیں حاضر حضور کے مزار پر سالانہ میلہ بھادوں کے مہینے میں ہوتا

تھا(جوکہ اب تین چار سالوں سے سیکورٹی کی ابتر صورتحال کی وجہ سے منعقد نہیں ہوتا)۔اس میلے میں ملک کے مشہور فنکار بشیر لوہار، لوک گلوکارہ نصیبو لعل اور تھیٹر کی کیٗ مشہور شخصیات بھی شرکت کرتی تھیں۔
مکھڈ میں حضرت نوری بادشاہ کے مزار پر سالانہ  عرس ہوتا ہے۔اٹک خورد کے مقام پر بھادوں میں حضرت صدرالدین بخاری کے مزار پر سالانہ میلہ منعقد ہوتا ہے۔حسن ابدال میں تقریبا دو ہزار فٹ کی بلندی پر ونچی چوٹی پر حضرت بابا ولی قندہاری کا آستانہ ہے۔ جہاں کچھ عرصہ انہوں نے قیام کیا۔ ہرجمعرات کو وہاں رات کو چراغ جلایا جاتا ہے۔  جوکہ ساری رات جلتا رہتا ہے۔پہاڑی کے قدموں میں پنجہ صاحب کا گوردوارہ ہے۔جہاں بیساکھی کے میلے میں سکھ حضرات اندرون و بیرون ملک سے شرکت کرتے ہیں۔اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

پنجابی زبان کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ جس کے سمجھنے اور سمجھانے کے لیے چند صفحات ناکافی ہیں۔

راقم الحروف کی عمر عزیز کا زیادہ تر حصہ کھیری مورت اور سواں کے درمیانی علاقے میں گزرا ہے۔یہاں کی پگڈنڈیوں پر پیدل چلاہوں۔ گاڑیوں، بسوں اور ٹریکٹروں پر سفر کیا ہے۔اس نسبت سے اس علاقہ سے ایک گونہ عشق ہوگیاہے۔پنڈی گھیب  و تلہ گنگ سے جوسڑک فتح جنگ کی طرف آرہی ہے اگر آپ اس سڑک پر سفر کررہے ہوں تو ڈھلیاں چوک سے آگے مشہور قصبہ کھوڑ آتا ہے۔جوکہ تیل کمپنی کے سبب سارے ملک میں مشہور ہے۔اس سے آگے مشہور گاوٗں ڈھرنال آتا ہے جہاں اسی کی دہاییٗ میں تیل دریافت ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس علاقے کا مرکز بن گیا۔ وہاں سے ایک سڑک  گنڈا کس مہلوال کوجاتی ہے۔ جس کے آگے گنگوالہ ہے۔ سڑک وہاں سے ہوتی ہوییٗ دریاےٗ سواں کے کنارے تک پہنچتی ہے۔ جس کے دوسری طرف چکری گاوٗں ہے جس کے سامنے سے موٹروے گزررہی ہے۔

چکری گاوٗں سے آگے یہ سڑک چپریڑ تک جاتی ہے۔ یہ دور تک پھیلا ہوا سیاہ پتھریلی چٹانوں کا سلسلہ ہے۔ جو نہایت خوبصورت شکل کی مختلف جانوروں اور چیزوں کا نقش و نگار بناتی ہے اور یہ سلسلہ کھیری مورت پہاڑ تک جاملتا ہے۔ اسی کھیر ی مورت پہاڑ کا سینہ چیر کر موٹر وے کا راستہ بنا یا گیا ہے۔

کھیری مورت کی ان پتھریلی چٹانوں کے بارے میں ایک روایت مشہور ہے کہ ایک پوری بارات یہاں پتھر کی بن گیٗ تھی۔ جبکہ اسی کھیری مورت گاوٗں میں ایک پتھریلی نشست جوکہ ایک تالاب میں ہے، کے بارے میں بھی روایت ہے کہ یہاں مشہور راجہ رسالو چوپٹ کھیلا کرتا تھا۔ راجہ رسالو کو ایک انگریز سی آر ٹیمپل نے اپنی لوک کہانیوں کی کتاب میں صفحہ اول پر اندراج کیا ہے۔اور یہ داستان سو صفحات پر مشتمل ہے۔

فتح جنگ پنڈی گھیب روڈ پر گلی جاگیر کا مشہور سٹاپ بھی آتا ہے۔ جہاں اب فتح جنگ کی منڈی مویشیاں کے بند ہوجانے کے بعد علاقے کے جانوروں کی خریدوفروخت بھی کی کی جاتی ہے۔ اسی گلی جاگیر میں دور سے ہی کھیری مورت پہاڑ کا دیدار ہوتا ہے۔ میں تو تقریبا روز ہی یہ درشن کرتا ہوں۔ مجھے اس پہاڑی سے ایک گونہ محبت ہے۔ اس محبت کی کیا وجہ ہے کہ دل میں گھر کر گیٗ ہے۔ مکہ محظمہ میں جبل رحمت پر غار حرا واقع ہے۔ اور دور سے پہاڑی کے اوپر سے غار کا حصہ اس طرح نمایاں ہوتا ہے کہ جیسے کسی نے پہاڑی کے اوپر کلہ رکھ دیا ہو۔یہ تاثرات مشہور ناول نگار نسیم حجازی نے اپنے سفرنامہ حجاز میں بھی درج کیے ہیں۔
دور سے اگر گلی جاگیرکے قریب کھیری مورت پہاڑ کو دیکھا جاےٗ تو پہلے بیان کردہ غار حرا کے موجب ایک گونہ مماثلت ہے۔اسی طرح پہاڑی کے اوپر ایک کلہ نمایاں نظر آتا ہے۔گویا ہم گلی جاگیر میں بیٹھ کر اپنے محبوب کے محبوب ترین مقام کی زیارت کرلیتے ہیں۔کہ ایک ذرا گردن اٹھاییٗ اور مقام یار کی زیارت ہوگیٗ۔
اکثر اسی وادی میں مجھے مشہور شاعر  احمد فراز کا یہ نعتیہ شعر ضرور یاد آتا ہے۔
میرے رسولﷺ کہ نسبت تجھے اجالوں سے                       
میں تجھ کو یاد کروں صبح کے حوالوں سے                               

نوٹ: یہ مضمون کافی عرصہ پہلے لکھا گیا تھا۔ اور اب کیٗ علاقوں میں کافی تبدیلی آچکی ہے۔ اس لیے اس مضمون میں بیان کردہ کیٗ باتوں کو پہلے سالوں کے تناظر میں دیکھا جاےٗ

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں