ایک مشفق استاد کا مشکبار تذکرہ (پرو فیسرغلام صدیق مرحوم)

سید مودودی اور ان کی تعلیمات سے ابتدائی تعارف کا سبب میرے مشفق استاد غلام صدیق مرحوم تھے۔غلام صدیق مرحوم جیسا شخص میں نے زندگی میں نہیں دیکھا۔ مجھے یہ احساس ہوتا تھا کہ ان کے وجود کے اندر خون گردش نہیں کررہا ہے بلکہ سیدمودودی کی تعلیمات گردش کر رہی ہیں۔ وہ سید کی تعلیمات کے ہم وقتی معلم تھے۔ ان سے سید صاحب کی مہک آتی تھی۔ وہ بوجوہ جماعت اسلامی کے ساتھ نہیں چل سکتے تھے۔ وہ ان کی مخصوص افتاد طبع تھی۔ دراصل ان کی شخصیت اور ذات میں سید صاحب کی تعلیمات کا جو معیار تھا،اس پرہر شخص کا پورااترنا بہت مشکل تھا۔ ذراسی غفلت اور کوتاہی ان کی برداشت سے باہر ہوجاتی تھی۔ ا ن کے اند ر ایک طوفان تھا۔ جو ان نا موافق حالات پہ با ہر نکلتااور بہت شدت سے بہتا۔
جب مجھے مرحوم استاد کی یاد آتی ہے تو ان کی شخصیت سے متعلق مجھے عبدالمجید سالک کے زندگی سے متعلق الفاظ یاد آجاتے ہیں وہ لکھتے ہیں میں بے حد ذکی الحس ہوں۔ کسی عزیز یا دوست سے خلاف توقع ناگوار رویے کا ظہور،کسی کا ذرا سا طعنہ،کوئی ذراسی پریشانی میرے توازن طبع کو گھنٹوں پلٹ رکھنے کیلئے کافی ہے۔ لیکن میں نے سا لہا سال کی خود ترتیبی اور بے حد دشواری سے صبر و تحمل کا وہ مقام حاصل کر لیا ہے کہ بعض میرے ظاہری سکون سے دھوکے میں آکر مجھے بے حس تصور کر لیتے ہیں۔اس تحمل نے مجھے ناگواری حالات سے محفوظ رکھا ہے۔اور میری زندگی کا سکون زیادہ تر اسی ضبط و تحمل کا شر مندہ احسان ہے)

وہ استاد سے زیادہ مشفق رہنماء تھے۔ بلکہ یہ لفظ بھی ان کی ذات کیلئے چھوٹا تھا۔میرا ان سے واسطہ 1967ء میں پڑھا۔ جب میں ہائی سکول نمبر 1 فتح جنگ میں داخل ہوا۔ اس وقت وہ پروفیسر نہیں بنے تھے۔ تب وہ سکول ماسٹر تھے۔ وہ ہمیں ریاضی پڑھاتے تھے۔میں جیومیٹری میں لائین لگانے میں کمزور تھا۔(جیرت کی بات ہے کہ وہ خامی ابھی تک ہے۔)اس پر انہوں نے بہت شدت سے پیٹا تھا۔ میری ہچکی بندھ گئی تھی۔ میرے دل میں ان کے خلاف بال آگیا۔ اسی عرصہ میں وہ بی ایڈ کرنے کیلئے لاہور چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد میری زندگی میں ایک خلاء ساپیداہوا۔ سال کے بعد وہ واپس آئے۔

وہ 1968ء کا دور تھا۔ایوب خان کا دور تھا۔ میرے بزم ادب کے استاد صاحب نے ایوب خان کے دس سالہ جشن پر تقریر لکھ کر دی۔ وہ میں نے اٹک جا کر ضلعی مقابلہ میں پڑھی۔ اتفاقا مجھے پہلا انعام مل گیا۔اگلے دن جب میں کلاس میں آیا تو محترم صدیق صاحب ناراض ناراض سے تھے۔ وہ ہمیں معاشرتی علوم پڑھاتے تھے ۔کلاس میں انہوں نے ایوب خان کے خلاف طویل لیکچر دیا۔ اس وقت مجھے یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ انہیں ایوب خان سے کیا دشمنی ہے۔ حالانکہ وہ اچھے بھلے آدمی ہیں۔

وقت گزرتا رہا۔ حتیٰ کہ1969ء میں ایوب خان کی حکومت دھڑام سے گر گئی۔ اس سارے عرصے میں چند اور دوست غیر محسوس طریقے سے ان کے قریب آتے گئے۔ حتیٰ کہ 1969ء میں چند طلباء پر مشتمل حلقہ نے درس قرآن قائم کردیا۔ جب درس قرآن کا سلسلہ چل نکلاتو

پتہ چلا کہ ان کی ایوب خان سے دشمنی کا اصل سبب کیا تھا۔1970 ء میں اس حلقہ درس قرآن نے اسلامی جمعیت طلبہ کی مقامی شاخ کی شکل اختیار کر لی۔ جہاں باقاعدگی سے تر بیتی نشستیں ہونے لگیں۔ اسی دور میں لیاقت بلوچ بطور طالب علم لیڈر سامنے آئے۔اس وقت سوشلزم اورا سلام کی کشمکش کی بحث بہت زوروں پر تھی۔ اس زمانے میں شہر کی مسجد کے خطیب بہت ہی بزرگ ہستی ملاں خیر محمد صاحب تھے۔ اس وقت بھی ان کے عمر 90 سال سے زیادہ تھی۔ انہوں نے شہر میں سوشلزم کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ مارکس اور لینن کی تعلیمات سے لیکر مزدور تک کے حالات پر ان کا جمعہ کا خطبہ معلومات اور دلائل سے لبریزہوتا۔ اور اس کے پیچھے پروفیسر غلام صدیق کا ہاتھ تھا۔

ضلع اٹک جاگیر داروں کا گڑھ تھا۔ جہاں ایک طرف کھٹڑ برادری تھی۔ جن کے سرخیل سر سکندر حیات تھے۔ جوکہ تقسیم ہند سے پہلے متحدہ پنجاب کے وزیراعظم تھے۔ان کے بیٹے سردار شوکت حیات تھے۔ وہ اس وقت 1970ء میں ہمارے حلقہ سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ یہیں سے کھنڈہ کے ملک اللہ یارخان بھی امیدوارتھے۔ جوکہ گورنر موسیٰ خان کی کابینہ میں مغربی پاکستان کے وزیر تھے۔ وہ ضلع کے بہت بڑے جاگیر دار تھے(اور اب بھی ہیں ماشاء اللہ)۔ فتح جنگ تحصیل میں ہی سردار کوٹ آف کوٹ فتح خان تھے۔ جن کا اصل نام محمد نواز خان جوکہ لیاقت علی خان کی کابینہ میں وزیر دفاع رہے،ان سب جاگیر داروں کی ضلع میں اجارہ داری تھی۔
اس اجارہ داری کی وجہ سے ہی ضلع کے مزارعین اور کاشت کاروں میں بے چینی تھی۔ اس بے چینی کو بھٹو کی صورت میں زبان مل گئی۔ مجھے بھٹو صاحب کا فتح جنگ کا 1970ء کا دورہ یاد ہے۔ بھٹونے چیخ چیخ کر جلسے میں تقریر کی ۔ یو ں محسوس ہوتاکہ ان بے زبان مزارعین کو زبان مل گئی ہے۔ یہ وہ دور تھا۔جب تین طاقتیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں۔ ایک طرف مولانا مودودی تھے دوسری طرف جاگیر دار طبقہ تھا۔ جس کے نمائندہ سردارشوکت حیات تھے۔جن کی شخصیت میں بڑی کشش تھی۔ تمام متمول اور با اثر لو گ ان کے گرد جمع ہوگئے تھے۔
تیسری طرف بھٹو صاحب کی سحر انگیز شخصیت کے گرد عوام کا ٹھا ٹھیں مارتا سمندر تھا۔دراصل میرے جیسے میلہ دیکھنے والے لوگ خانوں میں بٹ گئے تھے۔ فکر مودودی کے بھی پرستار تھے۔ مگر بھٹو کے عوامی سحر میں بھی گرفتار تھے۔ اور سردار شوکت حیات کی محفلوں میں بھی شریک ہوتے۔
یہ وہ دور تھاجب پروفیسر صاحب سے فاصلے پیدا ہونے شروع ہوگئے۔ ہم مفاد اور رشتہ داری کے سبب پارٹیاں بدلتے چلے گئے۔ مگر فکر مودودی سے تعلق رہا۔ پروفیسر صاحب سے دوری ہوئی۔ تفہیم القرآن آہستہ آہستہ خود ہی پڑھنا شروع کردیا۔ پروفیسر صاحب کے دل میں تعلق خاطر تھا۔ میں نے اپنی ذات کا ایک مسٗلہ ان کے حضور پیش کیا ۔تو انہوں نے مجھے ایک تفصیلی خط لکھا۔ جو کہ 1974ء میں لکھا گیا تھا۔52سال گزر گئے ہیں۔ وہ خط میرے پاس ایک قومی امانت کے طور پر پڑا ہے۔ میری صورت میں دراصل یہ ہر نوجوان کیلئے مشعل راہ ہے۔
اس مشعل راہ کو دوسرے نوجوانوں کی رہنماییٗ کیلئے آیٗندہ شائع کیا جاےٗ گا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں