انتظامیہ کی نا اہلی بد ترین گورنس۔ شہریوں کو گھمبیر مسائل کا سامنا اور بلدیاتی نمائندوں کا امتحان

تحریر۔محمد طارق قادری

پنجاب میں حالیہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی انتظامیہ اپنے حقیقی فرائض کو جن کا تعلق براہ راست عوام سے ہوتا ہے کو چھوڑ چھاڑ کر عوام اور عوامی نمائندوں کو الیکشن کی خوبصورت بھول بھلیوں میں الجھائے رکھا،شہریوں کو درپیش مسائل کو نظر انداز کر کے سیاسی عمائدین کی خوشنودی کے حصول کیلئے سرگرداں ہو گئے –

گزشتہ تین چار مہینوں میں شہر کا بیڑ ہ غرق کر دیا گیا ۔ ٹریفک کے مسائل ہوں یا ناجائز تجاوزات،صفائی کا نظام ہو یا سیوریج کا،غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈوں کا مسئلہ ہو یا پانی کی فراہمی سٹریٹ لائٹس کی تنصیب ہو،مہنگائی کا رونا ہو یا ہوٹلوں کے گندے کچن،بیکریوں کے کارخانوں میں بد بو دار اشیاء سے تیار ہونے والی اشیاء ہوں یا ملاوٹ شدہ اشیاء خوردونوش مسائل کے انبار ہیں اور انتظامیہ لمبی تان کر سوئی ہوئی ہے

تجاوزات کی بھر مار ہو چکی ہے۔ شہر کا کوئی ایسا علاقہ نہیں جو تجاوزات سے پاک ہو کوہاٹ روڈ،پنڈی روڈ،کھوڑ روڈ،مرکزی چوک،تھانہ روڈ،تحصیل روڈ،سکول روڈ،گلی مسجد ملاں بخاری گلی پنجاب بنک،گرلز کالج جانے والی واحد سڑک مکی مسجد روڈسمیت شہر کا کوئی علاقہ نہیں جہاں تجاوز مافیا قابض نہ ہو،حتیٰ کہ معروف سڑکوں اور گلیوں میں نالیوں اور نالوں پر بھی پختہ تجاوز کر کے دکانیں ٹھئیے اور ریڑھیاں لگوا دی گئی ہیں این ایچ اے اور پنجاب ہائی وے کی ارد گرد بچی کھچی جگہوں پر بھی چھپر ہوٹل،فروٹ سبزی کی ریڑھیاں ٹھیلے اور کھوکھے قائم ہو چکے ہیں تمام مصروف سڑکوں کے تین چوتھائی حصوں پر یا تو دکانداروں نے قبضہ کیا ہوا ہے یا پھر ٹھئیے لگا کر عارضی دکانیں بنوا دی گئی ہیں۔

مرکزی چوک تو ریڑھی بازار کا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث شہر میں درجنوں غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈے قائم ہو چکے ہیں جہاں سے ہزاروں روپے روزانہ بھتہ وصول کیا جاتا ہے۔ یہ اڈے بین الصوبائی شاہراہوں پر قائم ہیں جن میں اٹک روڈ،پنڈی روڈ کھوڑ روڈ،کوہاٹ روڈ شامل ہیں ان شاہراہوں پر غیر قانونی پارکنگ اور ٹرانسپورٹ اڈوں کی وجہ سے ٹریفک جام رہنا معمول بن چکا ہے ۔

قرب و جوار کیلئے چلنے والی مسافر ویگنیں،سوزوکیاں کیری ڈبے اور لوڈڈ گاڑیوں کے علاوہ جگہ جگہ رکشوں کے غیر قانونی سٹینڈ ز نے شہریوں کیلئے مسلسل عذاب بن چکے ہیں ۔

ہفتہ صفائی منانے کا اعلان ہوا بلدیاتی نمائندوں کی مشاورت سے بڑے بلند بانگ دعوے کئے گئے لیکن نتیجہ صفر نکلا ۔ گندگی کے ڈھیر نالوں نالیوں کی صفائی اور گندگی اٹھانے کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔ محض چند بینر لگا دینے سے شہر صاف ستھرا نہیں ہو سکتا عملی اقدامات کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

چند ماہ قبل جب بلدیاتی الیکشن کا اعلان ہوتے ہی انتظامیہ عوامی مسائل سے منہ موڑ کر عوام کو الیکشن کی بھول بھلیوں میں لگا دیا شہرکے مسائل کو نظر انداز کر دیا گیا تجاوز مافیا کو جیسے کھلی چھٹی مل گئی ۔ شہر کا کوئی کونہ ایسا نہیں بچا جہاں تجاوزات مافیانے اپنے پنجے نہ گاڑ لئے ہوں ۔ اسی طرح ٹرانسپورٹروں نے بھی جی بھر کر من مانیاں شروع کر دیں۔ صفائی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ۔

الیکشن کے بخار نے پوری انتظامیہ کو مفلوج کر دیا یا پھر جان بوجھ کر عوامی مسائل سے نجات کا ایک ذریعہ سمجھ لیا گیا ۔ ہر کام الیکشن کی وجہ سے التواء میں پڑ گیا انتظامیہ کو تو جیسا کام نہ کرنے کا بہانہ مل گیا تاہم ان چار مہینوں میں شہر کا بیڑہ غرق ہو گیا ۔ سڑکیں سکڑ گئیں۔ گلیوں سے گزرنا محال ہو گیا گندگی کے ڈھیر لگ گئے ۔ تجاوزات مافیاکی سرگرمیاں عروج پرپہنچ گئیں۔ ٹرانسپورٹروں اور گاڑی مالکان نے سڑکوں کو پارکنگ ایریا بنا لیا۔ دکانداروں نے فٹ پاتھ اور سڑکوں کو دکانوں کا حصہ سمجھ کر عوام سے گزرنے کا حق بھی چھین لیا۔

الیکشن کے بعد چند روز قبل صفائی کیلئے بلایا جانے والا اجلاس بھی سابق تمام اجلاسوں اور میٹنگوں کا نتیجہ بھی بس زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہ نکلا

اگر یہ کہا جائے کہ گزشتہ چند ماہ بدترین گورنس کی بد ترین مثال ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ اخبارات میں آئے روز مسائل کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں لوگ انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کو مسائل بتا بتا کر عاجز آچکے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔

ٹی ایم اے کے افسران کے تبادلوں کے بعد ابھی تک متعدد سیٹیں خالی پڑی ہیں اور ٹی ایم اے کی باگ ڈور اب درجہ چہارم کے ملازمین کے ہاتھ میں ہے ۔ جن کے بس میں اگر ہوتو پورے شہر کو ریڑھی بازار بنا دیں یا پھر فلتھ ڈپو میں تبدیل کردیں ۔

ڈی سی او اٹک چوہدری حبیب اللہ نے جیسے کام نہ کرنے کی قسم اٹھارکھی ہے۔ شاید مارچ کے بعد اٹک کے عوام کی قسمت جاگ اٹھے۔ شہر کے عوام اب نو منتخب بلدیاتی نمائندوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکتھے ہوئے اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق فتح جنگ شہر کو ایک مثالی خوبصورت شہر بنانے شہریوں کو مذکورہ بالا مسائل سے چھٹکارا دلانے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے بالخصوص نوجوان قیادت کا یہ امتحان ہے کہ وہ شہریوں کی امیدوں پر کیسے پورے اترتے ہیں

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں