سردار محمد یونس خان مرحوم اور مسجد بی بی اناراں

آج صبح ہی سردار محمد یونس خان آف ڈھوکڑی رضاےٗ الہی سے فوت ہوےٗ۔ گویا ایک جہاں گزر گیا۔مجھے یہ واحد شخصیت ملے جو فتح جنگ کی تاریخ پر گہری نظر رکھتے تھے۔ فتح جنگ کی تاریخ مرتب کرنے اور کھٹڑ خاندان کا شجرہ نسب ترتیب دینے میں ان کا گہرا رول تھا۔

فتح جنگ کا قدیم نام سندرراکھی ان کا دیا ہوا ہی نام تھا۔ ڈھوکڑی فتح جنگ کا ایک نواحی گاوٗں ہے۔ اس گاوٗں میں کھٹڑ خاندان کی عظیم انسانی شخصیات گزری ہیں۔ ان میں سابق تحصیلدار سردار بہادر خان اور عبدلمجید خان خصوصی اہمیت کی حامل شخصیات ہیں۔
سردار محمد یونس خان کی عمر کا طویل حصہ محکمہ مال میں گزرا۔ محکمہ میں مثل حقیقت کے ساتھ مالکان کا شجرہ نسب بھی نتھی ہوتا ہے۔ آپ کو شروع ہی سے کھٹڑ خاندان کا شجرہ ترتیب دینے میں دلچسبی تھی۔

سردار محمد یونس خان سے میری تفصیلی ملاقات آج سے قریبا ۰۲ سال پہلے یکم نومبر 1996ء میں ہوییٗ۔ انہو ں نے اس ملاقات میں بتایا تھا کہ فتح جنگ میں مسلمانوں کی آبادی سے پہلے ہندووٗں کا متبرک مقام تھا۔ اس شہر کو مسلمانوں کی بستی بنانے میں خداداد خان کا اہم رول تھا۔ جن کا لقب فتح جنگ خان تھا۔ یہ واقعہ 1150ء میں سکندر شاہ بن ناصر الدین سلاطین دہلی کے ایک بادشاہ کے دور میں واقع ہوا۔ انہوں نے کھٹڑ خاندان کا فتح جنگ خان تک شجرہ نسب اس طرح ترتیب دیا تھا
ایک۔ مورث اعلی عبداللہ خا ن جوکہ کھٹڑ خان کہلاےٗ۔ ان کا مستقر باغ نیلاب کا علاقہ تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ علاقے سے بے دخل ہوگےٗ۔ پھر دوبارہ وہ شہاب الدین غوری کے ساتھ علاقے میں واپس آےٗ۔اور باغ نیلاب پر قابض ہوےٗ۔ گویا کھٹڑ خاندان کے لیے باغ نیلاب کا علاقہ ویٹی کن سٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے اپنی غیر مطبوعہ کتاب حیات سکندر میں کھٹڑ خاندان کا شجرہ نسب لکھا ہے۔ کھٹڑ خاندان صرف ضلع اٹک تک ہی محدود ہے۔ لیکن ان کا مورث اعلی باہر یعنی ہندوستان سے آیا۔

فتح جنگ ہاییٗ سکول کے ہیڈماسٹر ملک فضل الہی جوکہ پنڈی سرہال سے تعلق رکھتے تھے اور علی گڑھ یونیورسٹی کے پڑھے ہوےٗ تھے، ان کی تحقیق کے مطابق کھٹڑ خاندان کا تعلق حضرت علی ؓ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ کی اولاد سے ہے۔جب محمود غزنوی نے ہندوستان پر حملہ کیا تو ایک خراسانی جرنیل حسن ہمراہ آیا۔ اور باغ نیلاب میں آکر آباد ہوگیا۔

سردار شوکت خان کی کتاب میں مرتب شدہ شجرہ بھی سردار یونس خان مرحوم کا ہے۔ اس کتاب میں درج سردار محمد یونس خان کے مطابق واہ خاندان کا مورث اعلی سید احمد خان ڈھوکڑی گاوٗں سے ہی واہ میں جاکر آباد ہوےٗ تھے۔ ان کا بستی کا نام تھٹی سید احمد تھا جوکہ اب جوکہ اب ڈھوکڑی کے پاس ایک بے چراغ بستی ہے۔ لیکن ڈھوکڑی اب ماشاء اللہ آباد ہے۔

زیادہ روایت یہ ہے کہ اعوانوں کا مورث اعلی قطب شاہ کھٹڑوں کا بھی مورث اعلی تھا۔ قطب شاہ محمود غزنوی کے دور میں ہرات کا حاکم اعلی تھا۔ ان کے ساتھ ہندوستان میں داخل ہوا۔موصوف کے نوبیٹے تھے۔جن میں سے ایک بیٹے کا نام چوہان تھا۔ محمود غزنوی کی افواج میں چوہان عہدیدار تھا۔اور آخری حملے میں شریک ہوا تھا اور باغ نیلاب کے علاقے پر قابض ہوا تھا۔ اس کی اولاد میں سے چھٹی پشت سے عبداللہ خان المعروف کھٹڑ خان تھے۔
کھٹڑ خان ہندوستان چلے گےٗ۔ اور 1175ء میں محمد غوری کے ساتھ واپس آکر باغ نیلاب پر قابض ہوےٗ۔

سردار محمد یونس خان مرحوم نے بڑے جوش کے ساتھ کھٹڑوں کے شجرہ سے متعلق یہ کہانی سناییٗ تھی۔

وہ فرماتے تھے اس وقت وہاں ہندو بھی آباد تھے۔ جن کی وجہ سے مسلمانوں کے عقایٗد میں دراڑیں واقع ہویٗیں۔اور ان کی درستگی ان کے روحانی مرشد نوری عبدالرحمان نے فرماییٗ۔ جوکہ اوچ شریف کے بزرگ عیسی عبدالوہاب کے بیٹے تھے۔ نوری عبدالرحمان اوچ شریف سے باغ نیلاب آگےٗ تھے۔ دریاےٗ سندھ کے کنارے اونچی چوٹی پر ان کا مزار ہے جہاں سینکڑوں سیڑھیوں سے مزین رستہ ان کے مزار تک جاتاہے۔

سردار محمد یونس خان مرحوم کے مرتب کردہ شجرہ نسب کے مطابق کھٹڑ خاندان حضرت علیؓ کے بیٹے حضرت عباس ؓ کی اولاد میں سے ہیں۔ مورث اعلی قطب شاہ کی چار بیویاں تھیں۔ چوتھی بیوی بی بی زینب سے جہاں شاہ المعروف دریتیم کی اولاد میں سے عبداللہ خان المعروف کھٹڑ خان تھے۔

کھٹڑ خان کے چھ بیٹے تھے۔عیسی خان، سرور خان، حنبد خان، فیروز خان، سہرا خان اور میرو خان
ناڑہ بسال گاوٗں کے سردار خداداد خان ولد سردار دایٗم خان ذیلدار کرسی نشین ممبر ڈسٹرکٹ بور ڈ نے بھی یہی شجرہ ترتیب دیاتھا۔ جوکہ ذرا سے فرق کے ساتھ تقریباملتا جلتا تھا۔
عبداللہ خان کے بیٹے فیروز خان کی چھٹی پشت سے خداد اد خان تھے۔جنہوں نے فتح جنگ شہر آباد کیا۔فتح جنگ شہر انہی کے نام پر ہے۔شہر کے مختلف حصوں میں غیر آباد ڈھیر یاں ہیں جوکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ شہر کیٗ دفعہ اجڑا اور بسایا گیاہے۔ اٹک روڈ پر اعوان پور گاوٗں کی مشرقی طرف ایک ڈھیری مٹھین اور شاہ پور ڈیم کے علاقے میں غیر آباد کھولے ان کا ثبوت ہیں۔ جہا ں سے کھداییٗ کے دوران قدیم شہر کے آثار ملتے ہیں۔
فتح جنگ خان کے تین بیٹے تھے۔جلال خان، شیر خان اور علی محمد خان
جلال خان کی اولاد میں سے سید احمد خان تھے جوکہ واہ خاندان کے مورث اعلی ہیں۔ سید احمدخان کی اولاد ہی میں سے سردار شوکت حیات خان اور ان کی فیملی ہے جوکہ زیادہ تر حیات فیملی اور علی فیملی کہلاتی ہے۔ علی فیملی کے سردار مظہر علی خان نہایت مشہور ہوےٗ۔ جوکہ پاکستان ٹایٗمز کے ایڈیٹر رہے۔ان کے بیٹے طارق علی ہیں جوکہ بین الاقوامی سطح کے تاریخ دان ہیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں رہے اور ستر کی دہاییٗ میں برٹرینڈ رسل کے ساتھ مل کر ویت نام کی جنگ کے خلاف مہم چلاییٗ۔
سید احمد خان کا دوسرا بھاییٗ عزت خان تھا۔ جن کی اولاد سے ڈھوکڑی خاندان ہے۔
سردار محمد یونس خان کے والدصاحب کانام ماسٹر لال خان تھا۔جو ایک طویل عرصہ تک رتہ سکول فتح جنگ میں مدرس رہے۔
ہمارے خاندان کے دو مشہور بابے تھے، عطا محمد خان اور خان سمندر خان ولد سرور خان۔ انہیں 1856ء میں کرنل کروکرافٹ نے ملکیت کے حقوق عطا کیے تھے۔
خان سمندر خان کی بیگم کا نام بی بی اناراں تھا۔بی بی کا ایک ہی بیٹا لال خان تھا۔ خان سمندر خان کی وفات کے بعد بی بی کا عقد ثانی بابا گاماں خان سے ہوا۔جن کے بیٹے عمر حیات خان تھے۔ محلہ اچھرال فتح جنگ میں ان کی حویلی اب ڈاکٹر ایوب خان کے پاس ہے۔
بابا لال خان کی وفات کے بعد ان کی بیوہ نے عقد ثانی بابا ماسٹر لال خان سے کیا۔ جن کی اولاد میں سے سردار محمد یونس خان تھے۔ ان میں درویشی کوٹ کوٹ کر بھری ہوییٗ تھی۔کیوں نہ ہوتی وہ بی بی اناراں کی اولاد میں سے تھے۔ جنہوں نے خود بھی درویشی والی زندگی گزاری۔
کنواں کھدوایا اور ان کی تعمیر کردہ مسجد ، مسجد بی بی اناراں محلہ اچھرال فتح جنگ، ان کے نام کی یادگار ہے۔
مسجد بی بی اناراں ان کے ایمان کی نشانی ہے
باقی رہے نام اللہ کا

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں