فتح جنگ شہر میں آمدہ بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے تیاریاں

صوبہ پنجاب کے دوسرے مرحلے کے انتخابات کے لیے انیس نومبر کو اس میدان میں شیر ،بلا ،تیر اور سایٗیکل جماعتی بنیادوں ہر حصہ لے رہے ہیں۔ جن میں بعض واقعات بڑے دلچسب نظر آرہے ہیں۔ ہر کوییٗ اپنے تیٗین کامیابی کا دعوا کرتا نظر آرہا ہے۔

جبکہ اصل صورتحال اینس نومبر کو ہی واضح ہوگی۔

بلدیاتی انتخبات میں شیر کے امیدواروں کی بڑی تعداد بلے، تیر ، ساییٗکل اور بالٹی کے نشان سمیت تمام آزاد امیدواروں کو ہرانے کے لیے دانت تیز کررہے ہیں۔ انتخابی مہمات کا آغاز ہوچکاہے اور شہروں میں ہرطرف رنگ برنگے پوسٹرز، سٹیکرز اور بینرز کی تعداد نظر آرہی ہے۔

رکشوں ، گاڑیوں اور کھمبوں و درختوں سمیت تمام اونچی جگہ پر ہر  کسی نمایٗندہ  کا اپنا کوییٗ نہ کوییٗ اشتہار رونما نظر آتا ہے۔

تمام امیدوار ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کے دعووں کے ساتھ اور پرانی خدمات کی یا د دلانے کے ساتھ ساتھ ڈور ٹو ڈور ووٹ مانگنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ تمام پرانے تعلقا ت اور دوستیوں کو نےٗ سرے سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی یے۔

جبکہ عوام ہمیشہ کی طرح بے دلی سے ان کی باتیں سنننے اور میٹنگز اٹینڈ کرنے پر مجبور نظرا ٓتی ہے۔ کیونکہ ہر طرف سے بات گھما پھر ا کر خدمت پہ ختم کی جاتی ہے اور عوام الناس کو ان کی خدمت کرنے والے امیدوار کی صلاحیت اور اس کے کارناموں کا اچھی طرح سے پتہ ہوتاہے۔

لیکن امیدوار اپنے تیٗیں ایک بار پھر عوام کو بے وقوف بناکر جھوٹے وعدے وعیدوں اور تسلیوں سے اپنی طرف مایٗل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ووٹرز بھی نا ز نخرے کروانے میں مصروف ہیں اور باتوں باتوں میں امیدواروں کو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے خوب کھری کھری بھی سنا ریے ہیں۔

آج کا ووٹر کل کے مقابلے میں کافی حد تک باشعور ہوچکاہے اور اپنے حق میں کام کرنے والوں کی خوب پہچان کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ کیونکہ پنجاب کے پہلے مرحلے میں ہونے والے انتخابات چہ جایٗیکہ حکمران جماعت لیڈ لے کے جیت چکی ہے لیکن آزاد امیدواروں کی بہت بڑی تعداد بھی ان انتخابات میں کامیاب ہوییٗ ہے۔جوکہ ایک الارمنگ صورتحال ہے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے کہ اب تین جماعتوں کے علاوہ چوتھی بڑی نمایٗندہ جماعت کا خلا ء ابھی باقی ہے۔

جبکہ دوسری طرف انیس نومبر کو ہونے والے انتخابات کے لیے انتظامیہ بھی اپنی تیٗیں پوری طرح تیار ہے۔ ضلع اٹک میں اصل مقابلہ حکمران جماعت سملم لیگ ن ، پی ٹی آییٗ اور ق لیگ کے نشان پر انتخابات مین حصہ لینے والے میجر گروپ میں ہوگا۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے انیس نومبر کو ہونے والے انتخاب کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کر دیاہے جس کے مطابق الیکشن کمشن آف پاکستان کے کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت بؕرے جلسے جلوسوں اور ریلیوں کے انعقاد پر پابندی عایٗد کی گیٗ ہے۔

کامیابی کی صورت میں بھی ریلی کے نکالنےپر پابندی عایٗد کی گیٗ یے ۔ اس دفعہ انتظامیہ بھی پوری طرح لا اینڈ آرڈر کو نافذ کرنے کے موڈ میں نظر آرہی ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے  لیے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز کو اس امر کا پابند بنایا جاےٗ گا کہ مخا لف فریقوں کے پولنگ کیمپس کو دوسومیٹرز کی دوری پر ایک دوسرے سے منعقد کیا جاےٗ۔

سیکورٹی کے حوالے سے بھی اس امر کو یقینی بنایا جاےٗ گا کہ کوییء ایسا اقدام کرنے سے گریز کیا جاےٗجس سے عوام الناس میں بے چینی پھیلے۔اس سلسلے میں محرم الحرام کے طرح کے سیکورٹی پلان پر عملدرآمد کیا جاےٗ گا۔

بیلٹ پیپرز کی ترسیل کے لیے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں متعلقہ ڈی سی اوز اور اے سیز کی موجودگی میں کیا جاےٗ گا۔

پولیس حکام اس بات کو یقینی بنایٗیں گے کہ پولنگ دفاتر میں اسلحہ وغیر ہ موجود نہ ہو۔

پولنگ سٹیشنز پر اس دفعہ سی سی تی وی کیمرے لگاےٗ جاییٗں گے ۔

الیکشن کے موقع پر عام تعطیل ہوگی اور دوکانداروں سے بھی اپنے کاروبار بند کرنے کی اپیل کی گیٗ ہے۔

انیس نومبر کو ضلع اٹک کی  17یونین کونسلوں اور چھ میونسپل کمیٹیوں کے انتخابات ہو نگے ضلع اٹک میں کل مرد ووٹرحضرات  کی تعداد4,22,652جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد3,51,629 اور کل ووٹ 7,74,281 ہے ۔ چھ میونسپل کمیٹیوں میں 93511مرد ووٹرزجبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد82,850 کل1,76,361ووٹرز اپنا حق راےٗ وہی کریں گے۔

ضلع اٹک کی چھ میونسپل کمیٹیوں میں مردوں کیلےٗ 241 اور خواتین کیلےٗ228  کل469 پولنگ یوتھ بناےٗ گےٗ ہیں جبکہ  71  دیہی یونین کونسلوں کیلے1152مردانہ اور 1029زنانہ پولنگ بوتھ ہونگے۔

فتح جنگ میونسپل کمیٹی کیلےٗکل 22 او ر  24 زنانہ پولنگ بوتھ ہیں جبکہ فتح جنگ شہر میں ووٹرز کی کل تعداد  24,809 جن میں 12,915مرد جبکہ   11,894 خواتین ووٹرز ہیں اسی طرح فتح جنگ تحصیل کی 13یونین کونسلوں میں ووٹرز کی کل تعداد1,64,263 جن میں 89,158مرد اور 75,465 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔میونسپل کمیٹی فتح جنگ کی جنرل کونسلروں کے انتخابات کیلےٗ مسلم لیگ ن11 پی ٹی آی9 پیپلز پارٹی کے4 ق لیگ کے3اور22آزاد امید وار میدان میں ہیں جبکہ تحصیل کی13یونین کونسلوں 13 چیرٗمین اور واسٗ  چیرٗمین  کی نشستوں کونسلر ز کی78 سیٹوں کیلےٗ مسلم لیگ ن 67 ق لیگ کے51پی ٹی آیٗ کے36پیپلز پارٹی کے31جبکہ جماعت اسلامی کے تین امیدواروں سمیت74  آزادامید دار پنجہ آزمایٗ کریں گے ن لیگ کے پانچ اور دو آزاد امید وار بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔

پہلی دفعہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے میجر گروپ کو ناکام کر نےکے لیے  پیپلز پارٹی کے  سابق وزیر مملکت سردار سلیم حیدر خان،سابق امیدوار صوبایٗ اسمبلی ریاض خان بالڑہ سے اتحاد کیا ہوا ہے اس اتحاد کے مثبت نتاجٗ برامد ہونے کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ سردارسلیم حیدرخان کے دور وزارت میں دیگر ترقیاتی کاموں کے علادہ جتنے دیہات کو سویٗی گیس جیسی سہولت فراہم ہویٗی ھے وہ سابق ضلع ناظم جسے سایٗکل گروپ فخر اٹک اور معمار اٹک کا خطاب دیتے ہیں کے اندھے اقتدار کے دور میں اس سے ایک چوتھایٗ دیہاتوں کو یہ فراہم نہ کی جاسکی

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں