بلدیاتی انتخابات اور بنتے ٹوٹتے اتحاد

بلدیاتی الیکشن کا انعقاد اگرچہ التواء میں ہے تاہم سیاسی جماعتیں اور شخصیات دھڑوں گروپوں کو ساتھ ملانے سیاسی اتحاد بنانے سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور موزوں امیدواروں کے لئے تگ و دو میں مصروف ہیں۔

پی ٹی آئی کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر اور ممبر صوبائی اسمبلی سید اعجاز بخاری کی میجر طاہر صادق کی ملاقات کو اگر چہ بخاری صاحب نے ذاتی حیثیت سے ملاقات قرار دیا تاہم واقفان حال کے مطابق اٹک کی حد تک اتحاد طے پا گیا تھا۔

ادھر پی پی پی کے سردار سلیم حیدر خان،ریاض خان بالڑہ اور پی ٹی آئی کے راہنماؤں ملک سہیل کمڑیال،سردار محمد علی خان اور سابق تحصیل ناظم صبیح خان کے درمیان سردار شفقت حیات کی رہائش گاہ پر کھانے پر ملاقات میں حلقہ این اے59کی حد تک ایک دوسرے سے تعاون کرنے پر اتفاق ہوا تھا ۔

تاہم مقامی عہدیداروں یا کارکنوں کے تحفظات کی وجہ سے اتحاد فائنل ہونے سے قبل ہی ٹوٹ گیا۔

اعجازبخاری صاحب نے میجر طاہر صادق سے ملاقات کی بات تو تسلیم کر لی تاہم اتحاد کی خبر کی یکسر پرزور تردید کر دی ۔

اسی طرح ملک سہیل کمڑیال اور سردار محمد علی خان نے بھی پی پی پی سے گفت وشنید اور تعاون کی بات تسلیم کر لی لیکن اتحاد کو سرے سے ہی مسترد کردیا ۔

پی ٹی آئی قائدین نے میجر طاہر صادق اور پی پی پی سے اتحاد کو محض صحافیوں کی قیاس آرائیاں قرار دیا البتہ ضلعی کوآرڈینیٹر سید اعجاز بخاری نے راقم الحروف کے اس سوال کے جواب میں کہ بلدیاتی الیکشن کے لئے پی ٹی آئی کے کسی بھی جماعت سے اتحاد یا ن لیگ کے خلاف گرینڈ الائنس سے کیا ارادے ہیں انھوں نے کہا کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی تاہم آج کی تاریخ تک کسی سے اتحاد نہیں ہوا۔
کچھ عرصہ قبل جب بلدیاتی الیکشن کا اعلان کیا گیا اور کاغذات نامزدگی تک جمع کروائے گئے اس وقت مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے کچھ یونین کونسلوں جن مین قطبال،جنگل،اجووالہ،جھنگ،باہتر اور جبی شامل ہیں اتحاد کیا تھا اور اس اتحاد کے روح رواں آصف علی ملک ایڈووکیٹ،سردار سلیم حیدر خان اور ریاض خان بالڑہ تھے جنھوں نے میجر طاہر گروپ کے خلاف مضبوط امیدواروں پر مشتمل پینل تشکیل دئیے تھے تاہم موجودہ صورتحال میں ابھی تک کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی کہ آیا پرانے اتحاد کو برقرار رکھا جائے گا یا نہیں؟

پیپلزپارٹی کے سردار سلیم حیدر خان اور ریاض خان بالڑہ حلقہ این اے 59کی تمام یونین کونسلوں میں پیپلزپارٹی کے امیدوار نامزد کرنے میں مصروف ہیں ۔ حسن ابدال کی سات میں سے تین یونین کونسلوں کے لئے پیپلزپارٹی کے امیدوار نامزد کر دئیے ہیں جبکہ فتح جنگ کی تیرہ یونین کونسلوں کے امیدواروں کے لئے موزوں امیدوار وں کے چناؤکے لئے مشاورت جاری ہے ۔

ن لیگ کے تین واضع گروپ موجود ہیں صرف درخواستیں مانگی گئی ہیں یو نین کونسل قطبال کے علاوہ کسی بھی یونین کونسل کے لئے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا گیا یو سی قطبال کے لئے آصف علی ملک اور ایم پی اے نے دیرینہ کارکن اور تحصیل نائب صدر ملک ارشد اعوان کے نام پر اتفاق کیا ہے۔

پی ٹی آئی نے ابھی تک حلقے کی کسی ایک یونین کونسل میں بھی اپنے امیدواروں کی نامزدگی نہیں کی ایسا لگ رہا ہے کہ اپوزیشن اور حکمران جماعت تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے مصداق اس انتظار میں ہیں کہ الیکشن مزید لیٹ ہو جاتے ہیں یا ایک پھر اسی سال منعقد ہونگے۔ ضلعی سطح پر اگر چہ پی ٹی آئی،پی پی پی اور میجر گروپ کے درمیان اتحاد ممکن نہیں ہے تاہم مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی پی پی پی سے کچھ میں میجر گروپ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر سکتی ہیں جبکہ ن لیگ کچھ حلقوں میں پیپلز پارٹی سے اتحاد ہو سکتا ہے۔

الیکشن کے انعقاد تک بہت سے تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں پرانے اتحاد ٹو ٹ اور نئے بن سکتے ہیں اور اگر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے برداشت اور حکمت عملی سے حکمران جماعت کو شکست دینے کے یک نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کر کے گرینڈ الائنس بنانے میں کامیاب ہو گئے تو حکمران جماعت کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا اور اپوزیشن کا گرینڈ الائنس بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے تاہم ابھی تک تمام سیاسی جماعتیں ممکنہ اتحادوں میں بہتر حصہ وصولی کے لئے اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لئے ہوم ورک کر رہی ہیں ضلع کونسل کے لئے مضبوط امیدواروں کے چناؤ اور تلاش میں ہیں حکمران ن لیگ کو اگر چہ اقتدار کے باعث فوقیت حاصل ہے تاہم پارٹی کے اندرونی خلفشار مقامی راہنماؤں کے اختلافات کی وجہ سے ن لیگ منظم اور متحرک نہیں ہے قائدین کی طرح کارکن بھی گروپوں میں تقسیم ہیں اور ہر دھڑا دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے اندر خانے متحرک ہے تاہم یہ بات طے ہے کہ بلدیاتی الیکشن سیاسی قائدین کے لئے کسی امتحان سے کم نہیں ہو گا جس کے اٹک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونگے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں