تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال فتح جنگ کے پہلے ایم ایس ڈاکٹر شمس الدین قریشی

یورپی اقوام کی برصغیر آمد سے مغربی عمل طب کا دور شروع ہوا۔ ولنذیری، ڈچ  اور پرتگالی پہلے آےٗ۔پھر انگریز آےٗ۔ فرانسیسیوں نے پانڈی چری،مدراس میں سترھویں صدی میں پہلا ہسپتال قایٗم کیا۔ پھر انگریزوں نے 1664ء میں مدراس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے سپاہیوں کے لیے جنرل ہسپتال بنایا۔
کلکتہ کے ہی ڈاکٹر سراون نے لاہور میں 1860ء کے لگ بھگ  گلینسی میڈیکل میڈیکل سکول کی بنیاد رکھی۔ بعد میں میڈیکل سکول امرتسر منتقل ہوگیا۔ اس کے ساتھ مشہور زمانہ وکٹوریہ جوبلی ہسپتال منسلک ہے۔سکول کی جگہ لاہور میں میڈیکل کالج قایٗم ہوا۔ نجو کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کہلایا۔جوکہ اب ماشاء اللہ میڈیکل یونیورسٹی ہے۔
ڈاکٹر شمس الدین قریشی  بھارت کے شہر پانی پت میں پیدا ہوےٗ۔1947ء میں تسکیل پاکستان کے بعد انڈیا سے ہجرت کی اور راولپنڈی کے آریہ محلے میں آکر آباد ہوگےٗ۔
آپ نے خیبر میڈیکل کالج پشاور سے ایم بی بی ایس کیا۔ آپ ساٹھ کی دہاییٗ میں فتح جنگ کی پرانی ہسپتال  میں میڈیکل آفیسر رہے۔
آپ کے ایک بیٹے محمد اظہر پاک آرمی کے شعبہ میڈیکل میں بریگیڈیٗر ڈاکٹر ہیں۔ جبکے  دوسرے بیٹے ایٗر فورس میں ایٗر کموڈور رہے۔ اور آج کل اٹک شہر میں ریٹایٗرڈ زندگی بسر کررہے ہیں۔

ڈاکٹر سلطان محمود خان
ڈاکٹر سلطان محمود خان

ڈاکٹر سلطان محمود خان

ضلع اٹک کے اولین ڈاکٹروں میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔اور فتح جنگ میں سب سے قدیم آپ کا ہی کلینک تھا۔
ساٹھ کی دہاییٗ میں موجودہ فاروق ہوٹل مین بازار فتح جنگ میں آپ کا کلینک تھا۔
آپ تحصیل فتح جنگ کے گاوٗں باہتر میں پیدا ہوےٗ۔ آپ کی زندگی بالکل افسانوی کرداروں کی طرح ہے۔  وہ اس طرح کہ آپ گھر سے بھاگ کر کلکتہ چلے گےٗ۔ جب وہاں سے واپس گاوٗں لوٹے تو ڈاکٹر تھے۔
آپ نے کلکتہ کے کیمبل میڈیکل سکول سے ایل ایس ایم ایف کیا۔ اور بعد ازاں کنگ ایڈورڈ کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح آپ کے دوران طالبعلمی کے دوران آپ کی ہم عصر تھیں۔محرمہ فاطمہ جناح نے بھی ڈینٹسٹ کی ڈگری کنگ آر احمد میڈیکل  کالج کلکتہ سے حاصل کی۔
آپ پاکستان کے مشہور بیوروکریٹ جاوید اکرم خان کے فرسٹ کزن ہیں۔آپ 1985ء میں فوت ہوےٗ اور باہتر ہی میں آسودہٗ خاک ہیں۔

                        میری ان سب شخصیات نے لاہور کے کنگ ایڈ ورڈ میڈیکل کالج سے طب کی تعلیم حاصل کی۔
ڈاکٹر  عبدلجبار شیخ

ساٹھ کی دہاییٗ میں ہماری یاد کے فتح جنگ کے  حسین ترین ڈاکٹر ، ڈاکٹر عبدالجبار شیخ لاہور سے تشریف لاےٗ۔وہ اپنے دور کے چاکلیٹی ہیرو تھے۔خوبصور ت سرخ رنگت، سیاہ گھنے بال، ہنستامسکراتا چہرہ اور ملنسار انسان۔یہیں شادی کی اور نہیں کے ہورہے۔ان کے بیٹے سرفراز فوج میں بریگیڈیر ہیں۔جبکہ دوسر ا بیٹا اسرار احمد بھی کنگ ایڈورڈ کالج سے ڈاکٹریٹ ہے۔جوکہ آج کل نیویارک میں ہے۔
دوسرے ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم جنہوں نے اپنی زندگی تبلیغ اسلام کے لیے وقف کردی تھی اور ایک عظیم مبلغ اسلام تھے، نے بھی کنگ ایڈورڈ میڈیل کالج لاہور سے ڈاکٹریٹ کیا تھا۔
ڈاکٹر جمعیت سنگھ

فتح جنگ کی پرانی ہسپتال میں 1930ء ہی میں ایک سکھ ڈاکٹر رہے، ان کا نام جمعیت سنگھ تھا۔ وہ آییٗ سپیشلسٹ تھے اور انہوں نے فتح جنگ میں انکھوں کے بڑے آپریشن کیے تھے۔بعد میں وہ تبدیل ہوکر لاہور چلے گےٗ تھے۔لاہور میں وہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے معالج بھی رہے۔ان کے نام کی ہسپتال جمعیت سنگھ  جانکی دیوی ہسپتال ابھی تک لاہور میں ہے۔انہوں نے 1915ء میں کنگ ایڈورڈ کالج
سے ایم بی بی ایس کیا تھا۔
ڈاکٹر گنیش لال تلی
پرانی ہسپتال فتح جنگ کے 1947ء میں آخری ڈاکٹر، ڈاکٹر گنیش لال تلی تھے۔جوکہ جی ایل تلی کہلاتے تھے۔اس زمانے میں پرانی ہسپتال میں ایک لیڈی ڈاکڑ نور جہاں بھی ہواکرتی تھیں جوکہ حضرو شہر میں فوت ہوییٗ تھیں۔
ڈاکٹر ہربنس لال
ڈاکٹر ہربنس لال  کنگ ایڈورڈ کالج لاہور میں ڈاکٹر عبدالجبار کے کلاس فیلو تھے۔ وہ ڈی ایچ او ریٹایٗرڈ ہوےٗ۔ انکے  بیٹے ڈاکٹر راج کمار ضلع اٹک کی مختلف ہسپتالوں میں کام کرتے رہے۔اور انکے دوسرے بیٹے ڈاکٹر پردیپ کمار تھے۔ جوکہ حال ہی میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال فتح جنگ  کے ایم ایس  تبدیل ہوکر گےٗ ہیں۔موجودہ ایم ایس ڈاکٹر سہیل اقبال ہیں۔
ڈاکٹر  عبدالواحد  اور  ڈاکٹر محمد رمضان
فتح جنگ کے دونامور سپوت ڈاکٹر عبدالواحد اور ڈاکٹر رمضان نے بھی کنگ ایڈورڈ کالج سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی۔ڈاکٹر عبدالواحد کا تعلق ہستال گاوٗں سے ہے جو کہ اب ماشاء اللہ نیویارک میں ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد رمضان فتح جنگ کی سیاسی شخصیت مولوی محمد حسین مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔وہ بھی آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں۔

ڈاکٹر محمد بشارت خان کا تعلق فتح جنگ کی کھٹڑ برادری سے ہے۔وہ تھوڑا عرصہ پہلے فوت ہوےٗ۔
ڈاکٹر ناصر جمال
ڈاکٹر ناصر جمال جوکہ راقم کے کزن ہیں، انہوں نے فتح جنگ کے قدیم رتہ سکول سے تعلیم حاصل کی جبکہ بعد میں انہوں نے بھی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے طب کی ڈگری حاصل کی۔جوکہ آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں۔

باقی رہے نام اللہ کا

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں