تحریک انصاف، ق لیگ اتحاد کیا تحریک انصاف میں انتشار کا باعث بنے گا؟

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ضلع اٹک میں اگرچہ مسلم لیگ ن معمولی برتری سے جیت تو گیٗ ہے لیکن پنجاب کے دیگر اضلاع کی نسبت ضلع اٹک میں اسے ق لیگ کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

اگرچہ دوسری بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف بھی الیکشن میں موجود تھیں لیکن ضلع اٹک میں میجر گروپ سب سے بڑی اپوزیشن بن کرسامنے آیا ہے۔

میجر طاہر صادق نے بعض حلقوں میں پی ٹی آییٗ سے اتحاد کیا تاہم تحصیل فتح جنگ سے تحریک انصاف چیٗرمین کی کویٗ سیٹ جیتنے میں ناکام رہی۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے یونین کونسل دھریک سے اکلوتی نشست جیت لی۔ تحریک انصاف پورے ضلع سے بمشکل ۹ سیٹیں جیت سکی ہے جن میں سے آٹھ سیٹیں ملک سہیل کمڑیال کے حلقہ ۵۸ پنڈیگھیب سے جیتی گیٗ ہیں۔
میجر طاہر صادق نے اپنی بہترین حکمت عملی سے حکمران جماعت اور اتحاد کو ٹف ٹایٗم دیااور انتخابات میں مسلم لیگ ن کے بعد دوسری زیادہ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔اور  فتح جنگ اور حسن ابدا ل کی مونسپل کمیٹیوں میں بھی میجر گروپ کو برتری حاصل ہوگیٗ اور وہ اپنا چیٗرمین کامیاب بنانے کی پوزیشن میں آگےٗ۔
میجر طاہر صادق کے مسلم لیگ ن میں شمولیت کی بھی افواہیں چلاییٗ گیٗیں کہ وہ مسلم لیگ ن میں شامل ہورہے ہیں۔ لیکن میجر طاہر صادق نے ایک میڈیا بریفننگ میں اس کی سختی سے تردید کی اور بعد ازاں ان کے تحریک انصاف میں جانے کی بھی افواہیں اڑتی رہیں لیکن وہ ان کی تردید کرتے رہے۔ البتہ میجر طاہر صادق تواتر سے اس بات پر زور دیتے رہے کہ ضلع اٹک میں ان کا تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد ہوگیا ہے اور ان سے بات چیت جاری ہے۔ اس اتحاد کے سخت مخالف تحریک انصاف کے ملک سہیل کمڑیال ہیں۔ جبکہ دیگر رہنماء جن میں سردار محمد علی خان، کرنل  (ر) ملک انور  اس اتحاد کے حامی ہیں۔
سردار محمد علی خان نے تو تحصیل فتح جنگ میں میجرگروپ سے باقاعدہ اتحاد کرکے الیکشن لڑا اور تین سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہے۔ فتح جنگ کے سابق تحصیل ناظم اور تحریک انصاف کے رہنماء سردار صبیح خان بھی میجر گروپ کے ساتھ اتحاد کے مخالفین میں شمار کیے جاتے ہیں۔

چند روز قبل سردار محمد علی خان نے میجر طاہر صادق کے ساتھ پریس کانفرنس کرکے ایک بار پھر میجر گروپ سے اتحا د کو جلا بخشی اور میونسپل کمیٹی فتح جنگ سے کامیاب ہونے والے تین میں سے دو امیدواروں نے میجر گروپ کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ ایک کونسلر  قاضی شاہد نے ملک سہیل خان کمڑیال کی ہدایت پر اس اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کیا۔اس طرح میجر طاہر صادق تحریک انصاف کو تقسیم کرنے میں کامیاب رہے۔
یہی صورتحال رہی تو ضلع کونسل کے الیکشن میں تحریک انصاف کے ممبران تقسیم ہوجایٗیں گے۔اب تحریک انصاف کی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ میجر گروپ سے محبت اور مسلم لیگ ن سے مخالفت میں اپنی پارٹی کو تقسیم کرتے ہیں یا اپھر اپنا الگ امیدوار ضلع کونسل الیکشن میں کھڑا کریں گے۔ جس کا بہرحال فایٗدہ مسلم لیگ ن کو ہوگا اگر تحریک انصاف اپنا الگ امیدوار ان الیکشن میں نامزد کرے تو۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن تحصیل فتح جنگ اور حسن ابدال میں بدترین شکست کے بعد انتشار کا شکار ہوگیٗ ہے۔ صوباییٗ وزیر معدنیات چوہدری شیر علی خان اور ایم پی اے شاویز خان کے گروپوں کی جانب سے تواتر سے اخباری بیانات اپنے رہنماوٗں کے بارے میں چھاپے جارہے ہیں جوکہ اس انتشار کو  مزید ہوا دے رہے ہیں۔اور اس شکست کی وجہ ہررہنماء کا اپنے حلقے تک محدود ہونے اور اپنی ڈیڑھ اینٹ  کی الگ مسجد بنانا تھا۔
اس شکست کی ذمہ دار مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت خود تھی۔ شہر اور دیہات کی یونین کونسلوں میں رہنماء اپنے امیدواروں کی ہی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف رہے اور دیگر مسایٗل سے پہلو تہی کرتے رہے۔ جبکہ مقامی انتظامیہ پر بھی ان کی گرفت نہ ہونے کے برابر تھی

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں