تین قسم کے بچے

بڑا بچہ

ایک ہوتا ہے سب سے بڑا بچہ )جس کو ایلڈر کہتے ہیں (عام طور پر اس کی عادتوں میں آپ کو نظم وضبط زیادہ نظر آئے گا ،اس کی طبیعت میں احساس ذمہ داری زیادہ ہوتا ہے ۔

بعض اوقات یہ بچے آمر بھی بن جاتے ہیں لیکن عام طور پر یہ لوگ قانون کے مطابق رہنا اور رکھنا پسند کرتے ہیں ۔
فطری طور پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طبیعت ہی ایسی بنائی ہوتی ہے،لہٰذاجو بچہ بھی گھر میں سب سے بڑا ہو گا،آپ اس کو  توقع کریں کہ یہ بچہ غیر ذمہ دارنہیں ہو سکتا،ہمیشہ ذمہ دار ہو گا۔
مگر ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اس کے اندر پوزیشن مقام حاصل کرنے کی بھی طبیعت ہو گی ،وہ دوسروں پر رول بھی کرنا چاہتا ہو گا ،یہ چاہے گا کہ ہر معاملے میں میری بات مانی جائے۔
مجھے بڑابنا کر رکھا جائے ۔یہ چیز فطری طور پر اس بچے کے اندر ہوتی ہے ۔

منجھلا بچہ

ایک ہوتا ہے درمیان والا بچہ۔یہ بچہ جس سے کوئی بڑا ہے اور کوئی چھوٹایہ فطرتی طور پر جنگجو بچہ ہوتا ہے ۔
چونکہ اس کو اپنے تحفظ  کے لیے بڑے سے بھی لڑنا پڑتا ہے چھوٹے سے بھی ۔
ورنہ بڑے کو زیادہ اہمیت ملتی ہے یا چھوٹے کو مل جاتی ہے اور درمیان والے عام طور پرنظر انداز ہو جاتے ہیں ۔
چونکہ یہ بچے نظر انداز ہوتے ہیں،اس لیے طبعاًیہ بچے فائٹر قسم کے ہوتے ہیں ،مگر یہ مشکلات کو حل کرنے والے  بھی ہو تے ہیں چونکہ ان کی بقا کا مسئلہ ہوتا ہے
ان کے سامنے مسئلے آتے ہیں اور یہ ان کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیتنے کی کوشش کرتے ہیں ،تو ان میں مقابلے کی صلاحیت  دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے ۔

سب سے چھوٹا بچہ

اور ایک ہوتا ہے گھر کا سب سے چھوٹا بچہ جس کو  بھی کہتے ہیں ۔عام طور پر محبتیں بھی اسی کو زیادہ ملتی ہیں ۔
توجہات بھی اسی کو زیادہ ملتی ہیں ،یہ بچہ عام طور پرشو بوائے بچہ ہوتا ہے لیکن یہ سلیقہ  کا ماسٹر ہوتا ہے ،یہ اپنی حرکتوں سے دوسروں کی محبت کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے ۔
تو گویا اگر کسی کے پانچ بچے ہیں تو جو بڑا بچہ ہے وہ ہے  اس کی نفسیات کو اس طرح سے سمجھیں کہ اس کے اندر نظم و ضبط ہو گا ۔
اور درمیان کے جو تین بچے ہیں ،یہ بچے مڈل بے بیز  کہلائیں گے ،تینوں کی نفسیات ایک ہی جیسی ہوں گی ،ان کواپنے حصول کے لیے لڑنا پڑے گا ،مسائل کو حل کرنا پڑے گا ۔
ان کو جینے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے اس لیے ان بچوں میں عام طور پر محنت کی حس  زیادہ ہوتی ہے۔
ایک ہوتا ہے سب سے چھوٹا بچہ ،اس کو آپ یونہی سمجھ لیں کہ وہ چونکہ گھر کا محبوب ہوتا ہے ،چھوٹی بیٹی ہو یا چھوٹا بیٹا ہو ،محبتیں انہیں کو زیادہ ملتی ہیں
اور عام طور پر ہمارے گھروں کا دستور ہے کہ ماں باپ بھی اسی کے ساتھ رہتے ہیں ،وہ پھر اپنی پوزیشن کا ہمیشہ فائدہ اٹھاتا ہے ۔
اب یہ ضروری نہیں کہ جو باتیں کہی گئیں ہر بچہ ایسا ہی ہو لیکن جب آپ ایک ہزار بندوں کو دیکھیں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ عام طور پربچوں کا رویہ اس کے مطابق ہی ہوتا ہے ۔
سائنس دانوں نے لاکھوں بچوں کو اس بات پر پرکھااور انہوں نے نفسیات کے یہ اصول نکالے ، اس لیے بچوں کی یہ تین باتیں ہمیشہ ذہن میں رکھا کریں کہ بچے کا پیدائش کا نمبر کیا ہے ، اسی لحاظ سے ان کی کچھ باتوں کی توقع رکھنی چاہیے اور پھر اس کے مطابق اس کو ڈیل کرنا چاہیے ۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں