سردار کوٹ کی چند باتیں اور یادیں

کوٹ فتح خان کا گاوٗں جو کہ تحصیل فتح جنگ ضلع اٹک میں پنڈی سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر کوہاٹ روڈ پرواقع ہے، میں سردار کوٹ(سردار محمد نواز خان) اور ان کے آباوٗاجداد کی تعمیر کردہ بہت سی حویلیاں ہیں۔ ان حویلیوں میں ایک عجیب طرح کا فسوں ہے۔پرانی اینٹوں کی تعمیر کردہ ان حویلیوں میں صدیوں پرانی تاریخی واقعات کی داستانیں مدفن ہیں۔
اس گاوٗں کی تعمیر کردہ حویلیوں کا ذکر گاربٹ نے جوکہ ڈی سی اٹک تھے نے اپنے ڈسٹرکٹ گزٹیر میں کیا ہے اور گرفن نے چیف آف پنجاب، سردار شوکت حیات خان نے اپنی یاداشت اور نواےٗ وقت کے کالم نگار میاں محمد شفیع (م ش) نے بھی کیا ہے۔ میاں محمد شفیع نے نواے ٗوقت کے اپنے کالم صداےٗ دہقان بود میں لکھا تھا کہ دوتال نالہ کے کنارے پر جدید طرز کی تعمیر کردہ محل سرا جوکہ 1933ء میں لاکھوں روپوں سے تعمیر کی گیٗ تھی، فن تعمیر کا انوکھا نمونہ ہے۔ جس کے گردودیوار پر سردار کوٹ کی شخصیت سے وابستہ مخصوص قوس نمادایٗرے اور چھوٹے چھوٹے گنبد ہیں۔

اس کوٹھی سے کوٹ فتح خان گاوٗں تک درمیان میں دو پل آتے ہیں جوکہ سردار کوٹ نے خودتعمیر کرواےٗ تھے۔ یہ پل اینٹ کی صناعی کا منفرد نمونہ ہیں۔ وہاں سے سڑک سردار ممتاز مرحوم کے بنگلہ کوبھی آتی تھی۔ جو کہ سردار کوٹ کے داماد تھے۔ سردار ممتاز کا بنگلہ بھی انگریزی طرز تعمیر کا ایک نمونہ تھا۔ جسے 1904ء کے بعد انگریز ڈی سی اٹک بوسوالڈ سمتھ نے تعمیر کروایاتھا کیونکہ سردار کوٹ کے والد محترم سردار محمد علی خان کا 1903ء میں جب انتقال ہوا تو اس وقت سردار کوٹ کی عمر محض دوسال تھی۔ اور انکی ریاست کورٹ آف وارڈز کے انڈر آگیٗ تھی۔ اور ڈی سی اٹک سردار کوٹ کا گارڈین مقرر کیا گیا تھا۔اس عرصہ میں سردار کوٹ کا بچپن بوسوالڈ سمتھ اور انکی بیگم کے پاس گذرا۔ وہ کوٹ فتح خان انہیں اپنے ساتھ لاتے اور واپس لے جاتے۔

سردار کوٹ کے والد سردار محمد علی خان کو زہر دیا گیا تھا۔ اور وہ کھنڈہ کے ملک اعتبار خان (ملک اللہ یارخان مرحوم سابق وفاقی) کے کہنے پر انہی کے ساتھ حکیم مولوی نورالدین سے علاج کروانے گےٗ تھے۔حکیم صاحب نے انہیں دیکھتے ہوےٗ ہی کہا کہ اب تو یہ زندہ لاش ہیں۔ ہاں میں اتنی دواییٗ دے دیتا ہوں کہ کم از کم گھر تک پہنچ جایٗیں۔مگر سردار محمد علی خان کا انتقال واپسی پر ہی کوہاٹ روڈ پر گگن گاوٗں کے قریب انتقال ہوگیا۔اس وقت ان کی عمر 27 سال تھی۔

سردار ممتاز مرحوم کے بنگلہ کے ساتھ ہی مشہور ڈاک بنگلہ ہے جسے غالبا سردار کوٹ کے جد امجد خان بہادر سردار فتح خان نے تعمیر کروایا تھا۔ جن کا انتقال 1894ء میں ہوا تھا، سردار کوٹ کے خاندان کو عروج اسی شخصیت (سردارفتح خان) کے حوالے سے ملا۔انتقال کے وقت سردار فتح خان کی عمر سو سال سے کافی زیادہ تھی۔ ان کے والد راےٗ محمد خان جوکہ ایک مشہور گھیبہ حریت پسند تھے اور ان کی پنڈی گھیب کے جودھڑوں سے کبھی نہ بن سکی۔ انہی کے ہاتھوں پنڈی گھیب کے ملک غلام محمد مارے گےٗ تھے۔ 1825ء میں علاقہ سیل، کھنڈہ، کھوڑ، کمڑیال اور گھیب ملک غلام محمد اور راےٗ محمد خان کے درمیان تقسیم کردیا گیا تھا۔بعد ازاں راےٗ محمد خان پاگھ کے قلعہ میں بڈھا خان ملال کے ہاتھوں مارے گےٗ تھے۔
ان کے بعد خان بہادر سردار فتح خان کا دور شروع ہوا جنہوں نے ایک شاندار مسجد تعمیر کراواییٗ جوکہ مغلیہ اور مسلم فن تعمیر کا ایک منہ بولتاثبوت ہے۔جہاں دو صدی کے زیادہ عرصہ سے اللہ اکبر کی صداییٗں گونج رہی ہیں۔

مسجد کے ساتھ ملحقہ سردار کوٹ کے دادا جان غلام محمد خان کی کچہری اور مردانہ حصہ ہے۔جہاں کبھی سردار کوٹ بھی کچہری کیاکرتے تھے۔ اس کے سامنے ایک وسیع دالان ہے جس کے چاروں طرف کمرے ہیں۔یہ وہی تاریخی دالان ہے جہاں کبھی گورنر پنجاب وانس موڈی سردار کوٹ سے ملنے آیا تھا۔ لیکن انہوں نے حویلی سے باہر آنے انکار کردیا تھا اور کہلا بھیجا تھا کہ تم انگریزوں نے ہی ہمیں پہلے اپروچمنٹ کی عادت ڈالی ہے۔ میں اب اس عادت کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ کہتے ہیں کہ یہیں سے ایک دفعہ نواب آف کالا باغ امیر محمدخان بھی اسی حالت میں واپس ہوگےٗ تھے۔
انیس سو انچاسء میں سردار کو ٹ کو لیاقت علی خان نے ہنگامی طور پر کراچی طلب کیا تھا۔ وہ لاہور میں نواب عبدالرب نشتر کے پاس بیٹھے تھے کہ انہیں لیاقت علی خا ن کا پیغام دیا گیا کہ جس حالت میں بھی ہیں فورا کراچی آجایٗیں۔ اس سے پہلے انہیں کمشنر راولپنڈی اور ڈی سی اٹک کی معفت ان کے آباییٗ گاوٗں کوٹ فتح خان میں تلاش کیا گیا لیکن وہ دستیاب نہ ہوسکے تھے۔ وہ پیغام ملنے سے پہلے ہی لا ہور میں موجود تھے۔سردار کوٹ نے سردار عبدالرب نشتر سے لیت ولعل کیا کہ تیاری کے لیے اپنے آباییٗ گاوٗں کوٹ فتح خان جانا چاہتے ہیں۔ تاکہ مناسب تیاری کے ساتھ کراچی کے لیے روانہ ہوسکیں۔مگر سردار عبدالرب نشتر نے انہیں روکا اور بتایا کہ وزیراعظم لیاقت علی خان نے انہیں بغیر کی دیر کے کراچی رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس وقت تک قایٗد اعظم کا سانحہٗ ارتحال ہوچکا تھا۔ خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل تھے۔وزیراعظم اور گورنر جنرل نے انہیں خصوصی طور پر طلب فرمایا تھا۔اور وہ سر محمد نواز خان کی شخصیت سے واقف تھے۔جوکہ گذشتہ کیٗ سالوں سے قایٗداعظم کے ساتھ اسمبلی کے اندر بطور ایم ایل اے کام کرچکے تھے۔ وہ سیندھر سٹ کے دوسرے بیج کے فارغ التحصیل کیڈٹ تھے۔پہلے وہ ریگولر فورس میں تھے اور بھر ریزرو فوج کے حصہ میں آگےٗ تھے۔1927ء میں وہ انڈین لیج سلیٹو اسمبلی کے ممبر منتخب ہوےٗ تھے۔ وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ڈیفنس کمیشن کے رکن رہ چکے تھے۔ انہیں اس عرصہ میں ایمرجنسی کمیشن دینے کے بھی اختیارات حاصل تھے۔ غالبا یہی دور تھا جب ایٗرمارشل ریٹایٗرڈ نورخان کو انڈین ایٗرفورس میں کمیشن ملا تھا۔ وہ ٹمن کی ایک معزز شخصیت کیپٹن مہر خان کے صاحبزادے تھے۔شاید یہی بیک گراوٗنڈ تھا جس کی بناء پر لیاقت علی خان انہیں ڈیفنس کی منسٹری دینا چاہتے تھے۔ قایٗداعظم انہیں اپنی زندگی میں ہی مشرقی پاکستان میں اہم ذمہ داری سونپنا چاہتے تھے لیکن اس کا موقع ہی نہیں آیا اور وہ چل بسے۔بہرحال لیاقت علی خان نے ڈیفنس منسٹر ی تو اپنے پاس رکھی اور سردار کوٹ کو اپنا ڈپٹی ڈیفنس منسٹر بنادیا۔اس زمانے میں جنرل گریسی سی این سی تھے۔اور سوچا جا رہا تھا کہ کسی پاکستانی مسلمان کو کمانڈر مقرر کیا جاےٗ۔جنرل گریسی سے راےٗ لی گیٗ تو وہ جنرل نذیر احمد مرحوم کے حق میں تھے اور سردار کوٹ کی سفارش بھی انہی کے حق میں تھی۔مگر بوجوہ انہیں کمانڈر نہ بنایا جاسکا۔

بہرحال سردارکوٹ ایک سال کابینہ میں گذارنے کے بعد خاموشی سے رخصت ہوےٗ اور انہیں فورا فرانس میں پاکستان کا پہلا سفیر مقرر کردیا گیا۔مشہور سفارت کار ایس کے دہلوی ان کے فسٹ سیکرٹری تھے۔فرانس میں سفارت کے دوران بھی انہوں نے اپنی انفرادیت برقرار رکھی۔انہوں نے پیرس سے دور حسب روایت ایک گاوٗں میں غالبا ذاتی مکان لے لیا۔ فرانس میں بھی وہی کوٹ فتح خان والا ماحول تھا۔

اپنے نجی ملازم ساتھ لے گےٗ تھے۔ اور وہاں اپنی بچیوں کے ساتھ 1951ء تک مقیم رہے۔جہاں انہیں پہلا ہارٹ اٹیک ہوا۔ ان کی سفارت کاری چھوڑنے کی ایک یہ وجہ بھی تھی اور دوسری وجہ ان کی جنرل ڈیگال سے ذاتی دوستی تھی جوکہ ان دنوں معتوب ٹھہرے۔ اور حکومتیں ان دونوں کے تعلقات کو تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھتیں تھیں۔ مگر سردار کوٹ شہنشاہ روح تھے۔وہ جسے ٹھیک سمجھتے تھے اسے ہر حال میں ٹھیک ہیں سمجھتے تھے۔وہ سرکاری خزانہ سے ایک روپیہ بھی لینے کے بھی روادار نہ تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ 1951ء میں کراچی واپس آگےٗ تھے۔ مال روڈ لاہور جہاں ان کی ذاتی کوٹھی تھی وہاں کچھ دن گذارے۔ بعد میں راولپنڈی میں پشاور روڈ پر واقع ضیاء الحق کی کوٹھی کے سامنے ان کی مشہور رہایٗش گاہ میں زندگی کے بقیہ ایام گذارے ۔
انیس سو پچپن عیسوی کے بعد جب سردار کوٹ فرانس کی سفارت سے واپس آےٗ تو اس وقت کے صدر پاکستان سکندر مرزا جوکہ سیندھر ست میں ان کے سینٗر تھے، اور ان کی وزارت کے دوران سیکرٹری دفاع تھے، نے انہیں مغربی پاکستان کے گورنر بننے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کی مگر سردار کوٹ نے اپنی خرابیٗ صحت کے سبب اس عہدہ سے معذوری ظاہرکردی۔ اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان کے خالہ زاد نواب آف کالاباغ کو گورنر مقرر کیا جاےٗ۔ جوکہ اس عرصہ میں نہ ہوسکا لیکن بعد میں صدر ایوب خان کے دور میں نواب آف کالاباغ ملک امیر محمد خان کو مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا گیا۔

سردار کوٹ کی زندگی کے آخری تیرہ سال بیماری میں گذرے اور وہ ان آخری ایام میں اپنے والد سردار محمد علی خان کی تعمیر کردہ حویلی میں ہی مقیم رہے۔
مجھے 1968ء کی وہ تپتی دوپہر ابھی تک یاد ہے جب میں فتح جنگ کے بازار والی گلی میں کھڑا تھا اور مجھے کسی نے بتایا کہ سردار کوٹ اس دارفانی سے کوچ کرگےٗ ہیں۔نہ افسوسناک صدمہ صرف میرا ہی نہیں بلکہ اس پورے علاقے کا تھا۔ کیونکہ سردار کوٹ اس پورے علاقے کا سنگھار تھے۔ وہ غالبا اس علاقے کے پہلے اور آخری شخص تھے جوکہ سنیڈھرسٹ میں جاکے فوجی تربیت حاصل کرکے آےٗ۔اور پھر وہ 1927ء سے مسلسل الیکشن لڑتے اور جیتتے ہوےٗ آرہے تھے۔
ان کے والد گولڑہ شریف کے پکے مرید تھے۔ اور جب وہ انگلستان جانے لگے تو والدہ صاحبہ نے اصرار کیا کہ گولڑہ شریف ہوکر جایٗیں اور پیر صاحب کی بیعت بھی کریں۔لیکن بیعت کے بارے میں نہیں معلوم کہ انہوں نے کی یا نہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں