فتح جنگ شہر کا مورث اعلی اور تا ریخ

فتح جنگ،  پاکستان کا دفاعی اورتجارتی لحاظ سے ایک اہم شہر ہے۔ پاکستان کی اہم دفاعی لیبارٹریز فتح جنگ کی حدود میں واقع ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا پہلا جدید ترین نیو انٹر نیشنل ایٗرپورٹ بھی اس کے ساتھ تعمیر ہونے کی وجہ سے شہر کی اہمیت اور بھی بڑھ گیٗ ہے۔ بین الصوباییٗ شاہراہ کا فتح جنگ سے گزرنے کی وجہ سے یہ ایک اہم تجارتی روٹ کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔

پاکستان چین اقتصادی راہداری کی شاہراہ کا ایک حصہ اس شہر سے بھی ہوکر گزرے گا جوکہ راولپنڈی روڈ پر موٹروے سے لنک کیا جاےٗ گا۔  نیو انٹرنیشنل ایٗرپورٹ جوکہ انشاء اللہ دو ہزار سولہ تک آپریشنل کر دیا جاےٗ گا اس کی وجہ سے بھی امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے اگلے پندرہ بیس سالوں میں اس شہر کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

فتح جنگ کا محل وقوع۔

East logilude   72….42′  33…..35   North latildue

سطح سمندر سے  بلندی تقریبا 1700 فٹ ہے۔

انیس سو چار عیسوی میں ضلع اٹک کی تشکیل ہوئی۔اس سے پہلے یہ تحصیل راولپنڈی میں 1860ء کو شامل ہوئی۔ اس وقت ضلع اٹک ساتھ تحصیلوں راولپنڈی، اٹک، کہوٹہ، مری، پنڈی گھیب ، گوجر خان اور فتح جنگ پر مشتمل تھا۔ تحصیل تلہ گنگ اس وقت ضلع چکوال کا حصہ تھی۔

کالا چٹا پہاڑ: کرنل کرو کرافٹ ضلع راولپنڈی کے آفیسر بندوبست  کی رپورٹ میں کالا چٹا پہاڑ سے متعلق لکھتے ہیں۔   یہ پہاڑ مری،کہوٹہ کے پہاڑی سلسلوں کے بعد سب سے زیادہ اہم ہیں کالا چٹا پہاڑ ایک      WEDGE کی شکل میں ہے۔جس کا BASEدریائے سندھ کے کنارے موجود ہے۔   یہاں سے پھیلتا ہوا اپنی چوٹی کی طرف جاتا ہے ۔  اس کا مشرقی کنارہ پنڈی سے15 میل دور شمال مغرب میں ہے۔ جہاں ماگلہ رینج میں اندر تک واقع ہے۔

دریائے سندھ کے قریب اس کی چوڑائی12  میل ہے۔ یہ یہاں سے شروع ہو کر مشرق کی سمت میں ختم ہوجاتی ہے۔ اس کی لمبائی45 میل ہے یہ پہاڑی سلسلہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ یہ دو سلسلے ظاہری طور پر بھی اور طبیعی طور پر بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
کالا پہاڑ:جنوب مغربی حصہ یہ سیاہ ریتلے پتھروں (Dark Black Sand Stone) پر مشتمل ہے۔    یہ اصلی رنگ میں کاشنی یا جامنی Purple ہیں۔  بارش ہواؤں اور مسلسل شکست ور یحت سے پتھر سیاہ  پڑا گئے ہیں۔ یہاں  خاکستری ریتلے پتھر اور سرخ مٹی ہے۔(Grey Sand Stone and Red Clay)
چٹا پہاڑ: یہ شمالی حصہ ہے یہاں سفید چونے کا پتھر ہے۔Lime Stone یہ سب سے زیادہ قیمتی حصہ ہے۔ یہاں کے پتھر بھی قیمتی ہیں۔بھٹی چلانے کے کام آتے ہیں یہاں جنگل کا اگاؤ بھی بہت بہتر رہتا ہے۔ یہ دوسرے حصہ سے بہت بہتر ہے۔

علاقے کا تاریخی پس منظر

علاقہ گھیب:  جنوب میں کھیری مورت اور شمال میں کالا چٹا پہاڑکا درمیانی علاقہ گھیب کہلاتا ہے۔

علاقہ گھیب کے گھیبے بڑی اہمیت کے حامل ہیں جو کہ مغل کہلاتے ہیں۔ یہ پنڈی گھیب کے جودھڑوں کے قدیم حریف رہے ہیں۔ ان لوگوں نے جنگ کے دوران عمدہ آفیسر پیش کئے۔ جن میں لیفٹنیٹ باز خان آف ملال بہت مشہور ہیں۔  1907ء کے ڈسڑکٹ گزٹیر میں لکھا ہے کہ تحصیل فتح جنگ کا مغربی حصہ جوکہ بہت سارے گاؤں کا گھمبیر مجموعہ Solid Blockہے۔ جوکہ کالا چٹا پہاڑ کے شمال اور جنوب میں سیل کے کنارے تک پہنچے ہوئے ہیں۔

ان کے پاس تحصیل فتح جنگ کا 34% زیر کاشت رقبہ ہے۔اور مالیہ کا 19%ادا کرتے ہیں۔وہ علاقہ گھیب میں رہتے ہیں۔اس لئے گھیبے کہلاتے ہیں۔

 اس حوالے سے ان کا رشتہ جھنگ کے سیالوں اور شاہ کے ٹوانوں سے ملا ہوا ہے۔

محکمہ مال کے کاغذات میں ان کا اندراج بطور مغل کے ہے۔ وہ ہو سکتا ہے راجپوت پنٹواڑھوں یا جودھڑہ خاندان کی شاخ ہوں۔  بندوبست کی رپورٹ میں ان کے خاندان کی شرح اسی طرح ہے جس طرح جو دھڑہ خاندان کا ہے۔ یہ جٹ،گوجروں اور اعوانوں کی طرح جنگ جو ہیں۔ ان کا ظہور بھی جودھڑوں کے ساتھ ہوا۔اور اسی عرصہ میں یہ کالا چٹا پہاڑ اور کھیری مورت کے درمیانی حصہ آباد ہوگے۔ ہوسکتا ہے یہ جودھڑہ خاندان کے باج گزار ہوں۔ لیکن ان کی حیثیت کھنڈہ، کمیڑیال کے جودھڑوں سے مختلف ہے۔ ہوسکتا ہے ۔ وہ کسی راجپوت خاندان کے بچھڑے ہوئے قبائل ہوں۔ جو سنٹرل پنچاب سے آکر جودھڑوں سے مل گئے۔
اٹھارہ سو باون عیسوی تک گھیب کا علاقہ پنڈی گھیب کے جودھڑوں کے ہی ماتحت رہا۔کیونکہ اس عرصہ تک گھیب علاقہ کے مالیہ کی وصولی جودھڑوں کے ہی ذمہ تھی۔

سکھوں کی سکھ شاہی کے آخری سالوں میں گھیبوں کے عروج کا عرصہ شمار ہوتا ہے۔اور جودھڑوں کے برابر جا ٹھرتے ہیں۔

رائے محمد خان اس علاقہ میں گھیبوں کے سب سے بڑے رئیس تھے۔انہوں نے سکھوں کے ساتھ بڑی جی داری سے مقابلہ کیا۔ اور ان کی حثیت رعایا سے برابر کے مالک کی ہوگئی۔ اس کے بیٹے فتح خان سے گھیبوں کا عروج شروع ہوتا ہے ۔وہ تیرہ دیہاتوں کے مکمل مالک اور موروثی دیہاتوں میں 2/3 کے مالک تھے۔ وہ کھیری مورت کے مغربی حصہ کے مالک تھے۔  انہیں اس علاقہ میں مجسڑیسی کے اختیار حاصل تھے۔یہ کسی اور ریاست کے باہر کی انوکھی مثال ہے۔ حتیٰ کہ اب بھی کوٹ فتح خان اسٹیٹ کو   کوٹ ریاست  اور اس کی انتظامیہ کے نمائندوں کو سر کار اور حکومت کے نمائندوں کو انگریزی ملازم کہتے تھے۔

پنڈی گھیب کے ملک اویس خان کی شادی پرانے وقتوں میں سردار فتح خان  آف کوٹ فتح خان کی بیٹی سے ہوئی تھی۔اس کے ساتھ ہی انتظامی طور پر تحصیل فتح جنگ کا علاقہ گھیب، پنڈی  گھیب کی سیاست سے باہر نکل گیا۔

سواں سیل کا علاقہ بھی کبھی تحصیل فتح جنگ کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ ان کا رابطہ فتح جنگ کی گلی جاگیر سے کھیری مورت کے ساتھ ساتھ دھڑی راےٗ دتہ براستہ مجاہد تھا۔ یہ کچی سڑک کبھی آباد تھی۔

دوسرا راستہ ڈھرنال کے ساتھ تھا۔ یہاں سے قولیار ، جوگی میرا، لنڈا میرا سے سیل نالہ سے گزر کر سواں کے علاقہ کے گاوٗں بلاول اور گنگوالہ سے جاملتا۔ جہاں سے سڑک چکری کوجاتی۔ تحصیل فتح جنگ کا سواں کے کنارے آخری گاوٗں چکڑالہ ہے۔

فتح جنگ شہر کا مورث اعلی۔۔۔۔۔۔۔۔ فتح جنگ خان

مورث اعلی کا اصل نام خداداد خٓان المعروف فتح جنگ خان تھا۔ وہ کھٹر خٓان کے بیٹے فیروز خان کی اولاد میں سے تھے۔ فیروز خٓا ن کا بیٹا مالک خان، مالک خان  کا بیٹا مصری  خان تھا ۔ مصری خان کا بیٹا اللہ یار خان تھا۔ ان کا بیٹا راحیم خا ن ، ان کابیٹا امیران خان جبکہ امیران خان کا بیٹا خداداد خان تھا جوکہ فتح جنگ خا ن کے نام سے مشہور تھا۔ انہو ں نے سکندر شاہ بن ناصر الدین ، خاندان غلامان کے دور میں اس شہر کو آباد کیا تھا.

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں