دو باتیں

ظلم نہیں ہوگا

جو شخص کویٔ نیکی لے کر آۓ گا،اس کے لیے اس جیسی دس نیکیوں کیا ثواب ہے اور جو کویٔ بدی لے کر اۓ گا تو سے صرف اسی بدی کی سزادی جاۓ گی اور ان پر کویٔ ظلم نہیں ہوگا۔(سورۃالانعام:160)

الحدیث

سخت کلامی

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل٘ی اللہ علیہ وسل٘م نے ارشاد فرمایا

جس شخص میں سخت کلامی ہوتی ہے، وہ اسے عیب ناک کر دیتی ہے اور جس میں نرمی ہوتی ہے،وہ اسے زینت بخشتی ہے۔ (ترمزی)

دو باتیں

ہم ہر سال بہت دھوم دھام سے یوم آزادی مناتے ہیں۔۔۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ کیا ہم نے 14 اگست کے دن واقعی آزادی حاصل کی تھی؟ یا وہ نام کی آزادی تھی؟ 68 سال پہلے یہ ہمارا ملک بنا تھا ورنہ اس سے پہلے پاکستان اور ہندوستان ایک ہی ملک تھا۔ ہندو اور مسلمان ہندوستان میں اکھٹے رہتے تھے۔ پیار اور محبت سے بھی رہتے تھے ۔ لڑایٔ جھگڑے میں نوبت خون خرابے کی بھی آجاتی تھی۔ پھر لڑایٔ ختم ہو جاتی تھی اور وہ سب مل جل کر رہنے لگتے تھے۔ لیکن پھر ہندوستان میں انگریز کے قدم آگۓ۔ انگریز آیا تو تھا تجارت کے بہانے لییکن پھر پورے ہندوستان پر اس کا قبضہ ہو گیا۔

1800 میں اس کی آمد کی ابتدا ہویٔ تھی اور وہ گیا 1۹4۷ میں۔ اس وقت تک حالات مسلمانوں کو یہ سمجھا چکے تھے کہ اب ہندوں کے ساتھ ان کا رہنا ناممکن ہے،اب مسلمانوں کا ایک الگ وطن ہونا چاہۓ مسلمانوں اور ہندؤں نے مل کر انگریز کے خلاف تحریک شروع کی تھی اور آخر اسے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں لیکن ساتھ ہی مسلمانوں کے لیے الگ ملک کی تحریک بھی شروع ہویٔ اس تحریک کے نتیجے میں ہی پاکستان بنا۔

پاکستان ایسے ہی نہیں بن گیا تھا اس کے لیے ہمارے بزرگوں نے لاکھوں قربانیاں دی تھیں، مسلمان مردوں اور عورتوں نے اپنا خون بہایا تھا،اپنی عزتیں لٹوایٔں تھیں، اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا، تب کہیں جا کر ایک الگ ملک پاکستان ملا تھا۔

چاہۓ تو یہ تھا کہ ہم اس کی قدر کرتے لیکن ہم سب نے مل کر اسے اجاڑنا شروع کر دیا ،چاہیے تو یہ تھا کہ ہم اسے مثالی ملک بناتے لیکن ہم اسے مثالی ملک نہ بنا سکے، اس لیے کہ انگریز چلا تو گیا تھا مگر جانے سے پہلے فسادات کے اس قدر بیچ بو گیا تھا کہ ہم آج ان بیچوں سے پنپنے والی فصل کاٹ رہے ہیں۔ ہمارے چاروں طرف آگ خون کا کھیل جاری ھے۔ یہ کھیل اس کھیل سے کسی طرح بھی کم نہیں جو انگریز دور میں کھیلا گیا تھا ۔اس وقت تو یہ کہا جاتا تھا کہ یہ سارا کیا دھرا انگریز کا ہے اب ہمیں کیا کہنا چاہیے۔ اب ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ کس کا کیا دھرا ہے، کہیں سکون نہیں اطمینان نہیں ہر طرف بے اطمینانی ہے۔ آزاد ملک ایسے تو نہں ہوتے غلام ملکوں سے برا حال ہے ہمار، کراچی کے حالات ایک مدت سے خون کے آنسو رلا رہے ہیں۔ اس طرح بلوچستان کے حالات ہیں، پنجاب میں اب حالات پر سکون نہیں رہے۔ گویا پورا ملک بدامنی اور افراتفری کا شکار ہو رہا ہے۔ بہت بڑے بڑے لوگوں کی اربوں اور کھربوں کی لوٹ کھسوٹ کی کہانیاں اخبارات میں آ رہی ہیں۔ اور مزے کی بات یہ کہ ان بڑوں کویٔ بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

آخر کار ہم لے دے کے ملک کے لیے دعا ہی کر سکتے ہیں دعایٔں بھی مومن کا ہتھیار ہے ہیں اور مومن اس ہتھیار سے ہی کام لے سکتے ہیں چونکے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں نے ملک کا امن لوٹ ہی لیا ہے اس لیے اس کے مقابلے میں مومن ہتھار سے ہی کام لے سکتے ہیں۔ آپ اب یہ ہتھیار اٹھا لیں۔ اللہ اپنا رحم فرماۓ اور ہمارے ملک کی حفاظت فرماۓ۔ آمین۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں