فرض کا قرض

میرے دوست نے مجھے فون کیا کہ آؤ واہ کینٹ چلتے ہیں وہاں گاڑیوں کا اتوار بازار لگتا ہے،وہاں کوئی گاڑی دیکھتے ہیں اگر کوئی اس سے بہتر مل گئی توموجودہ  گاڑی کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ میں فارغ تھا سو اُس کے ساتھ ہو لیا۔ فتح جنگ کے اڈے پر بعض اوقات ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔ سو آج بھی یہی ہوا۔جب ٹریفک جام ہو جائے تو گویا پھیری والوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ وہ ہر رکی ہوئی گاڑی کے پاس جا کر اپنی چیزیں بیچنے لگ جاتے ہیں۔

ہم انتظار میں تھے کہ کب ٹریفک کھلے اور ہم روانہ ہوں،اتنے میں ایک غبارے بیچنے والا بچہ گاڑی کے دروازے کے پاس آ کھڑا ہوا اور کہنے لگا ک غبارے لے لو۔ میں نے ایسے ہی اس سے پوچھا کہ کتنے کا ہے ایک غبارہ؟ کہنے لگا کہ  بیس روپے کا ہے۔ میں نے کہا کہ بھئی مہنگا ہے بہت۔ کہنے لگا آپ پندرہ دے دو۔ میں نے اس کو بیس روپے دیے تو کہنے لگا کہ آپ مجھے دس مزید روپے دے دیں اور دو  غبارے لے لیں میرے پاس کھلے پیسے نہیں ہیں۔
مجھے غبارے دینے کے بعدجب وہ بچہ جانے کیلئے واپس مڑا تو میں نے کچھ سوچ کر اُس کو آواز دی کہ تم اپنے غبارے واپس لے لو۔اُس بچے نے جیب سے پیسے نکالے اور مجھے واپس کرنے لگا۔
میں نے اُس کو بولا کہ نہیں آپ غبارے بھی لے لو اور پیسے بھی واپس مت کرو۔ اُس بچے نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور بضد رہا کہ غبارے تب واپس لوں گا جب آپ اپنے پیسے واپس لو گے۔ آخر کار میں نے ہار مان لی اور غبارے رکھ لیے۔جاتے جاتے میں نے اُس بچے کی تصویر بھی بنا لی۔
اتنے میں ٹریفک چل پڑی۔ ہماری گاڑی روانہ  ہوئی۔ میرا دوست مجھ سے باتیں کرنا شروع ہو گیا پر مجھے اُس کی کوئی بات سمجھ نہیں آرہی تھی میرا خیال کہیں اور تھا۔میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اُسی
غبارے والے بچے کو سوچنا شروع ہو گیا۔بقول شاعر

سچ پوچھئیے تو خوشبو بھی چھبنے لگی مجھے
دیکھا جو میں نے پھول کوکچھ پھول بیچتے
میرے ذہن میں طرح طرح کے سوالات جنم لے رہے تھے۔ کبھی اُس بچے کی غربت کو سوچتا تو کبھی اُس کے اندر پائی جانے والی خودداری کو۔ کبھی اُس بچے کو سوچ کے فخر ہونے لگتا تو کبھی یہ خیال آتا کہ یہ بھی ہر بچے کی طرح مملکتِ خداداد کا بچہ ہے۔ اِس کا بھی تعلیم پہ اُتنا ہی حق ہے جتنا کہ ہر شہری کے بچے کا حق ہو سکتا ہے۔ پھر یہ ماں کا لعل تعلیم سے  محروم کیوں؟
حالا نکہ تعلیم حاصل کرنا بنیادی انسانی حق ہے۔ اگر یہ بچہ یا اِس جیسے کئی بچے سکول نہیں جائیں گے تو ہمارے ملک کی شرحِ خواندگی کے سو فیصد ہونے کا خواب صرف خواب ہی رہے گا۔ ہم دنیا میں یہ کیسے کہیں گے کہ ہم تعلیم یافتہ قوم ہیں۔ ہم اس بات کا دنیا کو کیسے یقین دلائیں گے کہ ہمارے ہاں تعلیم عام ہے۔ کوئی بھی فرد اس سے محروم نہیں ہے۔ ہر ایک کو بلا امتیاز تعلیم تک رسائی حاصل ہے۔
ہمارے ہاں تعلیم کے حصول کیلئے سرکاری اور نجی ادارے موجود ہیں۔ سرکاری سطح پر تمام بچوں کو سکول میں داخلے کیلئے کوششیں جاری ہیں لیکن اس کا حصول تب ہی ممکن ہے جب نجی ادارے بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔ صرف گورنمنٹ یہ کام اکیلے نہیں کر سکتی۔ پرائیویٹ اداروں کو غریب اور نادار بچوں کو مفت تعلیم مہیا کرنی ہوگی تاکہ غریب خاندانوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کر  
سکیں۔لیکن اس کام کیلئے ایک قومی سوچ کی ضرورت ہے۔
غبارے والا بچہ خوددار تھا۔ اگر وہ تعلیم حاصل کرتا تو یقیناایک تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوددار پاکستانی بھی ہوتا۔ اور اس وقت مملکتِ خداداد کو خوددار لوگوں کی ضرورت ہے جو محنت اور ہمت سے اپنی روزی روٹی کمائیں گے مگر بخشش کبھی بھی قبول نہیں کریں گے اگرچہ وہ بہت ضرورت مند ہیں۔یقینا ایسے ہی سپوت اس وطن کیلئے سودمند ثابت ہوں گے جو وطن کیلئے کوئی بھی قربانی دینے کیلئے تیار ہونگے۔
بہت بلندو بانگ دعوے کئے جاتے ہیں چائلڈ لیبر کے بارے میں مگر اِن کو غبارے بیچنے والا بچہ تو اب تک نظر نہیں آیا۔کوئی تو ہوتا جو اُس کے ہاتھ میں کتابوں کا بیگ دیتا۔اگرچہ حکومت  سرکاری سکولوں میں کتابیں مفت دیتی ہے اور فیس بھی نہیں ہے مگرایسے بچوں کو سکول تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔مگر ہم یہ کام صرف گورنمنٹ کے سر ڈال دیتے ہیں اگرچہ اِس میں ہماری ذمہ داری حکومت سے بھی زیادہ ہے۔معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد ہونے کی حیثیت سے ہمارا یہ حق بنتا ہے ک ہم ایسے بچوں کو ڈھونڈیں اور اُن کو سکول کی راہ دکھائیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم ایک بچے کو تعلیم کی طرف راغب کر کے ایک ایسی شمع روشن کر رہے ہوں جو پورے معاشرے کو منّور کرنے کا باعث ہو۔
ہمارے معاشرے میں جہاں ایک امیر خاندان رہتا ہے وہاں اُس کے اردگرد بہت سے غریب خاندان بھی رہتے ہیں جن ک پاس وہ تمام سہولیات نہیں ہوتیں جو امراء کو حاصل ھوتی ہیں۔اگر کچھ مخیر حضرات چند بچوں کی تعلیم کا بیڑہ اپنے سر اٹھا لیں تو اس طرح بہت سی نسلیں تعلیم سے بہرہ ور ہو جائیں گی۔یہ کام کسی اکائی کا نہیں ہے، یہ کام ہم سب کا ہے۔ اگر سارے مل کے کریں گے تو یقینا وہ دن دور نہیں جب ہم بھی فخر سے کہہ سکیں گے کے ہم ایک تعلیم یافتہ قوم ہیں۔ ہمارا ہر بچہ سکول جاتا ہے۔کوئی بھی بچہ اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کیلئے غبارے نہیں بیچتا۔

(خالد محمود( پی ایچ ڈی سکالر

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں