فتح جنگ نامہ (تاریخ ، ادب اور ثقافت) حصہ دوم

اکبر اعظم کے دور میں گھیب علاقہ سندھ ساگر سر کار کا حصہ تھا۔جس میں پورا سندھ ساگر دوآبہ شامل تھے۔اس  کے ایک پر گنہ یا محل میں یہ علاقہ شامل تھا۔اس علاقہ میں اٹک،بنارس،اعوان کاری،علاقہ نیلاب،پوٹھوار کاعلاقہ پھر والہ اور تخت بڑی شامل تھا۔
علامہ ابو الفضل نے اپنی کتاب “آئین اکبری”میں ان علاقوں کے محصولات کا تذکرہ ہے۔جو کہ اس زمانے میں ساڑھے چار لاکھ روپے تھا۔

یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ دریائے جہلم سے مارگلہ اور مغرب میں کھیری مورت تک سرکار دہلی سے علی الرخم گکھڑاس علاقہ کے حکمران تھے۔ گکھڑوں کے  دہلی اور آگرہ کے حکمران اس علاقہ کےحکمران قبیلہ تھے جن کے آباؤ اجداد صفہان کے علاقہ کیا ن سے آئے۔ جن کے جد امجد سلطان کیدولد کے گو ھر تھا۔ اس علاقہ میں دور انحطاط میں ان کے جد امجد میں سے کابل شاہ نے سلطان سبکتگین کے ہاں پناہ لی تھی جس کے بیٹے کا نام گکھڑ شاہ تھا جو سلطان محمود غزنوی کے ساتھ ہندوستان آیا تھا۔

ان کا تذکرہ  1205ء میں ملتا ہے جب شہاب الدین غوری نے پنجاب پر حملہ کیا تھا۔ وہ اس ابھرتی ہویٗ طاقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوےٗ تھے۔ کہتے ہیں کہ شہاب الدین غوری انہی کے ہاتھوں دریاےٗ سندھ کے کنارے سوتا ہوا مارا گیا۔ ان خیالات کی تردید جہان داد خان آف گکھڑ نے کی جس کا تذکرہ 1893ء کے راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ گزیٹیر میں موجود ہے۔ انہوں نے جنرل کننگم کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوےٗ ان خیالات کو جھٹلاتے ہوےٗ کہا کہ شہاب الدین غوری کو شکست دینے والے گکھڑنہیں بلکہ کھوکھر تھے بعد میں جنہوں نے شہاب الدین غوری کو مار بھی دیاتھا۔
چودہ سو تینء میں تیمور کے حملہ کے وقت یہاں گل محمد گکھڑ حکمران تھا۔ بابر نے گکھڑوں پر حملہ کیا تھا۔ تو بابر کی تاریخ کے مطابق گکھڑ اپنے پہاڑی مقام پھروالہ میں قلعہ بند ہوگےٗ تھے۔مغلوں کے دور میں گکھڑوں کے حکمران سارنگ اور آدم خان کے حصے میں حکومت آییٗ۔1541ء میں شیر شاہ سوری نے ہمایوں بادشاہ کو ہندوستان سے نکال باہر کیا  تو گکھڑ سردار سلطان سارنگ نے ہمایوں کا ساتھ دیتے ہوےٗ روہتاس قلعہ کے مکینوں کو ہمیشہ پریشان کیے رکھا۔
سلطان سارنگ کے دوبیٹے تھے۔ اس  کا ایک بیٹا کمال خان1559ء میں فوت ہوا۔کمال خان کے بیٹے جلال خان کو پھروالہ کی حکمرانی ملی۔اس کے ایک سال کے بعد کمال خان کے دوسرے بیٹے مبارک خان کو حکمرانی منتقل کی گیٗ۔کیٗ نسلوں کے بعد حکمرانی دلو مراد خان کو ملی جوکہ اپنی بخشش کے سبب لکھی مراد خان بھی مشہور تھا۔ جو 1726ء میں فوت ہوا۔اس کے بعد اس کا بیٹا معظم خان حکمران مقرر ہوا۔ تیرہ سال کی بادشاہت کے بعد علاقہ پوٹھوہار کا آخری مسلمان سلطان، سلطان مقرب خان تھا۔یہ اسلامی ہند کی آخری چٹان تھی جوکہ 1765ء کو گری۔سلطان مقر ب  خان کو گجرات کے مقام پر سکھ سردار گجر سنگھ بھنگی نے شکست دی تھی۔
سکھا شاہی کا آغاز تو سلطان مقرب خان کی وفات سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ راولپنڈی پر ملکا سنگھ جوکہ لاہور کے ایک گاوٗں کا تھا نے قبضہ کرلیا۔1814 ء میں ملکا سنگھ کے پوتے کی وفات کے بعد ہمارا سارا علاقہ براہ راست مہاراجہ رنجیت سنگھ کے تخت لاہور کے ماتحت ہوگیا۔1849 ء میں پھر انگریزوں کے دورحکومت کا آغاز ہوا۔

ملک امانت خان جودھڑہ آف پنڈی گھیب نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے والد مہان سنگھ سے 1789ء میں پوری تحصیل تلہ گنگ،مکھڈ کے علاوہ  تحصیل پنڈی گھیب اور فتح جنگ کا علاقہ 6900 روپے مالیہ پر لے لیا۔کچھ عرصہ سکھوں کا کیلیانوالہ خاندان اس علا قہ کا جاگیردار رہا۔ تاہم انہوں نے زیادہ تر اپنے آپ کو پنڈی گھیب کے جودھڑہ خاندان سے مالیہ وصول کرنے تک اپنے آپ کو محدود رکھا۔اور باقی معماملات میں صبر شکر کرتے رہے۔ درج ذیل کیلیانوالہ کے جاگیردار رہے

دل سنگھ کیلیانوالہ  1825……1798

دھن سنگھ کیلیانوالہ 1828……1825
مالوہ سنگھ کیلیانوالہ 1832………1829
بدھ سنگھ سندھیانوالہ1842……1832
ان سب کارداروں نے مالکان پنڈی گھیب کو ہی مالیہ کی لیز دی۔ اس کے بعد ملک نواب خان آف پنڈی گھیب نے اس لیز کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔اور بھاگ کر سردار دوست محمد خان آف کابل کے ملکر سکھوں سے جنگ کی۔ وہ جلاوطنی کے دوران ہی کوہاٹ میں مدفن ہوےٗ۔
یہ سارا انتظام اسی طرح چلتا رہا حتی کہ سکھ دربار کے ایجنٹ نکلسن کا دور آگیا۔ یہاں سکھا شاہی کا دور تقریبا تیس سال تک رہا۔جوکہ قتل و غارت اور لوٹ مار سے عبارت ہے۔ سکھ کاردار اتنے بااثر نہیں ہوتے تھے کہ وہ اس علاقہ سے اس اندھیر نگری کو ختم کرسکیں۔ ویسے بھی وہ اس علاقہ پر توجہ کم دیتے تھے۔ وجہ اس علاقہ کی غیر آباد ہونے کی اور لوگوں کے نہایت جھگڑالو ہونے کی تھی۔ جس کی وجہ سے انہوں نے لوگوں کو اختیار دے رکھا تھا کہ وہ تلوار سے کام لیں یا انصاف سے اپنے معاملات کو حل کرنے کو، وہ دخل اندازی نہیں کرتے تھے۔
اس دور کا اہم واقعہ جودھڑوں کا زوال، گھیبوں کے عروج اور بلند ستارے کے آغاز کا زمانہ تھا۔ تقریباپوری تحصیل پندی گھیب، چکوال کا کچھ حصہ، پنڈی گھیب اور فتح جنگ کا زیادہ تر حصہ جودھڑوں کی کمزوری کے سبب ان کے ہا تھوں سے سرک گیا۔  اس دور کا آغاز 1798ء میں ہوا جب ملک  نواب خان آف پنڈی گھیب نے سکھوں کو مالیہ دینے سے انکار کرکے والی آف کابل کی مدد سے ان کے خلاف اعلان جہاد کردیا۔اس وقت دندی اور لنگڑیال کا علاقہ ان کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ملک نواب کا چھوٹا بھایٗ غلام محمد خان تھا جوکہ سکھوں کے ساتھ معاہدوں کی صورت میں منسلک ہوگیا۔ اس کا معاہدہ سردار دل سنگھ کیلیانوانلہ سے ہوا تھا۔

نوٹ: یہ معلومات حتمی نہیں ہیں، اگر کسی کے پاس اس سے بہتر معلومات ہوں تو نیچے دیے گےٗ کمنٹس باکس میں اپنی راےٗ کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ یا پھر ای میل کے ذریعے رابطہ کرلیں

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں