بھمالہ دنیا کا قدیم تاریخی ورثہ

خیبر پختونخوا خوبصورت اور تفریحی مقامات کا مرکز ہے، ماہرین کے مطابق ملک بھر کے 80 فیصدسے زائد تفریحی اور تاریخی مقامات خیبر پختونخوا کی سرزمین پر ہیں۔ وادی خان پور بھی ایسی ہی خوبصورت اور قدرتی مناظر کا شاہکار علاقہ ہے جو پشاور سے سڑک کے ذریعے 160 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ 2008 کے بعد سے یہاں ہرسال خیبر پختونخوا ٹورازم کارپوریشن کے زیرانتظام سہ روزہ تفریحی میلے کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ ٹیکسلا کی حدود میں واقع خان پور کا کچھ حصہ پنجاب اور کچھ خیبر پختونخوا میں واقع ہے۔ یہ علاقہ حسین قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ تاریخی اہمیت کا بھی حامل ہے، یہاں جگہ جگہ گندھارا تہذیب کی باقیات دریافت ہوئی ہیں جس کے بعد یونیسکو نے 1982ء میں اسے ورلڈ ہیرٹیج سائٹ یعنی دنیا کا قدیم تاریخی ورثہ قرار دیدیا ہے۔

خان پور کے قریب ہی بھمالہ گائوں بھی واقع ہے۔ گندھارا تہذیب اور بدھ مت کے حوالے سے بھمالہ کو دنیا کی بہترین اور قدیم ترین دریافت قرار دیاجائے تو بے جا نہ ہوگا۔ بھمالہ بدھسٹ کمپلیکس کے نام سے شہرت رکھنے والی یہ سائٹ 1930ء میں برٹش آرمی آفیسر جان مارشل نے کھدائی کے دوران دریافت کی تھی۔ ماہرین کے مطابق اس وقت جان مارشل نے بھمالہ میں کروسی فارم اسٹوپا دریافت کیا تھا، اس کروسی فارم اسٹوپا کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گندھارا ریجن میں دریافت ہونے والا سب سے بڑا اسٹوپا ہے۔ اسٹوپا بدھ مذہب میں عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہونے والی عمارت کو کہاجاتا تھا۔ بھمالہ میں دریافت ہونے والے اس کروسی فارم اسٹوپا کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑے کراس کی شکل میں ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ کروسی فارم اسٹوپا قدیم دور میں بدھا کی راکھ کو محفوظ رکھنے کے لئے بنائے جاتے تھے۔

بلندی سے دیکھا جائے تو مرکز میں بنے اسٹوپا کے ارد گرد مختلف چھوٹے چھوٹے سیل کراس کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسے کروسی فارم اسٹوپا کہاجاتا ہے۔ ہزارہ ڈسٹرکٹ کے علاقہ زرڈھیری کے بعد بھمالہ میں دریافت ہونے والا یہ دوسرا اور ریجن میں سب سے بڑا کروسی فارم اسٹوپا ہے۔ 1930/31ء میں جان مارشل کی کھدائی کے بعد سے دنیا کے اس قیمتی اور قدیم ورثے کی حفاظت کے لئے کوئی اہتمام نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے غیرقانونی کھدائی اور غیرتکنیکی توڑ پھوڑ کے باعث یہ جگہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ 2014ء کے آخر میں محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر خیبر پختونخوا نے ایک بار پھر بھمالہ میں کھدائی کا سلسلہ شروع کیا جس کے بعد انتہائی اہم نشانات دریافت کئے گئے۔

510 سے زائد قیمتی نوادرات، گھریلو استعمال کی چیزیں، تعمیراتی چیزیں، چھوٹے اسٹوپا بھی دریافت کئے گئے لیکن گزشتہ تین چارماہ کی کھدائی کے دوران جو سب سے اہم ترین اور قیمتی چیز سامنے آئی ہے وہ بدھا کا ڈیتھ سین (موت کا منظر ہے) جسے اس وقت کی زبان میں مہا پری نروانا (یعنی موت کا منظر) کہاجاتا تھا۔ 14 میٹر (تقریباً 48 فٹ) طویل اس مجسمے کو پاکستان میں اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا اور کنجور اسٹون میں دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ قرار دیا گیاہے۔ بدھا کے اس سب سے بڑے موت کے منظر میں بدھا کو داہنی کروٹ پر لیٹے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ گو کہ بدھا کا یہ مجسمہ مکمل حالت میں موجود نہیں ہے، غیرقانونی کھدائی کے باعث اس کے خدوخال بھی واضح نہیں لیکن ماہرین کے مطابق اب بھی یہ تیس سے چالیس فیصد اصل حالت میں موجود ہے جبکہ اسے مکمل طور پر اصل حالت میں لانے کے لئے غیرملکی ماہرین آثارقدیمہ نے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

بدھا کے اس طویل القامت مجسمے سے متصل مشرق کی جانب کچھ اور چھوٹے چھوٹے یادگاری اسٹوپا بھی دریافت ہوئے ہیں۔ ان سیلوں سے نکلنے والے کئی چھوٹے مجسمے بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جن کے سر کی پشت پر ہالو کے دو دو نشانات ہیں، بدھ مذہب میں دریافت ہونے والے اکثر مجسموں کے سروں کی پشت پر ہالو کا ایک ہی نشان ہوتا تھا، اس مذہب میں دائرے کی شکل میں ہالو کا یہ نشان علم اور نور کی روشنی کو ظاہر کرتا تھا، تاہم بھمالہ سے برآمد ہونے والے یادگاری اسٹوپا میں سے جو مجسمے برآمد ہوئے ہیں ان کے سروں کی پشت پر دو، دو نشانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ بدھ مذہب کی انتہائی معتبر اور علمی شخصیات کے مجسمے ہیں۔ بھمالہ میں فی الوقت کھدائی کا کام روک کر یہاں دریافت ہونے والے بدھا کے موت کے منظر سمیت دیگر نوادرات کا دستاویزی کام مکمل کیا جا رہا ہے جس کے بعد اسے دیگر ممالک کے ماہرین کے پاس بھیجا جائے گا اور ان ماہرین سے آراء اور تجاویز ملنے پر تین سے چار ماہ کے بعد یہاں دوبارہ کھدائی کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود قیمتی نوادرات اور بدھا کے مجسمے کو محفوظ بنانے کا کام شروع کیا جائے گا۔ کم و بیش 2 ہزار سال پرانی گندھارا تہذیب کی ان باقیات کی دریافت بلاشبہ محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر خیبر پختونخوا کا بڑا کارنامہ ہے۔

812711-Bhamala-1419610581-506-640x480

10_IMG_8365-2016-04-06 12-59-28.724759

Bhamala-Archaeological-pakistan

812711-Bhamala-1419610603-507-640x480

13249897_1704425569830575_873624108_n

bhama2

bhamala3

bhamala-monastery

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں