فتح جنگ نامہ (تاریخ ، ادب اور ثقافت) حصہ سوم

اٹھارہ سو پچیس میں سیل، کھنڈہ، کمڑیال اور کھوڑ جودھڑوں سے آزاد ہوےٗ۔اور اس کے بعد علاقہ گھیب(کالا چٹا اور کھیری مورت پہاڑ کے درمیان) کو ملک غلام محمد خان آف پنڈی گھیب اور کوٹ کے گھیبے راےٗ محمد خان کو اس طرح تقسیم کردیا گیا کہ تحصیل فتح جنگ کا آغاز ہوگیا۔ دونوں نے سید احمد شہید کے خلاف سکھوں کی مدد کی۔1827ء میں اٹک کے قریب اکوڑہ کے مقام پر ملک غلام محمد نے  عطر سنگھ اور جنرل وکٹورا کے زیر کمان بالاکوٹ کے مقام پر جنگ کی۔1830ء میں اسے اس پورے علاقے کی حکمرانی دی گیٗ۔
اللہ یار اور فتح خان کو بطور یرغمال رکھا گیا۔جب کہ دونوں کے باپ بھاگ آئے راستے میں رائے محمد خان نے ملک غلام محمد کو قتل کر دیا۔یہ واقعہ امر تسر کے دور میں ہوا۔یرغمال کا یہ واقعہ نوبزادہ سرفراز حسین آف پنڈی گھیب نے بھی راقم کو سنایا۔ان سے ملاقات ان کی کوٹھی چوک پنڈی گھیب کی نئی ہسپتال کے سامنے واقع ہے۔ان کی قدیم حویلی جو کہ 1921ء میں ملک اللہ یار نے تعمیرکی تھی۔اندورن شہر واقع ہے،جہاں ان کے بیٹے ملک فتح خان رہتے ہیں جوکہ 1970ء میں ایم پی اے جبکہ نوبزادہ سرفراز حسین،لیاقت علی خان کے دور میں ایم پی اے رہے۔لیاقت علی خان پنڈی گھیب میں ان کی کوٹھی پر تشریف لاےٗ تھے۔
اس قتل پر رائے محمد خان کو سزانہ ہوئی بلکہ سید احمد شہید کے خلاف جنگ کا اعلان ملا۔اس وقت حکمران سردار سنگھ کیلیا نوالہ تھا۔1831ء میں رائے محمد خان کو کوٹ فتح خان کے قریب پاگھ کے قلعہ میں بڈھا خان آف ملال کے ہاتھوں ماراگیا۔اس واقعہ کا تفصیلی تذکرہ کرنل کروکرافٹ نے ڈسڑکٹ گز ٹیر اٹک 1930ء میں کیا ہے۔اس کا بدلہ رائے محمد خان کے بیٹے فتح خان آف کوٹ فتح خان نے بڈھا خان کے خاندان کو ختم کر کے لیا۔سردار فتح خان ایک نامور شخصیت تھا۔جو کہ 1894ء میں سو سال کی عمرمیں فوت ہوا۔اس کی نرینہ اولاد نہیں تھی۔اس کا وارث اس کے بھائی کا بیٹا غلام محمد خان تھا۔جس کا بیٹا سردار
محمد علی خان 1909ء میں فوت ہوا۔اور ان کے بیٹے سردار محمد نواز خان آف کوٹ تھے۔جنہیں عرف عام میں “سردار کوٹ “کہاجاتا ہے۔
“سکھوں کی جنگ میں ایک خاندان کے علاوہ کسی نے زیادہ دلچسپی نہیں لی۔صرف اور صرف فتح خان آف کوٹ فتح خان نے سکھوں کی کمزوری کی نشانی دہی کی بلکہ بغاوت کردی مگر چترسنگھ اٹاری والا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔تاہم مصر امیر چند کی معرفت وہ سکھوں کی قید سے بھاگ نکلے اور بغاوت کردی مگر کرنل ارنس کے سمجھانے سے اطاعت قبول کر لی”۔
سکھوں کے ساتھ جنگ کے واقعات علاقہ گھیب میں سلسلہ بہ سلسلہ روایات کی صورت میں موجود ہیں۔جنہیں مختلف صورتوں میں دہرایا جاتا ہے۔یہاں کا جھومر اور لڈی عسکری دھنوں کی غمازی کرتا ہے جس کے بول طبل جنگ بجا رہے ہوتے ہیں۔یہ واقعات لاشعوری طور پر ہمارے لوک گیتوں میں بھی پاےٗ جاتے ہیں۔
فتح جنگ شہر کے اندر طویل گنج شہیداء ہے۔ اس میں دفن شہداء سلسلہ بہ سلسلہ روایت کے مطابق شہید ہوےٗ۔ مسجد فاروق اعظم(اڈے والی مسجد) کے اندر بھی شہداء کی قبریں ہیں۔ اور یہاں سے مشرق کی جانب واقع قدیمی پیر مخدوم جہانیاں قبرستان تک شہداء کی قبریں تھیں جوکہ وقت گذرے کے ساتھ ساتھ معدوم کردیں گیٗیں یا ہوگیٗیں۔ شہداء کی قبریں کھوڑ روڈ پر واقع سردار اسد خان پٹرول پمپ کے عقب میں بھی واقع ہیں۔اڈے والی مسجد سے لیکر مشرقی محلہ میں ماڑی مصراں،جوکہ اب معدوم ہوچکی ہے، تک طویل گنج شہیداں تھا جوکہ اب آبادیوں کے نیچے دفن ہوچکا ہے۔شہر کے مشرق میں بڑی بن کا محلہ جسے تالاب اپر دیال بھی کہتے ہیں، کے جنوب میں شہداء کا چورا واقع ہے۔
اس کے علاوہ شہر کے مغرب میں چاساں والی ڈھیر ی موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ یہاں کبھی سکھوں کا رنگ محل تھا۔ جہاں عزتوں کو داغدار کیا جاتا تھا۔ ان کو یہاں کے مقامی سرداروں نے بعد میں ختم کردیا تھا۔
ان واقعات نے ہماری ثقافت و ادب کو بھی بہت متاثر کیا اور ہر دور کے عوامی فنکاروں نے ان واقعات کو اپنے شعروں اور لہجے کی مٹھاس میں سمودیا جوکہ بعد میں ہمارے لاشعور کا حصہ بنتا گیا۔
شہداء کے لہو رنگ گرمی یہاں کے اولیاء اللہ کی تصوف  کی مٹھاس اور چاشنی میں بھی شامل ہے۔ جس نے یہاں کے شعروادب پہ گراں مایہ اثر کیا۔
فتح جنگ شہر کے مشرقی کونے میں واقع قدیم قبرستان حضرت مخدوم جہا نیاں جہان گشت سے منسوب ہے۔ یہاں کی مقامی روایات کے مطابق حضرت مخدوم جہانیاں یہاں تشریف لاےٗ تھے۔کہتے ہیں کہ اس دور میں یہاں جنگل تھا اور شیر جھاڑو دینے آیا کرتے تھے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مخدوم صاحب حیات المیر زندہ ولی تھے۔ کوییٗ کہتے ہیں کہ بابا ولی قندہاری اور حضرت مخدوم جہانیاں ایک ہی شخصیت کے دو مختلف نام ہیں اور کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہاں سے چراغ جلتا تھا اور  ا س کی لو بابا ولی قندہاری حسن ابدال کی پہاڑی سے نظر آتی تھی۔لیکن تاریخی واقعات ان روایات کے خلاف ہیں۔ تاریخ کے مطابق  اگر یہ بیٹھک واقعی حضرت پیر مخدوم جہانیاں جہاں گشت کی ہے تو وہ اوچ شریف کے سلسلہ سہروردی کے بزر گ تھے

ان کی ولادت اوچ شریف میں 14شعبان707ہجری بمطابق  14  جنوری 1308ء کو ہوییٗ۔ ان کا اسم گرامی ان کے جد امجد حضرت سید جلال کے نام پر جلال الدین رکھا گیا۔ لیکن آپ مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے نام سے مشہور ہیں۔نصیر الدین محمود چراغ دہلوی سے خرقہٗ خلافت حاصل کیا۔ حضرت نے سیر و سیاحت بہت فرماییٗ۔ محمد تغلق (1351-1325) کے عہد میں شیخ السلام مقرر ہوےٗ۔ لیکن آپ نے جلد ہی یہ عہدہ چھوڑ دیا۔

آپ مریدین کی تربیت فرماتے اور شریعت کی پابندی کی تلقین کرتے۔ ہر بات میں  حضور نبی کریم ﷺ کی سنت کا خاص خیال رکھتے۔ حضرت مخدوم سماعت سے متعلق سخت احتیاط فرماتے۔ آپ لوگوں سے مقامی زبان میں گفتگو فرماتے۔

یہ اس ہستی کا پس منظر ہے جوکہ اس علاقہ گھیب میں تشریف لاےٗ اور جن کا نام نامی فتح جنگ میں قایٗٗم ہے۔ یہاں فتح جنگ میں ان کی قدیم بیٹھک تھی جس میں قدیم پرانے چراغوں والی زیارت تھی۔ جسے توڑ دیا گیا۔جہاں تک بابا ولی قندہاری کا تعلق ہے وہ ایک الگ شخصیت ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں